پہلے سمجھیں پھر دھرنا دیں - حبیب الرحمٰن

کوئی اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں کہ سات آٹھ سال قبل کراچی ہی پاکستان کا وہ واحد شہر تھا جہاں لوگ اس بات سے واقف ہی نہیں تھے کہ لوڈ شیڈنگ کس چڑیا کا نام ہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ کراچی دورے سے واپسی پر کراچی ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بجلی آتی نہیں اور کراچی میں بجلی جاتی نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کے ٹھیک اگلے ماہ سے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا آغاز ہونے لگا جو اب بڑھتے بڑھتے کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل ہو گیا ہے۔ یہ تو وہ اوقات ہیں جو شیڈولڈ ہیں، اس کے علاوہ جو غیر اعلانیہ سلسلہ ہے اس کے متعلق کچھ بھی نہیں کہاجاسکتا۔ بعض اوقات وہ لوڈ شیڈنگ جو کسی شیڈول کے بغیر ہے، کئی کئی دنوں پر بھی مشتمل ہو جاتی ہے۔

اس سلسلے میں عوامی اور حکومتی سطح پر کی جانے والی ہر کوشش کے جواب میں لوڈ شیڈنگ کم ہونے کی بجائے اس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔گزشتہ برس اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ رمضان کی مہینے میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم کردیا جائے گا، غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو ختم کر دیا جائے گا اور سحری و افطار کے اوقات میں میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے گا کہ لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے تاکہ عوام ان اوقات میں سکون کے ساتھ اپنی سحری و افطاری کے علاوہ دیگر عبادات کو درست طریقے سے ادا کر سکیں لیکن اس کے برعکس شہر قائد میں طویل بریک ڈاون کے باعث رمضان المبارک کی پہلی سحری ہی میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی بجلی کے متعدد گرڈاسٹیشن متاثر ہونے کی وجہ سے آدھے سے زیادہ کراچی تاریکی میں ڈوبا رہا اور لوگوں کو سخت اذیت اٹھانا پڑی۔

بارش ہو یا گرمی، ہمارے فیڈرز اب اتنے نازک و ناکارہ ہو چکے ہیں کہ وہ بارش کا ایک قطرہ اور گرمی کی ہواؤں کا ایک گرم جھونکا بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ ٹرپ ہونے میں کسی بھی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیے بغیر فوراً ہی ٹرپ کرجاتے ہیں، بجلی غائب ہو جاتی ہے اور عوام کا دم گھٹنے لگتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بجلی کا سارا عملہ رات دن اپنے فرائض منصبی کی بجاآوری میں مصروف دکھائی دیتا ہے، گرمی ہو یا سردی، دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان باد و باراں، ہر گلی کوچے میں عملے کی گاڑیاں چلتی پھرتی، دوڑتی اور کام کرتی نظر آتی ہیں لیکن یہ سارا عملہ وہ ہے جس کو کارکن عملہ کہا جاسکتا ہے البتہ وہ بڑے بڑے عہدیداران جن کا کام پلانٹوں کو ان کی استعداد کار کے مطابق چلانا، ان کی دیکھ بھال کا خیال رکھنا، ان کی وسعت کار کو بڑھانا شامل ہے یا تو وہ کسی قسم کی غیراختیاری و بے بسی کا شکار ہے یاپھر اس میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ ترسیل کے نظام کو ٹھیک کرکے، استعداد کار کو بڑھاکر اور بجلی کی تقسیم کو منصفانہ بناکر لوگوں کی مشکلات میں کمی لا سکے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بجلی کی چوری اب ایک ایسی عام بات ہو گئی ہے جو کسی بھی قسم کے جرم میں شمار ہی نہیں ہوتی بلکہ اس نے ایک فن کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ عالم یہ ہے کہ خود وزیر مملکت برائے پانی و بجلی ہر اس جگہ کے احتجاجیوں کو جہاں بجلی کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگ توڑ پھوڑ پر اتر آتے ہیں، وہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو "چوری" کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی نہ تو شرم محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی اس کو حکومتی نااہلی سمجھتے ہیں۔ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بجلی کا وفاقی وزیر ایک جانب اپنی تقریروں میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ فلاں فلاں علاقے میں بجلی کا نہ ہونا وہاں بجلی چوروں کا ہونا ہے، کتنے شرم کی بات ہے۔ یہ خبر تو دنیا کے ہر ملک میں جاتی ہے، کیا دنیا یہ نہیں سوچتی ہوگی کہ چوروں کے خلاف کارروائی کرنا، ان کو پکڑنا، ان کو قانون کے مطابق سزائیں دینا اور ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائیاں کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ سب کچھ حکومتی ذمہ داری نہیں؟ کیا ایک وفاقی حکومت کے وزیر کا اتنا کہہ دینا کہ یہ سب چوری کا شاخسانہ ہے، کافی ہے؟

ایک جیب کترا پکڑا جائے تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، بھتہ خور اپنی سزا کو پہنچتا ہے، اچکا جان سے جاتا ہے لیکن ہزاروں میگاواٹ چوری کرے ملک کی قسمت کو داؤپر لگانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں آتی؟ ہے نا حیرت اور افسوس کی بات۔

اب بجلی کی چوری کی بات کوئی ایسی بھی نہیں رہ گئی جس کا کسی کو کوئی علم ہی نہ ہو۔ ایک نوزائدہ بچے کو بھی معلوم ہوجاتا ہے اس کی پڑوس میں کون کون میٹر سے بجلی حاصل کر رہا ہے اور کون کون بلا خوف خطر کنڈا استعمال کرکے اپنے گھر کو بقعہ نور بنائے ہوئے ہے۔ وہی محکمے والے جو بجلی سپلائی کر رہے ہیں وہ خود اگر ان کو محض چند سکوں کی خاطر تحفظ فراہم کر رہے ہوں، بجلی چور فردقانون کی گرفت میں آجائے تو مقتدر حلقے ان سے لین دین کرنے میں مصروف ہوجائیں تو پھر ان سب باتوں کاسد باب کون کریگا؟

کسی کے گھر کے قریب سے دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں اور وہ اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ چرائے، کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے؟ کسی کے نوٹوں کا گٹّھر پھٹ جائے اور نوٹ ہوا کے دوش پر ہر سو بکھر جائیں اور کوئی ان پر جھپٹ نہ پڑے؟ کیا یہ ممکن ہے؟ مجھے بتایا جائے کہ اگر بجلی کے سارے تار برہنہ ہوں اور وہ میری تیری چھت سے ہاتھ دو ہاتھ کی دوری پر ہوں اور ان میں کنڈا نہ پڑے؟ ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ پھر اس پر ستم بالائے ستم یہ ہو کہ آنے والا عملہ مجھ سے ماہانہ طے کرکے میری اس چوری سے صرف نظر کرلے تو میں بہت ہی پاگل اور بیوقوف ہوں گا اگر اس قسم کی حوصلہ افزائی سے فیضیاب ہونے سے انکار کر دوں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک طویل عرصے سے ہمارے صاحب اقتدار افراد بجلی کی توسیع کے لیے کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی کے لیے تیار ہی نہیں اور اگر تھوڑا بہت پاور سسٹم میں ڈالنے میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں تو وہ اضافہ ہو جانے والی ضرورت سے بہت کم ہے جس کی وجہ سے وہ اضافہ بھی اپنی افادیت کو کھودیتا ہے۔ کسی منصوبہ ساز کی نظر اس بات پر جا ہی نہیں رہی ہے کہ پاکستان میں ہر روز کی بنیاد پر بجلی کی ضرورت بڑھ رہی ہے، عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، دفاتر بن رہے ہیں، پارک اور شاہراہیں بن رہی ہیں، نئے نئے شہر اور بستیاں آباد ہو رہی ہیں، انسانوں میں اضافہ ہو رہا ہے المختصر یہ کہ روازنہ کی بنیاد پر ہزاروں میگا واٹ کی ضرورت بڑھ رہی ہے جبکہ سسٹم میں جو بھی اضادہ ہو رہاہے وہ سیکڑوں میگا واٹ کے حساب سے ہو رہا ہے وہ بھی کئی کئی سال بعد۔

بجلی اگر چوری ہو رہی ہے، تار اگر برہنہ میرے گھر کی کھڑکی کے سامنے سے گزررہے ہیں، اگر سسٹم میں پاور کا اضافہ نہیں ہو رہا ہے، اگر ڈیم تعمیر کرکے پانی کے ذریعے بجلی کی توسیع کا نہیں سوچا جارہا، اگر سورج کی روشنی کو مقید کرنے اور اس سے بجلی حاصل کرنے کے متعلق کسی بھی سطح پر کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے، اگر ہزاروں میل طویل ساحلی پٹی پر موجود ہوا کے دباؤ کو اپنے قابو میں نہیں لایا جارہاتو پھر عوام کو بتایا جائے کہ اس میں قصور کس کا ہے؟ کیا یہ سارے کام عوام کے کرنے کے ہیں؟ کیا عوام از خود یہ سارے امور انجام دے سکتے ہیں؟

اگر کوئی حکومت یہ کہتی ہے کہ فلاں محکمہ اپنے فرائض درست طریقے سے انجام نہیں دے رہا تو کیا اتنا کہنا کافی ہوگا؟ اگر حکومت کے وفاقی وزیر یہ کہتے ہیں کہ بجلی چوری ہو رہی ہے تو اس چوری کو جن بھوت روکیں گے؟ اگر سورج کی روشنی سے بجلی حاصل نہیں کی جارہی ہے تو کیا لوگ کئی کئی ہزار میگا واٹ کے پاور پلاٹ خود لگائیں گے؟ کیا ہوا سے بجلی حاصل کرنے کے پلانٹ عوام لگائیں گے؟ جو حکمران عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں کرسکتے کیا انھیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اقتدار پر ایک دن بھی گزاریں؟

بات صرف اتنی سی ہے کہ چور چھوٹا ہو یا بڑا، کمزور ہو یا طاقتور، بے بس ہو یا با اختیار، کسی کو بھی اس ملک میں سزا کی بھٹی میں سے نہیں گزرنا پڑرہا اور خصوصاً کسی بھی وہیل مچھلی اور مگر مچھ کو نہ تو پکڑا جا رہا ہے اور نہ ہی پکڑا جانا ممکن نظر آرہا ہے اس لیے کہ یہی وہ طبقہ ہے جس پر یہاں کا قانون نہیں چلتا۔ ارسطو نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ قانون مکڑی کے جالے کی مانند ہوتا ہے جس میں صرف چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے ہی پھنستے ہیں، بڑے بڑے پرند اسے توڑ کر نکل جاتے ہیں۔

کئی پہلو ایسے ہیں جس پر جو بات بھی کی اور سوچی جاتی ہے وہ یک طرفہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ کراچی میں بجلی جاتی ہی نہیں تھی اور پنجاب میں آتی ہی نہیں تھی، یہ بات فرمائی تھی شہباز شریف نے جب ایسا ہی تھا تو اچانک کراچی کی بجلی روٹھ کیسے گئی اور پنجاب میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کیونکر کم ہو گیا؟ کیا یہ بات قابل غور نہیں تھی؟ اگر غور طلب تھی تو اس پر مباحثے کیوں نہ ہوئے؟

کراچی میں بجلی کی کمی کا سارا الزام عموماً کے الیکٹرک پرآتا ہے اور آنا بھی چاہیے اس لیے کہ یہی ادارہ کراچی بھر میں بجلی سپلائی کرنے کا ذمہ دار ہے لیکن اس کو درپیش مسائل کوبھی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کیا کے الیکٹرک کی پیداوار کا انحصار پانی پر یا ہوا پر یا سورج کی روشنی پر ہے؟ اگر ہے تو پھر تو وہ واحد قصوروار ہے لیکن اگر کسی اور ایندھن پر ہے تو پھر یہ بات بے حد ضروری ہے کہ اس کو سمجھا جائے۔ کراچی کی بجلی قدرتی گیس کی مسلسل اور وافر مقدار میں فراہمی پر موقوف ہے۔ گیس کی مسلسل اور ضرورت کے مطابق فراہمی کی ذمہ دار ایس ایس جی ایس ہے۔ مسائل دوطرفہ ہیں۔ ایس ایس جی ایس کو شکایت ہے کہ کے الیکٹرک اس کے بلوں کی ادائیگی نہیں کرتی اور کے الیکٹرک کو عدم فراہمی گیس کا گلہ ہے۔ دونوں کی شکایات کا ازالہ جب تک نہیں کیا جائے گا اور ایک دوسرے کے مسائل سلجھائے نہیں جائیں گے تو اس چکی کے دوپاٹوں کے درمیان عوام پس کر رہ جائیں گے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک ادارے پر تمام الزامات لگا کر اس کے خلاف میدان میں اترنے سے کہیں بہتر ہے کہ خرابی جس جگہ ہو وہاں سے دور کی جائے اور نہ صرف دور کی جائے بلکہ خرابی پیدا کرنے والے خواہ محکمے ہوں، حکومت ہو یا صارفین، ان کو قانون کے شکنجوں میں اس سختی سے بھینچا جائے کہ دل و دماغ کی ساری کرپشن ان کی ناک اور منھ کے راستے بہہ کر باہر آجائے۔