ایک فرشتے سے ملاقات کی کہانی - احسان کوہاٹی

روٹی کا لقمہ توڑتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے، اس نے سیلانی کی طرف پرسوچ نظروں سے دیکھا جیسے فیصلہ کر رہا ہو کہ کیا جواب دے، پھر اس نے فیصلہ کر لیا۔ وہ اسی طرح سیکنڈوں میں فیصلے کرتا ہے، اسی کی اسی خوبی نے اسے پورے کیرئیر میں ممتاز بنائے رکھا، اس نے روٹی کا لقمہ توڑکر دہی کے رائتہ میں ڈبویا اور اسے منہ میں رکھنے سے پہلے کہنے لگا:
’’جتنی آسانی سے آپ نے یہ سوال پوچھا ہے نا! کاش اس کا جواب بھی اتنا ہی آسان ہوتا، یہ دسویں امتحان کے پرچے میں بیس نمبر والا سوال ہے۔ ‘‘
پھر اس نے لقمہ منہ میں رکھا اورآس پاس دیکھنے لگا، اس کی نظریں کسی ایک جگہ فوکس نہیں رہتیں، وہ دائیں بائیں ادھر ادھر دیکھتا رہتا ہے، یہ اس کی تربیت کا حصہ ہے۔ وہ ایک ’’فرشتہ ‘‘ ہے اور صرف فرشتہ نہیں، بہت اچھا، تیز طراراور زیرک فرشتہ، صحافیوں خاص کر کرائم رپورٹروں کے سامنے یہ فرشتے کبھی نہ کبھی ظاہر ہو ہی جاتے ہیں، ان سے ملاقاتیں بھی رہتی ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ صحافیوں سے کام نکالا جائے اور صحافیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان سے کام لیا جائے، دونوں ایک دوسرے سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔

خیر سیلانی جس فرشتے کی بات کر رہا ہے، یہ چار سال پہلے کراچی میں ہی تعینات تھا۔ ایک تقریب میں سیلانی کی ملاقات ہوئی جو ملاقاتوں پر پھیلتی چلی گئی۔ یہ فرشتہ بڑا مختلف تھا، اسے کتابیں پڑھنے کا چسکا تھا، یہ معروف شاعرہ پروین شاکر اور باکسر محمد علی پر بلا تکان بولتا تھا، اسے محمد علی کے بارے میں یہاں تک معلومات تھیں کہ پچیس برس کی عمر میں اس کا وزن کتنا تھا، وہ کتنے کلومیٹر کی دوڑ لگاتا تھا، اور کتنے کیلوریز کی غذا لیتا تھا۔ پروین شاکر تو اس کی محبت تھی، اسے پروین شاکر کی درجنوں غزلیں زبانی یاد تھیں، اسے افسوس تھا کہ پروین شاکر اس سے پہلے ہی یہاں سے رخصت کیوں ہوگئیں، اور وہ اسے پرپوز نہ کرسکا۔ اس فرشتے کی ایک اور خوبی ہے کہ اس کی دوستیاں تعلق پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے ساتھ جنم اور ختم نہیں ہوتے، کراچی سے گئے ہوئے اسے چار برس ہوچکے تھے، لیکن وہ اب بھی یہاں بھی اپنے دوستوں سے رابطے میں تھا، اس کے بقول وہ کئی بار کراچی آیا تھا اور خواہش کے باوجود ملاقات نہیں کرسکا، وقت نہیں مل سکا۔

سیلانی کو اس کے آنے کی اطلاع ملتی تھی نہ جانے کی، ظاہر ہے ملنی بھی نہیں چاہیے تھی۔ اس باراس نے خود ہی سیلانی کو کال کی، سیلانی دفتر میں بیٹھا افغانستان کے معروف سیاست دان اور افغانستان فریڈم اینڈ ڈیموکریسی موومنٹ کے چیئرمین جاوید کوہستانی کی فیس بک پر تحریر پڑھ رہا تھا، جس میں وہ افغان حکمرانوں کے برخلاف ڈیورنڈ لائن کو دو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد تسلیم کر رہے تھے، اور کھلے دل سے کہہ رہے تھے کہ ہمیں اس سرحد کو تسلیم کرکے اپنے پڑوسیوں کا احترام کرنا چاہیے اور احترام سے رہنا چاہیے۔ سیلانی جاوید کوہستانی کا یہ اسٹیٹس پڑھ ہی رہا تھا کہ اس کے سیل فون پر ''فرشتہ صاحب'' کی کال آگئی۔ سیلانی نے فون وصول کیا اور چہکتے ہوئے پروین شاکر کا شعر پڑھنے لگا
’’وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا ‘‘
سیلانی نے پہلا مصرعہ ہی پڑھا تھا کہ دوسری طرف سے دوسرا مصرعہ پڑھا جانے لگا ’’بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی ‘‘
’’سیلانی صاحب! کبھی ہم غریبوں کو بھی لفٹ کرادیا کریں، آپ کے شہر میں آئے ہوئے ہیں۔‘‘
’’پھر پوسٹنگ ہوگئی ؟‘‘
’’اللہ نہ کرے یار ۔۔۔۔ بس کام سے آیا تھا, سوچا آپ سے بھی ملاقات ہو جائے۔‘‘
سیلانی نے فورا کہا ’’ضرور، ضرور, پھر کہاں ملاقات ہو رہی ہے۔‘‘
’’رات کا کھانا ساتھ کھاتے ہیں، آپ کو میں لے لوں گا۔‘‘

اور پھر رات کو دونوں سپرہائی وے پر واقع ایک کھلے ریسٹورنٹ کے گوشے میں تخت پر گاؤ تکیے لگائے گپیں لگا رہے تھے۔ یہ گپ شپ اس وقت تک جاری رہی جب تک بھوک کا احساس اچھل کر زباں پر نہ آگیا۔ کھانے کا آرڈر دیا گیا، بیرے نے بتایا کہ کم از کم تیس منٹ لگیں گے۔ یہ تیس منٹ کا فاصلہ ٹاپنے کے لیے سیلانی نے سلاد رائتہ اور تندور کی ایک سرخ کڑک روٹی منگوالی،گرما گرم تندوری روٹی کے چھوٹے چھوٹے لقمے بڑا ہی مزہ دے رہے تھے۔ سیلانی نے اپنے مہمان سے کہا ’’جب ملالہ بی بی آہی گئی تھی تو ملنے بھی دیا جاتا اتنی سخت سیکیورٹی میں کیوں رکھا گیا؟‘‘
’’بھائی اچھا لگے یا برا، ملالہ اب بین الاقوامی شخصیت ہے اور اسے سیکیورٹی کے اشوز بھی تھے، اسے وی وی آئی پی سیکیورٹی نہ دی جاتی اور خدانخواستہ اس کے آس پاس پٹاخہ بھی پھٹ جاتا تو بس پھر ہوگیا تھا کام، سب سے پہلے تو آپ میڈیا والوں نے عزت افزائی کرنی تھی، اور پھر انٹرنیشنل میڈیا نے جو گت بنانی تھی، وہ الگ تھی، ہم نے اسے سکیورٹی دی تھی، اسے محبوس نہیں کر رکھا تھا، ایک تو آپ صحافی ہر بات کو تنقیدی نگاہ سے ہی دیکھتے ہو، کسی نے حوصلہ افزائی نہیں کی کہ ملالہ خیر سے آئی اور خیر سے گئی۔۔۔۔‘‘
’’خیر جانے دیں بین الاقوامی شخصیت کومیرا منہ نہ کھلوائیں۔‘‘
’’منہ ضرور کھولیں لیکن کھانا کھانے کے لیے۔‘‘
’’ہا، ہا، ہا، ہا۔۔۔۔‘‘ سیلانی کے قہقہے کے بعد گفتگو کراچی کے سیاسی حالات پر ہو نے لگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کا سیاسی خلاء - قادر خان یوسف زئی

بات سے بات نکلی تو سیلانی نے اچانک سوال کر دیا:
’’ایم کیو ایم کے کتنے کارکن لاپتہ ہوئے ہوں گے، جب ایم کیو ایم ایک تھی تو یہ جلسوں میں سینکڑوں کارکنوں کو لاپتہ بتلاتے تھے۔‘‘
ان سے فہرست لے لیں کہ ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے۔ زیادہ تر کو انھوں نے خود ہی مروا دیا ہوگا یا پھر ملک سے باہر بھاگے ہوئے ہوں گے۔‘‘
’’یعنی کوئی لاپتہ نہیں ہے؟‘‘
’’میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ تصدیق یا تردید کرسکوں لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ یہ خود بھی ’’بھل صفائی‘‘کرتے رہتے تھے۔‘‘
’’ویسے یار! یہ لاپتہ کیا ہی کیوں جاتا ہے، یہ سچ میں ایک انسانی المیہ ہے، بندہ مرجائے تو گھر والوں کو رو پیٹ کر صبر آ ہی جاتا ہے لیکن یہ جو لاپتہ ہوتے ہیں یہ تو پورے خاندان کو کبھی نہ ختم ہونے والی اذیت میں ڈال جاتے ہیں۔‘‘
سیلانی کی بات پر اس نے ہنکارہ بھرا، روٹی کالقمہ توڑتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے، اس نے سیلانی کی طرف پر سوچ نظروں سے دیکھا جیسے فیصلہ کر رہا ہو کہ کیا جواب دے، پھر اس نے فیصلہ کر لیا، اس نے عادت کے مطابق دائیں بائیں نظریں دوڑائیں جیسے اطمینان کر رہا ہو کہ سب ٹھیک ہے، کوئی غیر معمولی بات نہیں، پھر اپنی تسلی کے بعد کہنے لگا:
’’یہ لمبی بات ہے، اس کا الزام آپ کسی ایک فرد یا ادارے کو نہیں دے سکتے، اس میں سیاست دانوں، وکیلوں، منصفوں اور اس سوسائٹی کا حصہ ہے، آپ نے کبھی سوچا کہ کوئی فرد لاپتہ کیوں ہوتا ہے؟‘‘
’’ظاہر ہے، اسے آپ لوگ غائب کر دیتے ہو۔‘‘
’’چلیں اس الزام کو تھوڑی دیر کے لیے مان لیتا ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟‘‘
’’من مانی، کسی قانون کو خاطر میں نہ لانا، دوسرے لفظوں میں بدمعاشی۔‘‘
روکتے روکتے بھی سیلانی کے منہ سے بدمعاشی کا لفظ نکل گیا، اس نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور کہا
’’ایسا نہیں ہے، یہ سب ہماری عدالتوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور عدالتیں کہتی ہیں وکیل استغاثہ جرم ثابت نہیں کر سکے۔ وکیل استغاثہ کہتا ہے پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے کیس ہارے۔ اور پولیس کہتی ہے ہمارے پاس ہے ہی کیا جو تفتیش کریں، وسائل کیا دیے ہیں سرکار نے۔ سرکار کہتی ہے غریب ریاست کہاں سے اسکاٹ لینڈیارڈ والے وسائل لا کر دے۔ اور غریب اس لیے ہیں کہ ہمارے پاس ہنر نہیں تعلیم نہیں، تعلیم اس لئے نہیں کہ بچے پڑھائیں یا گھر چلائیں ۔۔۔۔‘‘
’’بس بس بس بھائی! سادہ سا سوال پوچھا ہے جلیبیاں نہ بنائیں۔‘‘.
’’میں نے سچ کہا ہے، اگر ججوں کے قلم سزا لکھنے لگیں تو کوئی کیوں لاپتہ ہو، آپ کسی بھی اچھے انٹیلی جنس والے کے پاس بیٹھ جائیں، وہ بتائے گا کہ اس نے فلاں دہشت گرد جان پر کھیل کر پکڑا، پولیس کے حوالے کیا، پولیس نے ناقص تفتیش کی اور عدالت میں چھوٹ گیا اور باہر آکر اس نے پھر دس بندے مارے۔

یہ بھی پڑھیں:   سید منور حسن، منظور پشتین اور مستقبل کا سورج - راؤ اسامہ منور

’’کراچی آپریشن میں ایک انٹیلی جنس اطلاع پر چھاپہ مارا اور ایک پچیس چھبیس برس کا نوجوان پکڑا، وہ ایک عادی مجرم تھا، شیلٹر لینے کے لیے ایک جماعت میں چلا گیا تھا، اس نے میرے سامنے کئی وارداتوں کا اعتراف کیا، ساری تفصیلات بتائیں، تاریخیں بتائیں، وقوعے بتائے۔ ہم نے پولیس کے حوالے کیا، پرچہ کاٹ دو، پرچہ کٹ گیا، عدالتی کارروائی آگے بڑھی، اسے پولیس ریمانڈ سے جیل میں بھیج دیا گیا۔ عدالت میں اس نے سارے بیانات سے انکار کر دیا، کوئی ثبوت گواہ پیش نہیں کیا جاسکا، مقدمے کی پیروی کے لیے کوئی رضامند نہیں تھا، نتیجہ وہ ایک اچھے وکیل کی بدولت دو سال میں ضمانت پر باہر آگیا اور پھر اسی کام میں لگ گیا۔ اب پولیس کا حال یہ کہ بنا کسی میرٹ کے سفارشی بھرتی کیے جاتے ہیں، انہیں وہی سو سال پہلے کے تفتیشی طریقے پڑھائے جاتے ہیں۔ آج کا ملزم سائبر کرائم کرتا ہے، انٹرنیٹ ڈیوائس سے دھماکے کرتا ہے اور یہ بستہ الف اور بستہ ب کے زمانے کے سبق لے کر بیٹھے رہتے ہیں، پھر انہیں وسائل کیا ملتے ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ پرلے درجے کی کرپشن عام ہے۔ یہاں سے آگے بڑھیں تو عدالتوں کا حال اللہ معاف کرے، بھائی ملک بھر کی عدالتوں پر اٹھارہ لاکھ مقدمات کا بوجھ ہے، آپ ذرا کبھی ڈیٹا تو نکالیں کہ حکومتوں نے کتنی نئی عدالتیں بنائی اور جج بھرتی کیے، کراچی آپریشن میں انسداد دہشت گردی کی پانچ عدالتیں بنانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ اس آپریشن میں پکڑے جانے والوں کے مقدمے ان عدالتوں میں چلیں گے جو تیزی سے فیصلے سنائیں گی تاکہ معاشرے میں عبرت بھی قائم ہو، لیکن ڈھائی سال تک ایک عدالت بھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ ایسی کاہلی کانتیجہ اسی خرابی کی صورت میں نکلتا ہے جسے آپ انسانی المیہ کہہ رہے ہیں۔‘‘

سیلانی کی بہت کھل کر بات ہوئی۔ سیلانی کے مہمان کا کہنا تھا کہ ہماری عدالتوں سے سزائیں دیے جانے کی شرح بہت کم ہے اور پھر سزا ہو بھی جائے تو عملدرآمد ہونے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ معاشرہ جرم اور مجرم کو ہی بھول جاتا ہے۔ سیلانی نے اپنے دوست کی بہت سی باتوں سے اختلاف کیا۔ اس کے خیال میں وجوہات کچھ بھی ہوں سزا کا اختیار عدالت ہی کے پاس ہونا چاہیے، لاپتہ کر دینا کوئی مسئلے کا حل نہیں، لیکن سیلانی کے پاس اس سوال کا جواب بھی نہیں تھا کہ کیسی عدالتیں اور کیسا اختیار؟ جو تہرے قتل میں گرفتار اسماء نواب کو بیس برس کے بعد بری کر دیں اور لوگ سوچتے رہ جائیں کہ آشنا کے ساتھ مل کر ماں باپ اور بھائی کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والی اسماء بےگناہ ہے تو پھر ان تینوں کا قتل کس نے کیاتھا۔ سیلانی کے سوالوں کے جواب فرشتے کے پاس تھے اور نہ فرشتے کے اعتراضات کو سیلانی ردکر پارہا تھا۔ دونوں طرف سچائیاں تھیں جن کے بیچ میں لاپتہ ہوجانے والوں کی سچائی پس رہی تھی۔ اسی بحث میں کھانا بھی آیا کھانا کھایا بھی گیا، روانگی بھی ہوگئی اور وقت رخصت بھی آگیا۔ سیلانی نے گرمجوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے اپنے مہمان کو رخصت کیا اور ایک ختم نہ ہونے والے مسئلے کے تلخ حقائق بتا کر جانے والے کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں