شیرِ میسور کی یاد میں - رومانہ گوندل

انسان کی زندگی بس چند دن کا کھیل ہے انسان اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش تو ہر انسان کرتا ہے لیکن انسانوں کے لیے یہ ممکن نہیں۔ وہ کتنا ہی چاہیں، زندگی کا کتنا ہی حرص کریں۔ پھر بھی وہ ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتے لیکن انسان جتنا عرصہ زندہ رہتا ہے اس کوشش میں گزار دیتا ہے کہ لوگ اسے جانیں، پہچانیں اور مرنے کے بعد اس کو یاد رکھیں۔ اس کی ساری کوشش اسی مقصد کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی لیے اقتدار میں آتے ہیں، حکومتیں کرتے ہیں، پیسہ جمع کرتے ہیں، بڑے بڑے محلات تعمیر کرواتے ہیں۔ دن رات انتھک محنت کرتے ہیں تاکہ ہر دوڑ، ہر جنگ جیت سکیں۔ وہ ہر پل جیت کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ جیت کے لیے جائز نا جائز کی ساری حدود پار کر جانا تو ہر دور میں ہی چلتا رہا ہے لیکن اب تو یہ کہا جانے لگا ہے کہ ’’ جنگ اور سیاست میں سب جائز ہے‘‘۔

یہ سب جائز والی جنگیں اور سیاستیں صرف حکومتوں میں نہیں ہیں، بلکہ ہر گھر، محلے، شہر، ملکی اور بین الاقوامی سطح کی یہی کہانی ہے۔ وہ بھائیوں کی جائداد کا بٹورا ہو یا ملک کا حکمران سب اپنے بہتر سٹیٹس کے لیے دوسرے کا قتل کروا دینا بھی اسی سب جائز کا حصہ بن گیا ہے۔ لیکن انسان یہ نہیں جانتے کہ جیت، ہار، سٹیٹس زند ہ نہیں رکھتے۔ انسانوں کے کردار زندہ رہتے ہیں اور اس دوڑ میں انسان جو چیز بھولے ہیں وہ یہی ہے، اپنے کردار اور شخصیت کی تعمیر۔ اپنی ذات میں کچھ خوبیاں پیدا کرنا۔

وہ خوبیاں جو انسان کو شخصیت بنا دیتی ہیں۔ وہ شخصیت جس کا نام اور کردار اپنی پہچان آپ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں ہر کوئی اپنے اپنے طور پہ ایک پہچان بنانے میں مصروف ہے اس کے لیے وہ غلط، صیحیح کسی بھی راستے میں چل پڑتا ہے لیکن انسان اور شخصیت کا فرق اس دنیا سے جانے کے بعد ہی پتا چلتا ہے کیونکہ انسان مٹ جاتے ہیں اور شخصیات زندہ رہتی ہے۔ وہ لوگ جن کو اپنی شناخت کے لیے کسی حوالے یا تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کا عمل اپنی پہچان ہوتی ہے۔ جن کو تاریخ زندہ رکھتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں۔

تاریخ کے اوارق پلٹیں تو ایک عظیم ہیرو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شیر میسور ٹیپو سلطان۔ ٹیپو سلطان نے کس علاقے پہ حکومت کی، جس جنگ میں وہ شہید ہوئے اس جنگ میں فتح ہوئی یا شکست۔ ان کی شہادت کے بعد اس علاقے کا کیا ہوا۔ یہ سب بہت کم لوگ جانتے ہیں جن کو تاریخ پڑھنے میں خاصی دلچسپی ہے لیکن ٹیپو سلطان کو ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ فتح یاب رہے اور ان کی پہچان کسی حکومت یا عہدے کی محتاج نہیں کیونکہ وہ ایک بہادر اور ثابت قدم انسان تھے۔ انہوں نے جھک کر نہیں سر اٹھا کے جی کے دکھایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جیت یا ہار نہیں انسان کا کردار اس کی فتح اور شکست کا فیصلہ کرتا ہے جو اس کی اپنی پہچان ہوتی ہے اور ان کی اس پہچان کو دشمن بھی مانتے اور سلام کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان کا مشہور قول ہے کہ

’’شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘

شیر میسور نے یہ بات ثابت کر دی غدار جیت کے بھی ہار جاتے ہیں اور ثابت قدم ہمیشہ جیت جاتے ہیں۔ ٹیپو سلطان نے فرمایا

’’جس قوم میں غدار پیدا ہونے لگیں، اس قوم کے مضبوط قلعے بھی ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔‘‘

غدار قوموں کا سر جھکا دیتے ہیں لیکن ایک بھی ثابت قدم پیدا ہو جائے تو وہ قوم کو بچا نہ بھی سکے پھر بھی ایک تاریخ زندہ کر جاتا ہے۔ آج ٹیپو سلطان زندہ نہیں ہیں ان کا کردار، ان کی بہادری زندہ ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہیرو تو ٹیپو سلطان کو مانتے ہیں، بڑی بڑی تقریریں اور مثالیں بھی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں جیت کے لیے شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے ملک و قوم سے غدار ہو جاتے ہیں۔ اپنے کردار، اخلاق، ایمان کو داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ٹیپو سلطان کو ہیرو مانتے ہیں تو سمجھنا پڑے گا کہ کامیابی اور نا کامی اہم نہیں ہوتی، وہ راستے، وہ کردار اہم ہوتا ہے جس کا ہم انتخاب کرتے ہیں۔ وہی ہماری پہچان ہوتے ہیں۔ اس لیے غلط راستے کا انتخاب کرتے ہوئے ایک بار ضرور سوچیں کہ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ عارضی ہو گا، وہ فائدہ نہیں وہ راستہ ہماری پہچان بن جائے گا اور تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے وہ ہر کسی کے چہرے سے نقاب کھینچ کے اس کی اصلیت کو رقم کر دیتی ہے۔

ہمیشہ ہی نہیں رہتے کبھی چہرے نقابوں میں

سبھی کردار کھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر

زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے دو خوبیاں اپنے اندر پیدا کریں، وفا داری اور رازداری۔ ان دو خوبیوں کے بغیر انسان کہیں بھی قابل اعتبار نہیں تھا، نہ پروفشینل لائف میں، نہ ذاتی زندگی میں، نہ رشتوں میں۔ بہت سارے لوگ زندگی میں سب کچھ قربان کر دیتے ہیں کسی کے لیے لیکن صرف ایک خامی راز کی حفاظت نہ کر سکنا انہیں ہمیشہ بے اعتبار رکھتا ہے۔ راز صرف دوسروں کے نہیں اپنی ذات کے بھی ہوتے ہیں۔ جو لوگ اپنے رازوں کی حفاظت کر لیتے ہیں وہ ہمیشہ با عزت رہتے ہیں اور جو بات بات پہ دوسروں کے سہارے ڈھونڈتے ہیں وہ کبھی سر اٹھا کے کھڑے نہیں ہوتے کیونکہ اس سہاروں کی تلاش میں وہ ا کثر غلط لوگوں کا انتخاب کر لیتے ہیں، کیونکہ رازداری کی خوبی ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ کوئی راز آپ کے پاس ہے تو اس کی حفاظت کریں۔ نہ خود دوسروں کے راز ظا ہر کریں اور نہ کبھی ایسے انسان پہ بھروسہ کریں جو دوسروں کے راز آپ کو بتا دیتا ہو کیونکہ رازداری ایک کردار کا نام ہے جو ہر حال میں اور ہر کسی کے سامنے رہتا ہے۔