پشتون تحفظ موومنٹ، خدشات اور تجاویز - ارشد علی خان

پختون تحفظ موومنٹ یا پشتو تحفظ موومنٹ اس وقت زوروں پر ہے۔ کوئی اس کی مخالفت میں جلسے جلوس نکال رہا ہے تو کہیں پر پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آرز اور مقدموں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران پشتون تحفظ موومنٹ کے اپنے جلسے بھی ہو رہے ہیں، جس میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ شرکت کرنے والوں میں زیادہ تعداد پختونوں کی ہوتی ہے، تاہم دوسری اقوام کے لوگ بھی پی ٹی ایم کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں پشاور میں پشتون تحفظ موومنٹ نے ایک بڑا غیر سیاسی جلسہ کیا۔ بعض سرکاری اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس میں دو سے ڈھائی لاکھ افراد شریک ہوئے، اگرچہ قومی میڈیا نے اس غیر سیاسی جلسے کا مکمل بلیک آؤٹ کیا، تاہم اس طرح کی تحریکوں کو میڈیا بلیک آؤٹ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ غیر سیاسی اس لیے کہہ رہاہوں کہ اب تو باقاعدہ سیاسی جماعتوں نے اپنے عہدایداروں اور کارکنان پر پی ٹی ایم کے جلسوں میں شرکت پر پابندی لگا دی ہے، جس میں خود کو پختونوں کی نمائندہ جماعت قرار دینے والی عوامی نیشنل پارٹی بھی شامل ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی پی ٹی ایم کے جلسوں میں شرکت سے اپنے کارکنوں کو منع کر رکھا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوان رہنما منظور پشتین پہلی ملاقات میں ایک سیدھے سادھے قبائلی لگے، یہ ملاقات اسلام آباد دھرنے سے پہلے ہوئی تھی، جب وہ اپنے قافلے کو ٹانک سے براستہ مردان اور صوابی اسلام آباد لے کر جا رہے تھے۔ مردان میں احتجاجی مظاہرے کے دوران کسی خفیہ ادارے کا اہلکار مارچ کی قیادت کرنے والے کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہا تھا، جب منظور پشتین مجھ سے بات کرتے ہوئے اچانک اس اہلکار کی جانب مڑے، اپنا نام بمع ولدیت، شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر خود اسے لکھوایا۔

میرے چند بھائی پشتون تحفظ موومنٹ کو ملک کے مقتدر اداروں کے خلاف ایک سازش تصور کر رہے ہیں، جبکہ مقتدر ادارے بھی یہی خیال کر رہے ہیں۔ پشاور جلسے میں سٹیج سے فوج کے خلاف نعرہ بازی اور بیرون ملک سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر فوج مخالف پوسٹوں نے اس سوچ کو مزید تقویت دی ہے۔ منظور پشتین کے مطالبات اگر تمام پختونوں کے مطالبات بنتے جا رہے ہیں تو مقتدر اداروں کو اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ مطالبات پختون قوم کو سالہا سال سے درپیش مسائل، سرکاری اداروں کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیوں اور اس خطے میں اقوام عالم کی دلچسپی کی وجہ سے ہیں۔ دنیا بھر میں اگر کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے خلاف پراکیسز تیاری کرتا ہے تو اپنی سرزمین سے دور اس طرح کی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔ امریکہ کی مثال سامنے ہے۔ تاہم بدقسمتی ہے کہ امریکی ایما پر روس کے خلاف اپنے ہی سرحدی علاقے کو میدان جنگ کے لیے خام مال فراہم کرنے کا ذریعہ بنایا گیا، جس کا خمیازہ اب تک فوج کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پرائی جنگ لڑنے کا نتیجہ یہ ہے کہ 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی کے علاوہ معیشت کو اربوں ڈالر زکا نقصان بھی مملکت خداداد کے حصے میں آیا ہے۔

منظور پشتون نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فوج یا ریاست کے خلاف نہیں بلکہ آئین پاکستان کے تحت جو حقوق ملک کی دیگر اقوام کو حاصل ہیں، وہی حقوق قبائلی عوام سمیت دیگر پختونوں کو بھی دیے جائیں۔ فاٹا اور خیبرپختونخوا سے لاپتہ 32 ہزار افراد سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے غائب کیے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے تباہ شدہ مکانات، سکولوں، کالجوں اورہسپتالوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے، اور FCR جیسے کالے قانون میں فی الفور ترمیم کی جائے۔ فاٹا اور خیبرپختونخوا میں چیک پوسٹوں پر عوام سے عزت مندانہ طریقے سے پیش آیا جائے۔ یہ تمام مطالبات آئین پاکستان کے تحت ہیں، ان میں کوئی بھی غیر آئینی مطالبہ شامل نہیں۔ تاہم منظور پشتین کا یہ کہنا کہ حکومت وقت سے غیر ملکی ثالثوں کی موجودگی میں بات چیت کی جائے گی، کسی طور درست نہیں، نہ ہی پاک فوج کے خلاف پی ٹی ایم کے اسٹیج سے نعرہ بازی کو درست کہا جا سکتا ہے۔ منظور پشتین کو اپنی تحریک ملک دشمن عناصر سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ریاستی ادارے اور پی ٹی ایم کے درمیان محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب حکومت کی بھی غلطی ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ راؤ انوار کی سپریم کورٹ میں انٹری کسی ہیرو سے کم نہ تھی، اسی طرح فاٹا میں بارودی سرنگوں کی صفائی میں کوئی خاطر خواہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور نہ ہی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اپنایاگیا۔ معاہدے کی دیگرشقوں پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے بعد منظو ر پشتین نے ایک بار پھر ملک کے طول و عرض میں جلسے شروع کر دیے ہیں، جس کی ابتداء پشاور سے کی گئی جبکہ آنے والے دنوں میں لاہور اور سوات سمیت دیگر علاقوں میں بھی جلسوں کا اہتمام کیاجائے گا۔

اگر پی ٹی ایم سے کیے گئے معاہدے کا پاس کیا جاتا تو انہیں دوبارہ سڑکوں پر آنے کا جواز نہیں ملتا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی کہ فاٹا میں قیام امن کے ساتھ ہی ایک اور تحریک شرو ع ہوگئی ہے، اور یہ کہ کسی کوبھی ملک کا امن خراب کرنے کی اجازات نہیں دی جائے گی۔ معاہدے پر عمل درآمد کر کے اس تحریک کو ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جاسکتا ہے اور معاہدے پر عمل درآمد کرنے میں آرمی چیف کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com