’’ہولوگرام یا ہولوگرافی‘‘ - محمد قاسم سرویا

ستّر سال پہلے والا انسان اگر آج ہماری دنیا میں اچانک آجائے تو سائنس کے جادوئی کارناموں کو دیکھ کر حیران بھی ہو جائے اور پریشان بھی. ہمارے دادا جی نے بیس سال پہلے ہمیں یہ بات بتائی تھی کہ جب کسی گاؤں میں پہلی بار ایک بندہ بائیسکل چلا کر لے جا رہا تھا تو اس وقت کے ایک بابے نے گھر جا کر بتایا کہ ''اج میں اک بلاں ویکھی جیہڑی ایک بندے نوں نسا کے لئی جاندی سی'' (آج میں نے ایک بلا دیکھی جو ایک بندے کو دوڑائے لیے جا رہی تھی)۔

اسی طرح کچھ عرصہ پہلے ہم سب سنا کرتے تھے کہ ایک ایسا فون آنے والا ہے جس میں بات کرنے والے کی تصویر بھی آیا کرے گی تو بڑی حیرانی ہوتی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ اور آج ہر گھر میں ویڈیو کالنگ ایسے ہو رہی جیسے کسی سے آمنے سامنے بات چیت ہو رہی ہو۔ سات سمندر پار بسنے والوں کو اب پردیس پرایا لگتا ہی نہیں ہے کیونکہ جب بھی ان کا دل کرتا ہے، وٹس ایپ یا ایمو کے ذریعے مفت ویڈیو کال کر کے اپنے چہیتوں کے چہروں پر پھیلی مسکانیں دیکھ کر ان کے دل ''گارڈن گارڈن '' ہو جاتے ہیں۔

سائنسی ایجادات کے حوالے سے ہر آنے والا دن جدید سے جدید تر ہوتا جا رہا ہے اورکمپیوٹر اور موبائل ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو مزید تیز، آسان اور مفید بنا دیا ہے۔ روزانہ ہمیں بہت سی ایسی حیران کن چیزوں کے بارے میں معلومات ملتی رہتی ہیں، جن کو ہم بالکل نہیں جانتے اور پھر تھوڑے ہی عرصے میں وہ ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور پھر ہمیں لگتا ہے کہ اس کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے۔

آپ سب نے اپنی سائنس کی کتاب میں پڑھا ہوگا کہ ہم چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جی ہاں! ہمیں چیزوں کو واضح اور صاف دیکھنے کے لیے روشنی کی ضرورت پڑتی ہے۔کسی بھی شے کو ہم اس وقت دیکھ پاتے ہیں جب روشنی اس چیز سے منعکس ہو کر ہماری آنکھوں تک آتی ہے، تو ہماری آنکھوں میں اس چیز کا عکس بنتا ہے اور ہمارے دماغ میں اس چیز کا نام پہلے سے موجود ہوتا ہے، اس لیے ہم فوراً اسے پہچان لیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے اگر روشنی نہیں ہوگی تو ہم اندھیرے میں کچھ نہیں دیکھ سکتے۔

ہولوگرافی کو سمجھنے کے لیے ہم اپنی روز مرہ زندگی سے ایک سادہ سی مثال لیتے ہیں۔ آپ نے اپنے موبائل سے اپنی آواز کو کئی بار ریکارڈ کیا ہوگا اور اسے باربار سنا بھی ہوگا۔ اصل میں وہ ہماری آواز کی لہریں (وائبریشنز) ہوتی ہیں جن کو ہم محفوظ کر کے رکھ لیتے ہیں اور جب چاہے سن سکتے ہیں۔آواز کی لہروں کو محفوظ کرنے کے بعد سائنس دانوں سے غور کرنا شروع کر دیا کہ اگر آواز کو محفوظ کر کے بار بار سنا جا سکتا ہے تو کیا روشنی کو بھی محفوظ کر کے اس سے کوئی فائدہ یا کام لیا جا سکتا ہے؟

اور آخر کار ٹیکنالوجی کے ماہر لوگوں نے روشنی کی وجہ سے بننے والے عکس (امیج) کو ریکارڈ (محفوظ ) کر لیا اوراسی کی بدولت آج کل ہولوگرام ٹیکنالوجی عام ہوتی نظر آرہی ہے اور مختلف ٹی وی چینلز ہزاروں میل دور بیٹھے کسی بھی شخص سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ہولوگرافی کے ذریعے مطلوبہ شخص کو سٹوڈیو میں بلایا جاتا ہے اور ایسے لگ رہا ہوتا جیسے وہ شخص بالکل اصلی حالت میں ہمارے سامنے بات کر رہا ہے۔ سائنس کی اس ایجاد نے آڈیو اور ویڈیو ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

ہولوگرافی ایک یونانی لفظ ہولوگراما سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے دور سے آیا ہوا پیغام۔ ہولوگرافی کا مظاہرہ ایک بند کمرے یا کیبن میں کیا جاتا ہے، تاکہ تمام تھری ڈی شعاعوں کو ایک نقطے پر مرتکز کرکے کسی بھی شبیہہ کو واضح پیش کیا جاسکے۔ ہولوگرافی آنے والے دور میں مزید ترقی کر کے سکائی گرافی اور سپیس گرافی کی شکل میں بھی دنیا کے سامنے پیش کی جائے گی اوراس ٹیکنالوجی کے مدد سے لوگوں کی حیرانی کے لیے آسمان پر عجیب و غریب مناظر دکھائے جائیں گے۔

تھری ڈی ٹیکنالوجی سے تو آپ سب اچھی طرح واقف ہوں گے، جس میں کسی امیج کو مختلف اطراف سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہولوگرام میں سیون ڈی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے اور یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے، جس میں روشنی بالخصوص لیزر شعاؤں کی مدد سے کسی منظر کو پروجیکٹ (ایک جگہ بند) کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں روشنی کی شعاعوں کو کسی پردے کی بجائے ماحول پر اکٹھا کیا جاتا ہے اوراس سے بننے والی تصاویر اور ویڈیوز اتنی حقیقی ہوتی ہیں کہ ان پر اصلی کا گمان ہوتا ہے۔کمپیوٹر کی زبان میں اسی کو ہولو گرافی کا نام دیا جاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو شروع کرنے کا سہرا ہنگری کے ڈینس گیبر کے سر جاتا ہے۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے گیبر نے 1946 ء سے 1951 ء تک اس ٹیکنالوجی کے بارے میں مختلف تجربات کیے اور اپنی تھیوریز کو اخبارات میں چھپوایا۔ شروع میں کسی نے اس پر خاص توجہ نہ دی، لیکن جب 1960 ء میں لیزر لائٹ ایجاد ہوگئی تو 1964 ء میں پہلی ہولوگرام ویڈیو منظر عام پر آئی۔بعد میں اسی ٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے کی وجہ سے 1971ء میں ڈینس گیبر کو فزکس کے شعبے میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔

ہولو گرام ٹیکنالوجی پہلے تھری ڈی فلموں میں استعمال ہوتی تھی۔ اس ٹیکنالوجی میں کسی آبجیکٹ یا چیز کو ایک شیشے کے سامنے رکھتے ہیں پھر آبجیکٹ پر لیزر شعاعوں کی مدد سے ایک بیم کی شکل میں روشنی ڈالی جاتی ہے، اس کے بعد آبجیکٹ سے جو بیم نکلتی ہے اسے تھری ڈی کیمرے میں ریکارڈ کر لیتے ہیں۔پھر اس ریکارڈ کو پروجیکٹر کے ذریعے جہاں چاہیں دیکھا اور دکھایا جا سکتا ہے۔ ہولوگرام جدید سائنسی ٹیکنالوجی سے تیار ہوتے ہیں، جو لیزر لائٹ کی شعاعوں اور لینسز کے ذریعے کام کرتے ہیں۔

آسٹریلوی سائنسدانوں نے ہولوگرام بنانے کی ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجادکرلی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ایک اسمارٹ فون (موبائل) کی مدد سے ہولوگرافک ویڈیو کال کی جا سکے گی۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کالر کا ہولو گرام (عکس)موبائل کی سکرین کے اوپر نمودار ہوگا، یعنی کال کرنے والے کی شبیہہ یا مکمل حرکت کرتی تصویر موبائل کی اسکرین کے علاوہ تھری ڈی بلکہ سیون ڈی حالت میں دیکھی جا سکے گی۔