ایک لائک تو بنتا ہے - بریرہ صدیقی

" سری دیوی کی موت کے بعد جائے حادثہ پہ پولیس نے ایسا کیا دیکھا جس نے ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے"۔ ہو شربا تفصیلات جاننے کے لیے لنک اوپن کریں۔ لیجیے تفصیلات ملاحظہ کریں۔ "پولیس نے جائےحادثہ کے بغور معائنے کے بعد نئی تفصیلات جاری کی ہیں۔ جس کے مطابق غسل خانے میں ہاتھ ٹب کے ساتھ ٹونٹی کے علاوہ ایک شاور بھی موجود تھا، مزید تحقیقات جاری ہیں"۔

چٹ پٹی خبروں کے شائقین اور ہر لمحہ سکرین پر بدلتے مناظر دیکھنے کے عادی ناظرین کے لیے حالات حاضرہ سے آگاہی، دینی و دنیوی معلومات میں اضافے اور فروغ کا کثیر الاستعمال اور مقبول ترین ذریعہ فی زمانہ سوشل و الیکٹرانک میڈیا ہے۔ جہاں " لائک" بٹن کے ایک کلک پر جنت کی بشارت اور پوسٹ شیئر نہ کرنے کی سعادت سے محرومی کی صورت میں دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کی وعید ہے اور جہاں آپ کی قابلیت اور عوامی مقبولیت کو جانچنے اور پرکھنے کا واحد پیمانہ آ پ کے اپنی پوسٹ پر حاصل کردہ "لائکس" ہیں۔ ان دیکھے روابط کو پروان چڑھانے کا جنوں، روز افزوں ہے۔ دوست، احباب کی محافل میں کتاب اور کاغذ کی خوشبو معدوم ہوتی نظر آنے لگی ہے جبکہ اس کے برعکس چھوٹی اور بڑی سکرین پر انحصار میں تیزی سے اضافہ واضح ہے۔ صورتحال کا تشویشناک اور توجہ طلب پہلو، غیر مصدقہ خبروں سے نکل کر مذہبی دائرہ کو اپنی لپیٹ میں لینا ہے۔

جمعہ، جس کی تاریخی اہمیت مسلمہ ہے، اسی روز آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی روز توبہ قبول کی گئی، قیامت کے برپا ہونے کا دن بھی جمعہ کا دن بتایا گیا ہے۔ حکمی اعتبار سے عبادت کی اہمیت کے پیش نظر بلاشبہ مسلمانوں کا مقدس ترین دن اور بجا طور پر عید المسلمین ہی ہے۔ لیکن "عیدین" کے برعکس اس کی مبارک دینا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت نہیں۔ ایک تہوار کی حیثیت سے عید الاضحیٰ اور عید الفطر کو منانے کی تاکید کی گئی ہے۔ لیکن جمعہ اس فہرست میں کہیں شامل نہیں۔ جمعہ کی مبارک اہتمام اور باقاعدگی سے دینے کا حالیہ رجحان، عبادت کی اصل روح کو نظر انداز کر کے، تہنیتی پیغامات کو بااہتمام رواج دیتا اور تحریک دیتا نظر آتا ہے۔ عیدین کے موقع پر "تَقبل اللہ منا ومنکم" کے الفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے ثابت ہیں لیکن جمعہ کی مبارک بھیجنے کی کوئی روایت نہیں پائی جاتی۔ اسی طرح احادیث مبارکہ کو آگے پھیلانا، جہاں ایک طرف باعث اجر و ثواب ہے۔ وہاں یہ کام غیر معمولی احتیاط، احترام و محبت کا متقاضی بھی ہے اور احترام کی ادنیٰ ترین شرط یہ ہے کہ غلط، من گھڑت اور غیر مستند احادیث کو پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا "جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے"۔(صحیح مسلم 1862)

یہ بھی پڑھیں:   ناک بند کرنے سے کیا تعفن ختم ہو جاتا ہے؟ تنویر شہزاد

عمل میں ذرا سی کوتاہی، ہمیشہ کی بدنصیبی کا باعث نہ بن جائے۔ جھوٹی وعیدوں اور جھوٹی بشارتوں کو معاشرے میں پھیلانے کا چلن عام ہو چکا ہے اور شارٹ کٹس کے شوقین، سادہ لوح عوام حوالہ جات کی تصدیق کیے بغیر ایسے پیغامات کو آگے پھیلانے میں عجلت اور بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے یہ غیر مستند حدیث بارہا پڑھنے کو ملتی ہےکہ "جس نے رمضان کی آمد کی خبر سب سے پہلے دی، جہنم کی آگ اس پر حرام ہے"۔ احادیث کے ساتھ اس سلوک سے تعلیمی نصاب بھی محفوظ نہیں، جہاں صحیح صحیح حدیث کے الفاظ" دنیا آخرت کی کھیتی ہے" (جماعت پنجم، کتاب اسلامیات) کو مشہور مقولہ کہہ کر شامل کیا گیا ہے اور نشاندہی کرنے پر "طباعت کی غلطی " کہ کر اس کوتاہی سے صرفِ نظر کیا گیا۔

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے "صحیح بخاری" کی ترتیب و تدوین میں جس طویل جاں گسل مشقت، محنت اور غیرمعمولی احتیاط کا مظاہرہ کیا وہ ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ محض گیارہ برس کی عمر کے تھے جب بخارا میں علامہ داخلی کو سند کے غلط ہونے پر ٹوکتے ہیں، علامہ داخلی گھر جا کر اصل کتاب سے رجوع کرتے ہیں اور بچے کے اس شاندار حافظے سے نہایت مرعوب ہوتے ہیں کہ بچے کی بات درست نکلی۔ محض 16 برس کی عمر میں علمِ حدیث کے لیے رختِ سفر باندھا، حجازِ مقدس، مصر و شام، کوفہ و بغداد کے لگاتار سفر کیے۔ "علل" کا علم بالخصوص حاصل کیا، تاکہ ہر اس خفیف سبب کی نشاندہی ہو سکے۔ جو حدیث کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حدیث کے راوی کےحالات، اس کی صدق و دیانت، جائے سکونت، طرزِ معاشرت، بہترین یادداشت کی تصدیق کرتے۔ آخری مرحلے میں غسل فرما کر دو رکعت نماز نفل ادا کرتے اور خوب دعا کے بعد حدیث "صحیح بخاری" میں شامل فرماتے۔ اس احتیاط اور اشتیاق کا نتیجہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد صحیح بخاری، نے مستند ترین کتاب حدیث کا رتبہ پایا۔ غیر معمولی حافظے کی بناء پر 70000 احادیث آپ کو یاد تھیں، جبکہ آپ کم سن تھے۔ "علم" آپ کے نزدیک وہی تھا جو سینے میں اتر جائے۔ اپنے صفحات، وانر کو آیات، احادیث اور اقوال سے مزین کرنے کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اصل علم وہ ہے جو سینے میں محفوظ رہ کر عمل کا حصہ بن جائے، چاہے مقدار میں بہت معمولی ہو۔ وہ علم جو عمل کا حصہ بن جانے کے بعد، ایک پھل دار درخت کی طرح عاجز کرتا چلا جائے، کسی تکبر اور خود پسندی کا شکار کیے بغیر، اور پھر اندازِ گفتگو اور طرز زندگی خودبخود اس علم کا حقیقی آئینہ دار بن جائے۔ یقیناً نعمت ہے۔ اعمال وہاں بظاہر ایک سے ہوں گے لیکن وزن، بحساب نیت مختلف ہو گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب بہت سے اقوال بھی ایسے ہیں جن کا دور دور تک حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور جنہیں حیران کن طور پر عصرِ حاضر کے نامور اسکالرز کی والز پر دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ملاقاتیں بڑھائیں، ملنا آسان بنائیں - محمد عاصم حفیظ

شاعرِ مشرق حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری بھی اس دست برد سے محفوظ نہیں۔ ایک اعلیٰ پائے کے تعلیمی ادارے کی پیشانی پر اقبال کی تصویر کے ساتھ یہ اشعار کندہ دیکھے۔

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ


جن اشعار میں "خودی" کا لفظ نظر آجائے وہ تو غالباً بغیر کسی چھان بین کے اقبال کے سر منڈھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً

مت کر خاک کے پتلے پہ غرور بے نیازی اتنی

خود کو خودی میں جھانک کر دیکھ، تجھ میں رکھا کیا ہے

اقبال کی شاعری سے ادنیٰ سی واقفیت رکھنے والا شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ ان کی شاعری کا اسلوب ہر گز نہیں۔ "بلبل" کا تذکرہ بھی چونکہ اقبال کی شاعری میں ملتا ہے مثلاً

پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس

صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس

اسی لیے نہایت اعتماد سے اس شعر کا الزام بھی اقبال کے سر ہے جس کا پہلا مصرعہ "بلبل کی چونچ میں گچھا انگور کا ہے۔ گزشتہ دنوں دورانِ سفر ٹرک کے پیچھے لکھے شعر پر نظر پڑی

ندیا کنارے بلبل بیٹھی دانہ کھائے چھلی دا

نال لے جا مینوں وی، دل نیئں لگد کلی دا

تو شکر ادا کیا کہ "دل نئیں لگدا کلی دا" کے ساتھ اقبال کا اضافہ نہیں کیا گیا۔

نسلِ نو کو کتابوں کے لمس سے روشناس کرانا، معیاری اور مستند کتابوں کے انتخاب میں ان کی مدد کرنا اور ہر گھر میں ذاتی لائبریری کا قیام وقت کی اشد ضرورت ہے۔ سوچ میں وسعت اور پختگی لانے اور کردار سازی کا اہم ترین عنصر معیاری اور باقاعدگی سے مطالعہ ہے اور باقاعدگی کی لازمی شرط، انٹرنیٹ سےکچھ وقت کی رخصت ہے، ورنہ کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی رہنے میں کوئی کسر باقی نہیں ہے۔

Comments

Avatar

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.