کامیابی کا راز - ام محمد عبداللہ

لمحاتِ صبح کیسے پرکیف ہوتے ہیں۔ نرم و ملائم سبزے پر ننگے پاؤں چلتے وہ عجیب سی خوشی سے سرشار تھی۔ گلاب کے پھولوں پر شبنم کے قطرے، موتیے کی مسحور کن خوشبو اور چڑیوں کی چہکار، مستی اور خوشی سے جھومتا ہوا دل، دنیا جہان کی نعمتیں، آسائشیں، محبتیں سب ہی کچھ تو اس کے قدموں میں اس گھاس کی مانند بچھا ہوا تھا۔ کامیابی ہی کامیابی، خوشیاں ہی خوشیاں، میں کامیاب ہوں، ناز و ادا سے دھیرے دھیرے پاؤں رکھتی سرشاری کی عجب کیفیت میں اس نے خود کلامی کی۔ "میں کامیاب ہوں" "تمہاری کامیابی کوئی کامیابی نہیں" ایک تنبیہ کرتی سرگوشی۔ اس نے چونک کر اپنے آس پاس دیکھا۔ یہ کون اسے خبردار کر رہا تھا؟

اور پھر یوں ہوا کہ شام اداسی کی چادر لیے سرسبز پتوں کو ڈھانپ رہی تھی۔ اس کی غمگین نگاہوں نے در و دیوار کو گھورا۔ رات ہونے کو ہے یا میرے مقدر کے اندھیرے کائنات میں پھیلنے کو بےتاب ہیں۔ حسرت و یاس کی تصویر بنی دونوں ہاتھوں میں سر تھامے آنکھوں سے آنسو بہاتی وہ کوئی مجسم غم تصویر تھی گویا اس کا دل فکر و غم میں جکڑا ہوا۔۔ ذہن ماضی کی مصیبتوں میں گرفتار، مستقبل کے اندیشوں سے لرز رہا تھا۔ بجز آہوں اور سسکیوں کے کیا تھا اس کے پاس؟ "میں ناکام ہو چکی ہوں" ۔۔۔ "بری طرح ناکام" ناکامی کی اذیت رگ و پے میں اتر رہی تھی کہ اچانک آس پاس اک سرگوشی ہوئی "نہیں۔۔۔ تمہاری ناکامی کوئی ناکامی نہیں۔۔۔ تم ناکام نہیں۔۔۔" یہ خوشخبری سناتی سرگوشی۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔

وہ سحر زدہ سی اس سرگوشی کی کھوج میں لگ گئی۔ یہ سرگوشی کہیں باہر سے نہیں اس کے دل کے نہاں خانوں سے اٹھی تھی۔ ہاں وہ دل جس کا حقیقی مالک تو وہی وحدہ لاشریک ہے۔ جس کے رب ہونے کا اقرار اس نے عہد الست میں کیا تھا۔ لیکن لیکن یہ عہد بھول کر وہ جانے انجانے میں کبھی مال و دولت کو اس کا شریک بنانے لگی تھی اور کبھی اپنے ہی جیسے انسانوں کو۔ اسی لیے تو کامیابی سراب تھی اور ناکامی عذاب۔۔۔ لیکن اب اس سراب و عذاب نے اسے تھکا دیا تھا، توڑ پھوڑ دیا تھا۔

لیکن فانی کامیابیوں سے ڈراتی اور مٹ جانے والی ناکامیوں سے حوصلہ دلاتی یہ سرگوشی ایک نئے سفر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور اس سفر کی شاہراہ اس کی اپنی ہی ذات تھی۔ اپنی ہی ذات کی بھول بھلیوں کا سفر۔۔۔ وہ کبھی کھو جاتی، کبھی کچھ پا لیتی، کبھی تھک ہار کر بیٹھ جاتی اور کبھی تازہ دم ہو کر دوڑنے لگتی۔ یہ اندر کا سفر تھا۔۔۔ بے چینی اور اضطراب سے معمور، آہ فغاں اور نالہ و فریاد سے بھرپور، اس میں وہ بے قرار ہو کر اپنے عہد الست کے رب کو کھوجنے لگی تھی۔ وہ تڑپ کر ہدایت یافتہ/انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہونے کی استدعا کرنے لگی تھی۔ وہ بھٹکنا نہیں چاہتی تھی، وہ چپکے سے اپنے رب کو بتاتی میں تو اماں ابا کی ڈانٹ سے، استانی جی کی چھڑی سے، شوہر کی جھڑکی سے گھبرا جانے والی ہوں۔ یا اللہ تعالی تیرے غصے کی متحمل کیسے ہو سکتی ہوں؟ نہیں نہیں۔۔۔ وہ رستہ نہیں جس پر تیرا غصہ برستا ہے۔ وہ کانپنے لرزنے لگتی اور بھی ٹوٹنے اور بھی بکھرنے لگتی۔ اقبال فرماتے ہیں

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

اٹھتے ہیں حجاب آخر کرتے ہیں خطاب آخر

ہدایت کا راستہ، کامیاب لوگوں کا راستہ، کامیابی کی منزل، ایک ہی لگن، ایک ہی سوال، ایک ہی اضطراب۔ اسے جواب ملنے لگا تھا۔۔۔ اسے سمجھ آنے لگا تھا۔

کامیابی چاہتی ہو آؤ کامیابی کے راستے پر۔ خوش نصیبی سی خوش نصیبی ہے۔ عہد الست کا رب، اس کا رب، اس کا اپنا رب قرآن پاک کے ذریعے اسے راہنمائی بخشنے لگا تھا۔

بچو ناکامی سے۔۔۔ آؤ! میں بچا لوں تمہیں، خوف، غم، نفرت، اور مایوسی کی تپش سے، جہنم کی آگ سے۔ آؤ! کامیابی کی جانب، خوشی، اطمینان، سکون اور جنت کی جانب، آؤ! ہدایت کے رستے پر، متقین کے رستے پر، متقتین؟ متقین کون؟؟ وہ کھوجنے لگی۔

وہ جن کا ذہن و دل ایمان لایا غیب پر، اللہ تعالی پر، اس کے رسولوں پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، تقدیر پر، زندگی بعد از موت پر، یوم آخر پر، وہ ایک ایک حرف دہرانے لگی۔ گویا آج نئے سرے سے ایمان لا رہی تھی اور جن کا عمل ان کے ایمان کا گواہ ہے۔

عمل؟ کیا عمل کرنا ہے مجھے؟ وہ پرسکون تو کبھی بھی نہ تھی مگر آج بے قراری سوا تھی۔

وہ جنھوں نے نماز قائم کی

وہ جو اپنے رزق میں سے دینے والے ہوئے

لیکن یہ غربت؟ میں دینے والی کیسے بن جاؤں؟ بس ایک مسکراہٹ، سلام کرنا، اچھی بات کہہ دینا، دعا دینا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا، کسی کے کام میں اس کی مدد کر دینا، اپنے ساتھ کسی کو کھانے میں شریک کر لینا، کتنا آسان ہے ناں دینا؟ مانگنا چھوڑ کر دینے والی بن جاؤ۔۔۔۔ دینے والی!

ہاں میں دینے والی بن جاؤں گی۔ دینا تو رب کی سنت ہے، انبیاء کی سنت ہے، متقین کی سنت ہے، کامیاب ہونے والوں کی سنت ہے، میں دینے والی بن جاؤں گی۔ وہ پرعزم تھی اور کامیابی تمہاری ہے، تم کامیاب ہو ہمیشہ کے لیے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔

وہ بے خود و سرشار تھی

کہ اس نے سن لیا تھا اور اطاعت قبول کر لی تھی

الھم انی اسالک الھدی والتقی والعفاف و الغنی

"اے اللہ! بےشک میں آپ سے ہدایت اور تقویٰ کا سوال کرتی ہوں۔ پاکدامنی اور غنا کا سوال کرتی ہوں۔"

ہدایت اور تقویٰ کا سوال

پاکدامنی اور غنا کا سوال

وہ سراپا سوال تھی، سراپا دعا و التجا!

بھٹکتے ذہن کی سوچیں نکتہ ہدایت پر مرکوز ہونے لگی تھیں۔ بے قرار و مضطرب دل پرسکون ہونے چلا تھا۔ وہ اس کامیابی کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھ چکی تھی جسے اندیشہ زوال نہیں۔ ان شاءاللہ