عنوان: دورۂ آئرلینڈ و انگلینڈ اور قومی ٹیم کی حکمت عملی - راشد عباس

قومی کرکٹ ٹیم مئی اور جون میں آئرلینڈ کے خلاف ایک اور انگلینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں شرکت کرے گی۔ اس دورہ کی خاص بات یہ ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ٹیسٹ سٹیٹس ملنے کے بعد آئرلینڈ کی تاریخ کا یہ پہلا ٹیسٹ میچ ہوگا۔ دوسری جانب مصباح الحق کی قیادت میں گزشتہ دورۂ انگلینڈ کی یادیں ابھی بھی شائقین کرکٹ کے دلوں میں تازہ ہیں جب چار ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز دو۔دو سے برابر رہی تھی۔ کرکٹ کے مبصرین و ناقدین نے اس سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے جاندار مقابلوں کو بہت سراہا تھا بلکہ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے تو اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کے دوروں کے زیادہ سے زیادہ مواقع دینے چاہیئیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تین سالوں میں دوسری بار قومی ٹیم دورۂ انگلینڈ پر جا رہی ہے۔ اگرچہ اس بار پاکستانی سائیڈ نہ صرف مصباح الحق اور یونس خان جیسے عظیم کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہے بلکہ لیگ سپنر یاسر شاہ بھی فٹنس مسائل کی وجہ سے سکواڈ کا حصہ نہیں مگر پھر بھی توقع یہی ہے کہ سرفراز احمد کی کپتانی میں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم انگلینڈ کوٹف ٹائم دے گی اور شائقین کرکٹ ایک اور جاندار سیریز سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

گزشتہ دنوں دورۂ آئرلینڈ و انگلینڈ کے لیے سولہ رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا۔ اس بار ٹیم کپتان و وکٹ کیپر سرفراز احمد، نو بیٹسمینوں اظہر علی، اسد شفیق، حارث سہیل،فخر زمان، سمیع اسلم، امام الحق، بابر اعظم، عثمان صلاح الدین اور سعد علی، پانچ فاسٹ باؤلرز محمد عامر، حسن علی، محمد عباس، راحت علی اور فہیم اشرف جبکہ واحد لیگ سپنر شاداب خان پر مشتمل ہے۔ فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کو ڈراپ جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں پچپن سے زیادہ اوسط کے ساتھ رنز بنانے والے بیٹسمین فواد عالم کو ایک بار پھر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

انضمام الحق کی قیادت میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی اگرچہ گزشتہ کمیٹیوں کی نسبت بہتر انداز میں کام کر رہی ہے مگر فواد عالم کو ٹیم میں شامل نہ کرنا جبکہ چئیرمین کمیٹی کے بھتیجے امام الحق کی چوتھے اوپنر کے طور پر شمولیت ایک بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے، جس کا جواب انضمام الحق نے پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر دیا کہ کیونکہ آئندہ سال ورلڈکپ انگلینڈ میں منعقد ہو رہا ہے اس لیے ہم نے وہاں کی کنڈیشنز سے ہم آہنگی کے لیے زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کی کوشش کی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امام الحق، سمیع اسلم، عثمان صلاح الدین بھی باصلاحیت بیٹسمین ہیں مگر تین میچوں کی سیریز کے لیے چار اوپنرز سلیکٹ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اور سمیع یا امام میں سے ایک کو ڈراپ کرکے بآسانی فواد کو ٹیم میں شامل کیا جا سکتا تھا مگر پھر وہی بات "سہاگن وہی جو پیا من بھائے"۔ دوسری جانب ٹیسٹ کرکٹ میں وہاب ریاض کی کارکردگی بھی تسلی بخش رہی ہے اور انھیں ڈراپ کرنے کی بھی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آئی۔

ماضی میں قومی ٹیم نے جب بھی بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا ناقص سلیکشن کا اس میں مرکزی کردار رہا ہے۔ چاہے قصور قومی سلیکشن کمیٹی کا ہو یا ٹور سلیکشن کمیٹی صحیح کمبی نیشن بنانے میں ناکام رہے۔ دور کیوں جائیں؟ سری لنکا کے خلاف گزشتہ ٹیسٹ سیریز میں بھی عرب امارات کی کنڈیشبز میں صرف ایک سپنر کھلانے کے فیصلے نے قومی ٹیم کی شکست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس مرتبہ ٹیم کو یاسر شاہ کی عدم موجودگی میں شاداب خان کی صورت میں ایک ہی سپنر دستیاب ہے۔ یاسر شاہ گزشتہ کچھ عرصہ سے جس طرح ٹیسٹ میچوں میں باؤلنگ اٹیک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ان کی کمی تو ضرور محسوس ہوگی لیکن مئی، جون میں آئر لینڈ اور انگلینڈ میں موسم چونکہ کافی سرد ہوگا اور وہاں کنڈیشنز سوئنگ باؤلرز کے لیے آئیڈیل ہوں گی، اس لیے شاید یاسر شاہ کی عدم دستیابی اتنا مسئلہ نہ بنے۔

فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر فہیم اشرف کی سلیکشن نے خاصی دلچسپ صورت حال پیدا کر دی ہے اگر کپتان اور کوچ تھوڑی سی جرات کا مظاہرہ کرکے چھ کی بجائے پانچ بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اتریں اور شاداب اور فہیم کو بطور آل راؤنڈرز کھلائیں تو ایک آئیڈیل کمبی نیشن بن سکتا ہے۔ مگر زیادہ امکان یہی ہے کہ مینیجمنٹ جارحانہ کی بجائے وہی تین فاسٹ باؤلرز ایک سپنر والی گھسی پٹی حکمت عملی کو ہی ترجیح دے گی۔ حسین طلعت اگرچہ ٹیم میں جگہ نہیں پا سکے مگر وہ اور فہیم دونوں مستقبل میں ٹیسٹ ٹیم میں آل راؤنڈر کا خلا پر کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ کپتان اور کوچ اپنے دفاعی خول سے باہر نکلیں۔ اب پاکستان کے لیے پانچ باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترنا اس لیے بھی آسان ہو گیا ہے کہ اسے شاداب خان، محمد نواز اور عماد وسیم کی صورت میں اچھے سپن باؤلنگ آل راؤنڈر بھی دستیاب ہیں۔ میرے خیال میں دورۂ آئرلینڈ و انگلینڈ کے دوران پانچ بیٹسمین اور پانچ باؤلز کے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے۔ ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے بیس وکٹیں لینا ضروری ہوتا ہے جو یاسر شاہ کی عدم موجودگی میں صرف چار باؤلرز کے ساتھ حاصل کرنا شاید اتنا آسان نہ ہو۔

بلے بازوں میں اظہر علی کے ساتھ دوسرے اوپنر کا فیصلہ بھی خاصا دلچسپ ہوگا۔ لگ تو یہی رہا ہے کہ فخر زمان کھیلیں گے۔ مڈل آرڈر بالترتیب بابر اعظم، حارث سہیل، اسد شفیق پر مشتمل ہوگا۔ جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ اترے تو نمبر چھ پر سرفراز، سات پر شاداب اور آٹھویں پوزیشن پر فہیم کھیل سکتے ہیں جبکہ دوسری صورت میں چھٹی پوزیشن پر عثمان صلاح الدین، پھر سرفراز اور شاداب کے ساتھ تین فاسٹ باؤلرز کھلائے جائیں گے۔ امکان یہی ہے کہ روٹیشن پالیسی کے تحت تمام فاسٹ باؤلرز کو ان سیریز میں باری باری میدان میں اتارا جائے گا۔ کپتان سرفراز احمد کی کاردگی بھی ٹیم کے لیے کافی اہم ہوگی۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے وہ بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں شعبوں میں کوئی نمایاں پرفارمنس نہیں دے سکے۔ ان سیریز میں مایوس کن کارکردگی ان کی کپتانی پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ سکتی ہے۔