سمرٹن اور جنوبی پنجاب میں تبدیلی کا خواب - صابر بخاری

پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ماس کمیونیکیشن کی ڈگری کا پہلا سال تھا۔ طبیعت میں کچھ نیا کرنے کا عنصر شروع سے موجود تھا، یہی وجہ تھی کہ کراچی میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ کو ایک سمسٹر بعد ہی خیر باد کہہ دیا، کیونکہ یہ کام مجھے وقت اور وژن کا ضیاع لگتا تھا۔ واپس پنجاب کی راہ لی۔ چند ماہ کے اندر امتیازی نمبروں سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لے لیا۔ وقت کو زیادہ سے زیادہ قابل استعمال لانے اور کمیونٹی کی خدمت کا بھی جنون سوار تھا۔ یہی جذبہ اور آگے بڑھنے کی لگن ہی تھی کہ آخری نمبروں میں رول نمبر ہونے کے باجود کلاس کا سی آر بنا۔ سی آر بننے کی بھی پوری الگ ایک کہانی ہے جسے کسی اور وقت پہ چھوڑتے ہیں۔

یونیورسٹی میں داخلہ لیے ایک سال ابھی مکمل نہیں ہوا تھا، جنوبی پنجاب کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر دل کڑھتا رہتا تھا۔ اسی کرب نے جنوبی پنجاب کی عوام کے لیے کچھ کرنے پر تیار کیا۔ سب سے پہلے ارادہ یہ کیا کہ مظفرگڑھ سے تبدیلی کا آغاز کیا جائے۔ چند قریبی دوستوں انجینئر احمد حنیف، رانا فہیم، ڈاکٹر رفیق شاہ، انجینئر شاہد، زاہد قلندرانی، رانا عالیشان، عابد خان، عبد الرحمان، ارشد چن سمیت دوسرے قریبی دوستوں سے مشورہ کر کے سمرٹن سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ ضلع کی پڑھی لکھی نوجوان نسل کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ کسی قوم کی حالت تب تک نہیں بدل سکتی جب تک اس قوم کا پڑھا لکھا اور باشعور طبقہ اپنے حقوق کے لیے کھڑا نہ ہو۔ اسی سوچ اور جذبہ کے تحت نوجوانوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا، ممبرشپ کا کم از کم معیار گریجویشن رکھا۔ آج بھی میری سوچ یہی ہے کہ ایک پڑھا لکھا نوجوان اگر کسی بستی میں موجود ہو، وہ اس بستی کا بہترین نمائندہ اور رہنما بن سکتا ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم نے چند ماہ میں کر کے دکھا دیا۔

تعلیم کی وجہ سے ہمہ وقت تو نہیں، اتنا وقت ضرور دیتا تھا کہ جیسے ہی یونیورسٹی سے فرصت ملتی، مظفرگڑھ کی راہ لیتا اور اپنے مقصد میں جت جاتا۔ یہ ٹیم کی محنت اور لگن کا ہی نتیجہ تھا کہ چند ماہ بعد ہی ہم نے سو سے زیادہ گریجویٹ نوجوانوں کوممبر بنا لیا۔ یہ بڑی کامیابی تھی، سب لوگ وژنری اور کچھ کرنے کا عزم رکھتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سمرٹن کی کامیابی ضلع کے روایتی جاگیرداروں کو کھٹکنے لگی۔ مجھے کہا جاتا کہ آپ نوجوان کیوں وقت ضائع کر رہے ہیں؟ ہم عوام کی خدمت کے لیے موجود ہیں، آپ لوگ جائیں اور اپنا کام کریں۔ مگر ہم اپنے مشن پر ڈٹے رہے۔ 2010ء کے سیلاب میں ہماری ٹیم نے علاقہ کے عوام کی بھرپور مدد کی۔ میڈیکل ٹیموں کو لاہور سے بلوایا، میڈیکل کیمپس لگائے، راشن متاثرہ لوگوں تک پہنچایا، پٹواریوں کیساتھ گھر گھر سروے کرائے، پولیس کے ہاتھوں اذیت میں مبتلا سادہ لوح افراد کی بھرپور سپورٹ اور دل جوئی کی۔ کرپشن کیخلاف ہم سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ ہم نے ہر چوک،گاؤں، قصبہ اور شہر کا اپنا ایک نمائندہ مقرر کر رکھا تھا جو پڑھے لکھے نوجوانوں کو اکٹھا کرتا اور عوام کو شعور وآگاہی کیساتھ ساتھ ان کے مسائل اور ان پر روا رکھے جانے والے مظالم سے بھی ہمیں آگاہ کرتا اور ہم اس کا مسئلہ اعلیٰ حکام تک پہنچا دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا وزیراعلیٰ عثمان بزدار سرائیکیوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

ہم بہت خوش تھے کہ جس مقصد کو لے کر ہم چلے تھے، اس میں کافی حد تک کامیابی مل رہی ہے۔ اتنے سارے پڑھے لکھے نوجوان ایک چھتری تلے دیکھ کر مقامی سیاستدانوں، روایتی جاگیرداروں کی رال ٹپکنے لگی۔ انہیں یہ خوف تھا کہ اگر یہ نوجوان اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو ہماری چودھراہٹ کا کیا ہوگا؟ اور دوسرے وہ چاہتے تھے کہ ان پرجوش نوجوانوں کو اپنا زور بازو بنا لیں۔ مگر ہم پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے۔ جمشید دستی سمیت کئی سیاستدان ہمیں بھرپور سپورٹ کی یقین دہانی کرانے لگے۔ جمشید دستی نے سمرٹن کے دو نوجوانوں کو سترھویں سکیل کی ملازمتیں بھی دیں۔ جن میں سے ایک اب تھرمل مظفرگڑھ میں ایس ڈی اوہیں اور دوسرے کو نیشنل بنک میں ملازمت ملی، تاہم بعد ازاں اس نے چھوڑ کر سکول ٹیچر کی ملازمت کرلی کہ بینک کی نوکری میں سود ہوتا ہے۔

ہماری یہ سرگرمیاں ان دنوں عروج پر پہنچ جاتیں جب میں یونیورسٹی سے چھٹیوں کے بعد مظفرگڑھ پہنچتا۔ سمرٹن اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی جب ہم نے سرائیکی مشاعرہ کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی بھرپور تشہیرکی گئی۔ مشاعرے کے لیے ہم نے ایک پوسٹر بنوایا اور جن حضرات کے نام اس پوسٹر میں شامل تھے، ان سے چندہ بھی لیا۔ اس طرح ہم جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا سرائیکی مشاعرہ شاہ جمال میں کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس مشاعرے میں سرائیکی کے چوٹی کے شعراء نے حصہ لیا اور خوب ادبی رنگ بکھیرے۔ اس مشاعرے کا مقصد یہ تھا علاقہ کے عوام کو ایسے تفریحی مواقع دیے جائیں جن سے وہ برسوں سے محروم ہیں۔ سرائیکی مشاعرہ چونکہ اس خطہ کے عوام کی ہر دلعزیز تفریح ہے، اس لیے ہم نے پہلی ترجیح مشاعرے کو دی۔ اس مشاعرے کے ذریعے جہاں لوگوں کو تفریح کے مواقع میسرآئے، وہیں ہم اپنا نقطہ نظر بھی بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچا نے میں کامیاب ہوئے۔ محض چھ ماہ کی مختصر مدت میں سمرٹن کا نام ضلعی حدود سے نکل کر دوسرے اضلاع تک پہنچ گیا۔ ہمارا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا تھا۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں مل رہی تھیں، ان کو اعلیٰ تعلیم کے لیے رہنمائی اور سپورٹ کا سیٹ اپ قائم ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا وزیراعلیٰ عثمان بزدار سرائیکیوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

ہم جیسے مڈل کلاس طبقہ کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی روزی روٹی کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے ہوتے ہیں۔ چوتھے سمسٹر کی شروعات ہوچکی تھیں، اساتذہ کرام نے باور کرا رکھا تھا کہ اگر میڈیا میں ملازمت کرنی ہے تو دوران تعلیم ہی فیلڈ میں داخل ہو جائیں۔ میں نے بھی پہلے ایک روزنامہ اور پھر ایک نجی چینل سے انٹرن شپ شروع کی جو بعد میں ملازمت کا روپ دھار گئی۔ سمرٹن کے لیے وقت نکالنا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا اور ایک دن سمرٹن کو خیرباد کہنا پڑا۔ میں نے کچھ دوستوں سے کہا کہ سمرٹن کو لیکر آگے بڑھیں، میری بھرپور سپورٹ جاری رہے گی مگر جب نظریہ اور وژن شدت جوش و جذبہ سے عاری ہو جائے تو کامیابی کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے۔ میڈیا میں ملازمت میں نے اس لیے شروع کی تھی کہ اس راستے سے سمرٹن کے مقاصد کو زیادہ بہتر انداز میں پورا کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کے کرم سے ابھی تک اس میدان میں بہت کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے، تاہم میری آج بھی خواہش ہے کہ سمرٹن جنوبی پنجاب کے عوام کو جس طرح لیکر چل رہی تھی، اس طرح آج کوئی تازہ دم نوجوان اس کی باگ ڈور سنبھال لے اور اس کارخیر کو آگے لے کر چلے۔ اسی طرح ملک بھر کے نوجوان جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں تبدیلی کے لیے آگے بڑھیں۔

اس میں قطعی دو رائے نہیں کہ جس مقصد میں ہم صرف چھ ماہ میں کامیاب ہوگئے تھے، ہماری آج کی نسل جدید ٹیکنالوجی کے توسط سے اس مشن کو دنوں میں کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان بالخصوص جنوبی پنجاب کے نوجوان جاگیں، انھیں جاگنا ہوگا، اگروہ خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے، الگ صوبہ بننے کے باوجود بھی، تو وہ تخت لاہور کے بعد تخت سرداران جنوبی پنجاب کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔