بیمار کی عیادت کرو - ام محمد عبداللہ

عُوْدُو االْمَرِیْضَ۔۔۔ بیمار کی عیادت کرو۔۔ (صحیح البخاری)

"اف یہ بچہ!" کاشف کو ٹھنڈے پانی سے کھیلتے دیکھ کر بے اختیار امی جان پریشان ہو کر اس کی جانب لپکیں۔ "ٹھنڈے پانی سے نہیں کھیلو، بیمار ہو جاؤ گے۔"

"کچھ نہیں ہوتا امی جان!" شرارت سے مسکراتے ہوئے اس نے اپنی روشن آنکھیں مٹکائیں۔ چند ہی لمحوں میں تیز دوڑتا وہ گیلی آستینوں کے ساتھ گھر سے باہر میدان میں بچوں کے ساتھ کھیل میں شامل ہو کر امی کی پہنچ سے دور جا چکا تھا۔

"ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں؟ کاشف چپل پہنو۔" امی متفکر سی کاشف کے پیچھے بھاگ رہی تھیں جبکہ بے فکری سے کھلکھلاتے کاشف کو امی کے آگے آگے بھاگنا ایک دلچسپ کھیل لگ رہا تھا۔ بہرحال، امی کے بگڑتے تیور دیکھ کر اس نے جلدی سے یخ ہوتے پاؤں میں چپل اڑسائے۔ "جرابیں بھی پہنو۔" امی اسے گھورتے ہوئے واپس باورچی خانے کی طرف مڑ گئیں جہاں بہت سا کام ان کا منتظر تھا۔

"امی! میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔" کاشف کا چہرہ اور آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔ کھانا بناتے ہوئے امی جان نے پلٹ کر کاشف کی جانب دیکھا. "خدایا خیر۔۔۔" ماتھا چھو کر انہوں نے اسے گود میں لے لیا۔ "اسے تو بخار ہے"۔ پریشانی کے عالم میں انہوں نے خودکلامی کی۔ "امی! طیبہ خالہ کا فون ہے۔" کرن موبائل فون امی جان کو دینا چاہ رہی تھی۔ نہیں۔ خالہ سےکہو کاشف کو بخار ہے۔ امی ابھی بات نہیں کر پائیں گی۔

"کاشف کو تھوڑا زمزم پلایا آپ نے؟" بابا جانی جو ابھی دفتر سے واپس آئے تھے، کاشف کو بخار میں مبتلا دیکھ کر امی جان سے پوچھ رہے تھے۔

"جی ہاں! تھوڑا رس کھلا کر دوا بھی دی ہے۔ رات خیریت سے گزر جائے تو صبح ڈاکٹر کو دکھا لیں گے ان شاءاللہ۔" امی جان بھی فکر مند تھیں۔

"اس کو وقفے وقفے سے رات بھر تھوڑا تھوڑا پانی پلانا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ *بخار دوزخ کی بھاپ ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (بخاری)"

"جی ہاں! آب زمزم ہو یا عام پانی۔ بہت سی تکالیف میں دونوں ہی مفید ہیں۔ موجودہ طبی سائنسی تحقیق ثابت کر رہی ہے کہ تیز بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرنا چاہیے یا پھر مریض کو ٹھنڈی جگہ رکھنا چاہیے جبکہ اسلام سائنس سے قبل ہی ترقی یافتہ ہے۔" امی جان نے تبصرہ کیا۔

"واہ جی واہ! پیاری سی فاطمہ گڑیا ہمیں ملنے آئی ہے۔" امی جان طیبہ خالہ اور ان کے بچوں کو اپنے گھر دیکھ کر خوش ہوتے ہوئے بولیں۔

"ہم تو آپ کو ملنے نہیں آئے۔" ننھی فاطمہ معصومیت سے بولی۔

"ہائیں تو پھر کیوں آئی ہیں آپ؟" امی جان حیران ہوتے ہوئے کہنے لگیں۔

"میری امی جان کہہ رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عُوْدُو االْمَرِیْضَ یعنی بیمار کی عیادت کرو۔ (صحیح البخاری) تو ہم توکاشف بھائی کی عیادت کے لیے آئے ہیں۔ بھائی بیمار ہیں ناں"

"اچھا جی تو یہ بات ہے۔" امی جان بے ساختہ مسکرا دیں۔

"کیا ہوا میرے پیارے سے بھانجے کو؟" طیبہ خالہ نے آگے بڑھ کر کاشف کے سر پر ہاتھ پھیرا جو اپنے بستر پر لیٹا تھا۔

"خالہ جانی! میرے سر اور گلے میں بہت درد ہو رہا ہے۔" کاشف نے خالہ کی پیار بھری نگاہیں دیکھ کر فوراً ہی اپنی تکلیف بیان کی۔

"لَا بَاسَ طَھُوٌرُ ان شاءاللہ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگا“ ( بخاری)" خالہ نے پیار سے کاشف کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے مسنون دعا دی۔ اسی اثناء میں سائرہ ٹرالی لیے کمرے میں داخل ہوئی۔ کیلے، سیب اور امرود کی سلیقے سے کٹی ہوئی قاشوں سے بھری پلیٹیں۔ سرخ سرخ انار کے دانوں سے بھرا ہوا شیشے کا پیالہ اور خشک میوہ جات کی ڈش دیکھ کر مہمان بچوں کے منہ میں پانی بھر آیا۔ چھوٹی فاطمہ نے تو جلدی سے اناروں کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ طیبہ خالہ کی گھورتی نگاہوں کا اس نے تو کچھ خاص اثر نہ لیا جبکہ اس سے بڑا عمر سنبھل کر تھوڑا پیچھے ہوگیا۔ "نہیں بھئی طیبہ! بچوں کو گھورو نہیں۔ لینے دو انہیں پھل۔" امی جان نے ناراضگی سے اپنی چھوٹی بہن کی جانب دیکھا۔ "کیوں نہیں آپا، لیں ضرور لیکن انہیں گھر سے باہر کیا رویہ رکھنا ہے، یہ بھی تو انہیں معلوم ہونا چاہیے۔ خالہ نے مسکرا کر امی جان کو قائل کرنا چاہا۔ "عمر بیٹے یہ سیب لو۔" امی جان نے سیبوں کی پلیٹ عمر کی جانب بڑھائی۔ عمر نے شرماتے ہوئے ایک قاش اٹھائی اور امی جان سےکہنےلگا "خالہ جان! مجھے پتہ تھا آپ ہمیں کھانے کے لیے پھل اور میوہ جات دیں گی۔" "وہ کیسے بھلا؟" امی جان نےحیرانی سے عمر کی جانب دیکھا۔ "جب ہم آپ کے پاس آرہے تھے تو دادی جان نے مجھے بتایا تھا۔ جب کوئی مسلمان اپنےکسی مسلمان بھائی کی عیادت کو جاتا ہے تو وہ لوٹتے وقت تک جنت کے باغات سے میوہ خوری میں رہتا ہے۔“ (مسلم)" عمر کی بھولی بھالی سمجھ پر امی اور خالہ دونوں ہی ہنس دیں۔ "ہماری دادی جان جھوٹ نہیں بولتیں۔" ننھی فاطمہ کو ان کے ہنسنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔ "جی بالکل! آپ کی دادی جان یقیناً جھوٹ نہیں بولتیں۔" انہوں نے بالکل سچ کہا۔ ”جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی صبح کے وقت میں عیادت کرتا ہے، تو شام تک ستّر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کرنے جاتا ہے تو بھی صبح تک ستّر ہزار فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں تروتازه اور پکے ہوئے پھل ہیں۔“ ( احمد، ابن ماجہ، ترمذی) امی جان نے بچوں کو بتایا "لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس کے گھر آپ جائیں وہ آپ کو کھانے کے لیے پھل ہی دے۔ پھلوں کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ ہمیں اس دنیا میں بھی دیں گے اور آخرت میں بھی ان شاءاللہ۔"

"اور ہاں! کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بیمار کے گھر والے کھانے کے لیے کوئی ہی چیز نہ لائیں تو کیا ایسے میں پھر آپ عیادت کے لیے نہیں جائیں گے؟" خالہ جان نے بچوں کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ "نہیں ہم بیمار کی عیادت کو ضرور جائیں گے۔" عمر جلدی سے بولا کیونکہ پھلوں (اجر و ثواب) کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ بیمار کے گھر والوں کا نہیں۔" "شاباش۔۔!" امی جان نے شفقت سے فاطمہ کے سر پر ہاتھ پھیرا جو خوشی خوشی انار کھانے میں مصروف تھی۔

"ان سب کے لیے تو پھل اور میوہ جات اور میرے لیے یہ گندا بخار، سر درد اور کڑوی کڑوی دوائیں۔۔۔۔" کاشف نے ان سب کی باتیں سن کر رونا شروع کر دیا۔ "ارے نہیں نہیں کاشف! ایسے نہیں کہتے۔ بخار کو برا بھلا نہیں کہتے۔ تمہیں پتہ ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی سخت بخار آجایا کرتا تھا۔" "کیا واقعی؟" کاشف نے حیرانی سے خالہ جان کی طرف دیکھا۔ "جی بالکل۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس حال میں آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بخار تھا۔ میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے کہ آپ کو سخت بخار آیا کرتا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم میں سے دو شخصوں کے برابر مجھ اکیلے پر بخار کی سختی ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: "اس لیے کے آپ کو دوہرا اجر ملتا ہے؟" آپ نے فرمایا *”ہاں! اور (سنو!) جس مسلمان کو کوئی بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔“ (بخاری)

"تو جناب، آپ نے جو جو گندے کام کیے ہیں ناں؟ وہ سب اس بخار کی وجہ سے معاف، ان شاءاللہ۔" خالہ جان نے پیار سے کاشف کی طرف دیکھا اور کہا "میں تمہارے لیے مزیدار سوپ بھی بنا کر لائی ہوں۔ وہ پی کر دوا لینی ہے وقت پر۔

آؤ، میں دعا پڑھ کر تمہیں دم کر دوں۔" خالہ جانی نے سات مرتبہ یہ دعا پڑھ کر کاشف پر دم کیا۔ اَسْاَلُ اللہ الْعَظِیْمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمَ، اَنْ یَّشْفِیْکَ (ابو داؤد)

"خالہ جانی آپ نے کیا کہا؟"

"میں نے کہا میں عرش عظیم کے مالک بزرگ و برتر اللہ سے تمہارے لیے شفا کا سوال کرتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس بیماری سے ضرور شفا دے دیں گے۔ ان شاءاللہ!"

"سچ؟" کاشف نے خوشی سے پلکیں جھپکائیں۔

"لیکن آئندہ ٹھنڈے پانی سے نہیں کھیلنا اور نہ ہی ننگے پاؤں چلنا ہے۔"

"ٹھیک ہے خالہ جانی۔"

"آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، میں بخار میں نہ کھیل سکتا ہوں، نہ پڑھ سکتا ہوں، میں سمجھ گیا ہوں کہ *صحت مند مومن بیمار مومن سے بہتر ہے۔ میں آئندہ اپنی صحت کا خیال رکھوں گا۔ ان شاءاللہ!"