الدنيا مزرعة الآخرة کی حقیقت - ڈاکٹر ابو محمود

چند دن قبل کسی دوست نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو شیئر کی جس میں ایک صاحب پنجاب کریکیولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کی جانب سے شائع کردہ پانچویں کلاس کی اسلامیات-اردو کی کتاب کے دو ایڈیشنز میں فرق کی جانب توجہ دلا رہے ہیں۔ وڈیو کے مطابق اس کتاب کے 2017-18 ایڈیشن میں "الدنيا مزرعة الآخرة" کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث کہا گیا ہے جبکہ اسی کتاب کے جدید ایڈیشن 2018-19 میں اسے ایک مشہور قول کہا گیا ہے جس پر ان صاحب نے اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ تبدیلی کیوں کی گئی ہے؟ آیا اب یہ حدیث نہیں رہی؟ درج ذیل میں اس کے متعلق کچھ حقائق پیش کیے جاتے ہیں:

یوں تو یہ قول متقدم و متأخر مفسرین و علماء کے ہاں مختلف آیات و احادیث کی تشریح کے ذیل میں پایا جاتا ہے لیکن غالباً امام غزالی (متوفی 505 ھ) وہ پہلے عالم تھے جنہوں نے اس قول کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کیا۔ امام غزالی نے احیاء علوم الدین میں گناہوں کی اقسام کے باب میں اس کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کیا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ ان کی کتاب میں یہ قول حدیث کے طور پر مذکور ہے اس لیے کہ مرور زمانہ سے بزرگوں کی تالیفات میں تحریف بھی ہوتی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ یہ قول احیاء میں پانچ جگہ منقول ہے جبکہ صرف ایک جگہ اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کیا گیا ہے۔ اسی لیے امام سبکی (متوفی 771ھ) نے طبقات شافعیہ کبری میں ایک باب باندھا ہے جس میں انہوں نے امام غزالی کی احیاء علوم الدین میں مذکور ایسی احادیث کا ذکر کیا ہے جن کی اصل نہیں ہے، ان میں یہ حدیث بھی ہے۔ جبکہ امام زین الدین عراقی (متوفی 806ھ) جنہوں نے احیاء میں مذکور احادیث کی تخریج کی ہےاور انہیں "المغني عن حمل الأسفار" نامی کتاب میں جمع کیا ہے، اس کو غیر مرفوع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عقیلی نے اسے ضعیف روایتوں میں ذکر کیا ہے۔ امام رضی الدین الصغانی (متوفی 650 ھ) نے "الموضوعات" میں اسے موضوع احادیث میں ذکر کیا ہے۔ امام سخاوی (متوفی 902 ھ) نے "المقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة" میں ایسی احادیث کو جمع کیا ہے جو زبان زد عام ہوگئیں اور ساتھ ہی ان کا درجہ بھی ذکر کردیا۔ اس قول کے لیے وہ لکھتے ہیں: "میں ایسی کسی حدیث سے واقف نہیں ہوں باوجود اس کے کہ امام غزالی نے اس کو احیاء میں نقل کیا ہے"۔ ملا علی قاری (متوفی 1014 ھ) نے مرقاۃ شرح مشکاۃ باب البر والصلۃ میں لکھا ہے: "کما روى أن الدنيا مزرعة الآخرة" اور کتاب الرقاق میں کچھ یوں لکھا ہے: "وإليه الإشارة بقوله أن الدنيا مزرعة الآخرة".

جبکہ اسی ملا علی قاری نے "الموضوعات الكبرى" اور "المصنوع في معرفة الحديث الموضوع" جو ان کی موضوع احادیث کے متعلق کتب ہیں میں اسے امام سخاوی کے اس قول کے ساتھ نقل کیا ہے کہ میں اس سے (حدیث کے طور پر) واقف نہیں ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ یہ حدیث تو نہیں ہے مگر معنی کے اعتبار سے درست ہے اور دلیل کے طور پر قرآن کی آیت "من كان يريد حرث الآخرة نزد له في حرثه..." الخ ذکر کی ہے۔ شاید اسی روش کے سبب زبان خلق نےاس اچھے قول کو آگے چل کرحدیث کا درجہ دے دیا۔ مرعی بن یوسف الکرمی (متوفی 1032 ھ) نے "الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة" میں اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ امام عجلونی (1162 ھ) نے کشف الخفاء میں اسے موضوع قرار دیا ہے۔ علامہ أمیر المالکی (متوفی 1228 ھ) نے "النخبة البهية في الأحاديث المكذوبة على خير البرّية" میں اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ محمد بن درویش البیروتی الشافعی (متوفی 1276ھ) نے "أسنی المطالب في أحاديث مختلفة المراتب" میں اس کے بارے میں امام سخاوی کا قول نقل کیا ہے کہ: "اس کو امام غزالی نے احیاء میں نقل کیا ہے جبکہ میں اس کی کسی سند سے واقف نہیں"۔ محمد بن محمد العامری (متوفی 1061 ھ) نے "الجد الحثيث في بيان ما ليس بحديث" میں اور محمد بن خلیل الطرابلسی القاوجی (متوفی 1305 ھ) نے "اللؤلؤ المرصوع فيما لا أصل له أو بأصله موضوع" میں اسے سخاوی کے حوالے کے ساتھ موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ ابن ابی جمھور الاحسائی (متوفی 909 ھ) نے "عوالی اللئالی" میں بغیر سند ذکر کیے اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کیا ہے جبکہ محشی نے اس کی تخریج جامع الصغیر کے حاشیے کنوزالحقائق سے کی ہے اور مکمل حدیث یوں نقل کی ہے: الدينار كنز والدنيا مزرعة الآخرة۔ جبکہ صاحب [arabic]کنوزالحقائق امام مناوی (متوفی 509 ھ) نے اسے الدیلمی (متوفی 509 ھ) کی الفردوس بمأثور الخطاب کی جانب منسوب کیا ہے۔ لیکن الفردوس میں بارہا تلاش کرنے کے باوجود ہمیں یہ حدیث نہیں ملی۔ یہ قول اصل میں امام بیھقی (متوفی 458 ھ) کی "الزھد الکبیر" میں روایت کردہ حدیث من يتزود فى الدنيا ينفعه في الآخرة (جو دنیا میں تقویٰ کی زاد راہ اختیار کرے گا وہ آخرت میں نفع پائے گا) کی تشریح لگتی ہے جو بعد میں خود حدیث کے طور پر مشہور ہوگیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جن تین بزرگوں کے ہاں یہ حدیث کے طور پر مذکور ہے یعنی امام غزالی، امام مناوی اور الدیلمی یہ تینوں ہم عصر ہیں۔

اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی خاص دور میں یہ قول حدیث کے طور پر مشہور ہوا اور بعد کے بزرگوں کی تحقیق سے اس کا عام قول ہونا عیاں ہوا۔ مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ مشہور قول ہے حدیث نہیں ہے۔ لہٰذا ٹیکسٹ بک کے ذمہ داران کی تصحیح ایک اچھا اقدام ہے۔