مستقبل کے معماروں میں نقل کا بڑھتا ہوا رجحان - اَشفاق پرواز

ریاست جموں کشمیر میں مختلف جماعتوں کے امتحانات سال بھر ہوتے رہتے ہیں۔ قوم کے نونہال امتحانات کیا دے رہے ہیں، سچ پوچھیے تو جیسے قوم کا امتحان لے رہے ہیں۔ نقل کی وہ بھرمار ہے کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ زیادہ دُکھ کا پہلو یہ ہے کہ پورے شہر و دیہات ان کو نقل فراہم کرنے کے لیے یوں امڈے چلے آتے ہیں جیسے زلزلے یا طوفان میں کوئی نیکی کا کام کرنا ہو۔ یہ دیکھ کر تو آنکھیں جیسے پتھرا ہی گئیں کہ اور تو اور اساتذہ صاحبان اور طلبا کے عزیز و اقارب بھی اس نیک کام میں کسی سے پیچھے نہیں۔ سب بڑھ چڑھ کر اس کارِخیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ کیا یہ اقبالؒ کے شاہیں ہیں جوستاروں پر کمند ڈالیں گے؟ ان سے تو ایم اے اور بی ایڈ کرنے کے بعد ڈھنگ کی درخواست بھی نہیں لکھی جا سکتی۔ کیا یہ وہ نوجوان نسل ہے جو آگے چل کر ہماری قومی ذمہ داریاں سنبھالے گی؟ اگر ایسا ہے تو پھر معاشرے میں وہی انتشار پھیلے گاجس کا مظاہرہ ہم سال ہا سال سے دیکھتے آرہے ہیں۔

نقل مارتی یہ نوجوان نسل دراصل ہمارے معاشرے کے کھوکھلے پن، شرح خواندگی اور معیار تعلیم کامنہ چڑا رہی ہے۔ اس غیر اخلاقی فعل کے جائزے کے لیے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں جھانکنا ہوگا۔ مسلمان حکمران کے دور میں صوفیا اور علما نے غیر مسلموں کو اسلام کی عظیم تعلیمات سے روشناس کروا کرمسلمان کیا۔ غیر مسلم ان کی سادگی، سچائی اور انسان دوستی سے بھی متاثر ہوئے۔ مگر مسلمان جرنیل، سپاہی، وزرا اور حکمران اپنا کردار صحیح طور ادا نہیں کر سکے۔ وہ اپنے کرم چاری تک اپنے وطن سے لائے۔ انہوں نے اپنے عزیز و اقارب کو تو ترقی دی لیکن ہندوستان کی رعایا کے لیے کچھ نہ کیا۔ یہ مسلماں عام طور پر سبزی فروش، گوشت کے کاروبار، دھوبی، تیلی اور کمہار جیسے پیشوں سے وابسطہ تھے۔ تعلیم و تربیت کے فقدان کے باعث ان کی اخلاقی حالت بہتر نہیں تھی، نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستانی مسلمان ہر لحاظ سے پیچھے رہ گئے۔ آگے چل کر ان کی اولاد ہندوستان کے ان علاقوں میں آباد ہوئی جہاں آج پاکستان قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان چھیاسٹھ برس سے آزادی کی خوشیاں منانے کے باوجود اپنے اندر آزاد قوموں کی ایک بھی خاصیت پیدا نہیں کر سکے۔ ہمیں اپنی نوجواں نسل کو یہ پیغام دینا ہوگاکہ اصل عظمت محنت میں ہے، شارٹ کٹ میں نہیں۔ ہم آج جن عظیم قوموں کی عظمت و ترقی کو دیکھ کر احساس کمتری کے نیچے دبے جا رہے ہیں ان میں سے چند حوالے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   امتحانات اور مائیں - سعدیہ نعمان

کرسٹو فر کولمبس جس نے امریکہ دریافت کیا وہ ایک "جولاہے" کا بیٹا تھا۔ فرانس کا عظیم حکمران نپولین ابتدا میں ایک معمولی سپاہی تھا۔ امریکہ کے سابقہ صدر آئزن ہاور پہلے ایک اخبارفروش تھے۔ سقراط بچپن میں ایک سنگ تراش تھا۔ کوریا کی مثال لے لیجیے، کوریا جاپان کے ماتحت ایک غلام ملک تھا۔ اس ناطے کوریا کے باشندوں میں غلامی کی کچھ منفی عادتیں پیدا ہو گئیں۔ لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے جاپانیوں جیسی آزاد قوم کی کچھ مثبت باتیں بھی اپنا لیں اور آزادی ملنے کے بعد انہوں نے جاپانیوں کے طرز معاشرت کو اپنے ہاں رائج کر دیا۔ اسی صحیح قدم کی وجہ سے کوریا آج دنیا میں اہم مقام کا حامل اور ترقی یافتہ ملک ہے۔ ایک مرتبہ مجھے کوریا کی قومی ٹیلی ویژن چینل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ چینل پر "ماہِ سچ" نامی براہِ راست پروگرام ٹیلی کاسٹ کیا جارہا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد کوریا کے لوگوں کو سچ بولنے کی تلقین کرنا تھا اور انہیں یہ احساس دلانا تھا کہ وہ ہر حال میں سچ بولا کریں گے۔ وہاں آج بھی سال کا ایک مہینہ ماہِ سچ کے طور منایا جاتا ہے۔ سچ بولنا مسلمانوں کا وصف ہے، لیکن آج غیر مسلم اقوام اسے اپنے ہاں بڑے اہتمام سے رائج کر رہی ہیں۔ ہم مسلمان جھوٹ بولنا اپنی شان سمجھتے ہیں۔

اکثر دکانوں پر یہ اشتہار چسپاں نظر آتا ہے ''خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا"۔ یہ گویا دکاندار کا اعترافِ جرم ہے کہ اس کے ہاں خراب مال بھی دستیاب ہے۔ ہمیں محنت کو اپنا شیوہ بنانا ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں اوپر سے نیچے تک کاسہ گدائی لیے بھیک مانگنے کی عادت اسی لیے پیدا ہوئی کہ ہم محنت کی عظمت کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ جموں کشمیر کے کسی شہر کے کسی چوراہے پر ایک لمحے کے لیے رک جائیے گویا بھکاریوں کی ایک فوج ظفرِ موج آپ پر حملہ آور ہوجائے گی۔ ان بھکاریوں میں سے۹۰ فیصد پیشہ ور بھکاری ہوں گے جو نہ صرف ہٹے کٹے ہیں بلکہ کرائے پر بچے لے کر انہیں بے ہوشی کی دوائی پلا کر لوگوں میں ہمدردی کے جذبات جگا کر ان کا جذباتی استحصال کرتے ہیں۔ ہماری بھیگ مانگنے کی عادت اتنی پختہ ہے کہ اب ہمیں دلّی سے قسطوں میں بھیک ملتی ہے اور ہم اسے تحفہ سمجھ کر اپنے سر پر تاج کی مانند سجھاتے ہیں اور اسے اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ہم جعلی ریکارڈ بنا کر خود کو بہترین قوم ثابت کرنے کی خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ ایسی شعبدی بازی سے سیاسی مقاصد تو شاید حاصل ہو سکیں گے لیکن یہی وقت اور وسائل اگر ہم ریاست میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے، تعلیمی بجٹ بڑھانے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں صرف کریں تو آج نقل کا بازار ہمارے سامنے جو نظر آرہا ہے وہ نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امتحانات اور مائیں - سعدیہ نعمان

جس قوم کے نونہال نقل کے ذریعے میٹرک پاس کریں گے وہ پھر گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں کیا جوہر دکھائیں گے اور جب وہ قومی دھارے میں شامل ہوں گے تو کیا چاند چڑھائیں گے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہماری ریاست میں عطائی ڈاکٹروں نے گلی گلی میں ڈھیرے ڈال رکھے ہیں۔ ہمارے یہاں صابن سے دودھ تیار کیا جاتا ہے۔ مصالحوں میں ریت ڈال دی جاتی ہے۔ مردہ جانوروں کا گوشت فروخت ہورہا ہے۔ ہم تین تین سال کی بچیوں سے زیادتی کے مرکتب ہو رہے ہیں اور آج ہماری ریاست ان ریاستوں اور ممالک میں شمار کی جاتی ہے جہاں سب سے زیادہ فحش ویب سائٹس دیکھی جارہی ہیں۔

ریاستی حکومت اگر چہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے لیکن نقل کی اس وبا کا علاج ڈھونڈنے میں تادم تحریر یکسر ناکام رہی ہے اور یہ نقل کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔ محنت کرنے والے طالب علم کا حق مارا جاتا ہے۔ نقل کے ناسور کو ختم کیے بغیر نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ نقل معاشرتی ناسور ہے جو نئ نسل کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے جس کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے بھی کہ اس سے ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

ارباب اختیار اور متعلقہ اداروں اور ان کے ذمہ دار حضرات کی خدمت میں عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس مرض کو روکنے کی اپنی بساط بھر کوشش کریں ورنہ یہ صرف آخرت کا ہی نقصان نہیں بلکہ مادی دنیا میں معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی وغیرہ مختلف سطح پر ریاست جموں کشمیر کی کمزوری، کھوکھلے پن اور بدنامی کا باعث ہے۔ ساتھ میں ریاست کے محکمہ تعلیم سے التماس ہے کہ وہ امتحانات کے نظام میں ایسی تبدیلی لائيں کہ طلبہ نقل کے بجائے اپنی ذہانت اور علم کے مطابق پرچہ حل کر سکیں اور ایک روشن مستقبل کی شروعات کر سکیں۔

ہمیں اپنے آپ کو یکسر بدل دینا ہوگا اور محنت و ایمانداری کو اپنا شیوہ بنانا ہوگا۔ اسی میں ہماری ترقی کا راز مضمر ہے۔

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.