جانے کب؟ - خرم علی راؤ

وطن عزیز میں آج کل سیاست کے میدان میں بڑی رونق بڑا تماشہ لگا ہوا ہے۔ جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جارہے ہیں ہمارے عظیم رہبران و قائدین کا جوش و خروش بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس وقت ملک میں کئی لوگ اقتدار اعلیٰ کاخواب دیکھ رہے ہیں، کئی سینیٹ کے الیکشن کی منڈی میں بولیاں لگا اور لگوا رہے ہیں، کچھ آپس میں ہڈی او ر بوٹی پر لڑ رہے ہیں، یہ سب اپنی جگہ، مگر میں صرف ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں، ہمارے عوام کی یادداشت تو خیر کمزور ہے مگر شاید یہ تحریر کسی گرگ باراں دیدہ اور پرانے صحافی و ادیب کی نظر سے گزرے تو یہ سوال ان سے ہے کہ " 80ء کی دہائی میں پاکستانی سیاست میں داخل ہونے اور نمایاں ہونے والوں میں کوئی ایک بھی ایسا موجود ہے جسے ہم بطور رول ماڈل لے سکیں؟ کوئی ایک نام؟ اگر جونیجو صاحب کی بات کریں تو انہیں بہرحال استثنا حاصل ہے، باقی، یادش بخیر ذرا غور تو کریں کیسے کیسے، خاکم بدہن، گوہر نایاب،خانہ خراب اس دور میں نمودار ہوئے جنہیں بھگتتے بھگتتے اب تو قوم کے کڑاکے نکل گئے ہیں۔"

پاکستانی عوام کے حالات بد سے بد تر ہوتے گئے اور یہ طبقہ رہبراں خوشحالی کی نت نئی منازل طے کرتا گیا۔ میاں کی جوتی، میاں کے سر کے مصداق ہمارے ہی خرچوں پر یہ پلتے اور پنپتے رہے اور ہمیں بدلے میں مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، قرضوں کا روز افزوں اضافہ، خوشنما وعدوں اور طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہ دیا، اپنے اپنے قائدین کی دلدہی میں عوام کالاانعام کو یعنی سو پیاز کے ساتھ سو جوتے بھی کھانے پڑے۔ میں پوچھتا ہوں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کہ کیا یہ طبقۂ رہبراں و قائدین قوم سے جھوٹ نہیں بولتا رہا؟ ایک بار، دو بار، بار بار، ہر بار، بس جھوٹ ہی جھوٹ، انہوں نے سیاست کو جو خدمت اور عبادت ہے ا،غلاظت اور نجاست بنا دیا اور مزے کی بات یہ کہ احسان بھی ہم پر ہی رکھا۔ کسی نے نفرت و تعصب کو حق گوئی کے نام پر پروان چڑھا کر وطن عزیز کی بنیادیں ہی ہلا دیں، کسی نے مالی مفادات حاصل کرنے کے لیے رشوت اور سفارش کے کلچر کو اتنا پروموٹ کیا کہ اداروں کے ادارے ہی تباہ کر ڈالے، کسی نے حب وطن کے نام پر نت نئے نظاموں کے تجربے کیے اور آئین کے تقدس کو پامال کیا۔

پاکستان روتا، سسکتا،کراہتا رہا، عوام بلکتے رہے اور بلک رہے ہیں مگر ان کی مستیاں اور بلند وبانگ قہقہے، ان کے سرخ و سفید چہروں کی چمک سب بڑھتا ہی گیا۔ اسی دنیا میں اسی دور میں اور بھی ملک ہیں اور بھی قومیں ہیں جو کل کیا تھیں اور آج ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور تو اور روانڈا جیسا تباہ حال ملک بھی اب اپنے حکمرانوں کے اخلاص کی بدولت اور کافی کی کاشت میں اضافے کی عقل مندانہ پالیسی اپنانے کی وجہ سے خوشحالی کی شاہراہ پر قدم رکھ چکا ہے اور ہم ہیں کہ اہل قیادت اور پرخلوص رہبران کے فقدان کے باعث مزید پستیوں میں گرتے جارہے ہیں، عالمی برادری میں مذاق بنتے جارہے ہیں، ہندوستان جیسا بزدل ملک بھی ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے، ہر فورم پر ہمارا مذاق سفارتی انداز میں نہ صرف خود اڑاتا ہے بلکہ اوروں کو بھی بہکاتا اور اکساتا ہے جب سے اس کے ٹائیگر کو ہم نے کتا بناکر پکڑا ہے تب سے اس کی اچھل کود کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے، اور تو اور اب تو امریکا جیسا ہمارا ایک اعتبار سے طفیلی ملک بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگا ہے باوجود اس کے کہ ہمارے بغیر وہ دہشت گردی کی عالمی جنگ اور افغان جنگ میں کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔

حکیم سعید صاحب شہید فرمایا کرتے تھے کہ سورہ مبارکہ" الرحمان" میں اللہ تعالیٰ نے جتنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے، پاکستان کو اس سے زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے، کیا کمی ہے ہمارے پاس؟ ہر طرح کے جغرافیائی علاقے، چاروں موسم، جنگل، دریا، پہاڑ، باصلاحیت اور محنتی عوام، ہر شعبے میں ایسا ٹیلنٹ کہ وقتاً فوقتاً اس ٹیلنٹ کی چمک سے ساری دنیا کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ہاں! مگر نہیں ہے تو بس ایک ملک سے محبت کرنے والی، عوام الناس کے لیے سوچنے والی اور اپنے عزم و اخلاص سے ملگ کو آگے لے کر جانے والی قیادت نہیں ہے۔ جانے وہ کب آئے گی؟ آئے گی بھی کہ نہیں؟