ہنرمند نوجوانوں کا بیرون ملک جانے کا خطرناک رجحان - ڈاکٹر عمر فاروق احرار

پاکستان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، مگر ہمارے پڑھے لکھے، باہنر نوجوانوں کی اکثریت پاکستان میں کام کرنے کی بجائے ہمیشہ بیرون ممالک جانے کو ترجیح دیتی چلی آرہی ہے۔ برین ڈرین کیا ہے؟ معاشی و معاشرتی ناہمواری، انسانیت کی قدر و قیمت میں کمی کے سبب قابل لوگوں کا ترکِ وطن ہی برین ڈرین ہوتاہے۔ ملک چھوڑنے کا رُجحان اب خطرناک حدوں کو چُھونے لگا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں صرف صحت، تدریس اور انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلقہ 60 ہزارسے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں نے بہتر روزگار اور اچھے مستقبل کی خاطر وطن کو خیرباد کہا۔ جن میں سے 67فیصد انجینئرز، 20فیصدڈاکٹرز اور 12فیصد ٹیچرزشامل تھے۔ ہمارا ذہنی دماغ جس تیزی سے غیرممالک میں منتقل ہورہا ہے۔ اس کے مذکورہ اعداد و شمارکو دیکھ کر تشویش واِضطراب ہی جنم نہیں لے رہی بلکہ اندیشوں اورخدشات کے پہاڑ سر اُٹھارہے ہیں۔ ملک کا ذہین ترین افرادسے مسلسل محروم ہوتے جانا، کسی بہت بڑے المیے سے کم نہیں ہے، کیونکہ عقل ودانش سے محرومی معاشرے کو بانجھ کردیتی ہے۔

فکر و اندیشہ کی بات تو یہ ہے کہ کیا حکمران اور کیا اپوزیشن، سب کچھ آنکھوں سے ہوتا دیکھ رہے ہیں اوروہ بے حس و بے پروا ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے، صرف جلسہ گاہوں کو بھرنے اورزِندہ باد کے نعرے لگانے والے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ انہیں اس سے سروکار نہیں کہ ملک کا مستقبل کیوں پاکستان سے مایوس ہوکر باہرجانے پر مجبورہے؟ نان ایشوزکی سیاست نے حقیقی مسائل کو پس پشت کو دھکیل دیاہے۔ کسے فرصت ہے کہ سوچ سکے کہ چپڑاسی کی ایک آسامی کے لیے دو، دو ہزار اَیم اے پاس نوجوانوں کی درخواستیں کیوں موصول ہوتی ہیں؟ کون غورکرے گا کہ ہر روز تین ہزار لوگ اور ہر سال دس لاکھ افراد کیوں ملک چھوڑجاتے ہیں؟جب قابلیت اوراہلیت کے ہوتے ہوئے نوجوان صرف اس لیے ملازمت سے محروم رہ جاتے ہوں کہ اُن کے پاس کسی وزیر، یا وَڈیرے کی سفارش کے ساتھ رشوت دینے کے لیے لاکھوں روپے نہیں ہوتے، جنہیں وہ متعلقہ اداروں کے اہل کاروں کو بطور نذرانہ پیش کرسکیں۔ جب ایک ایک آسامی کا نرخ مقررہے تو بے یار و مددگار نوجوان نوکری کا خواب بھی نہیں دیکھ پاتا۔ حرام خور اَفسروں کا جہنم بھرنے والا ہی ملازمت کا اہل ٹھہرتا ہے۔ اگر کوئی خوش نصیب اپنی قابلیت اور دیانت کے بل بوتے پر نوکری حاصل کربھی لے تو بھتہ خورمافیہ اورکرپٹ افسروں کے ناجائز اَحکامات کی تعمیل نہ کرنے پر دفتر سے باہر کردیا جاتا ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر میں 188 یونیورسٹیوں کا جال پھیلایا ہے اور اگلے دس سالوں تک یونیورسٹیوں کی تعداد کو تین سو تک کرنا چاہتا ہے تاکہ ہر طالب علم کو گھر کے نزدیک اپنے ضلع میں معیاری تعلیم ملنے لگے۔ اگر دیانت داری سے عمل کیاجائے تویہ بہت ہی اعلیٰ سوچ اور شاندار منصوبہ ہے، مگر اِس تعلیمی منصوبہ سے حاصل ہونے والے فوائد کو قوم وملک کے لیے کارآمد بنانا اِس سے بھی بڑا ٹاسک ہے اورپیپر وَرک سے آگے اس ٹاسک کو حاصل کرنے کے لیے کوئی پُرعزم نظر نہیں آتا۔

صرف تعلیمی اداروں کے بہترین نتائج نوجوانوں کو ملک چھوڑنے سے روک نہیں سکتے۔ صوبہ پنجاب ہی کو لیجیے۔ یہاں کے سرکاری میڈیکل کالجوں سے ہرسال 2300جبکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجزکے ذریعے 800 نوجوان ڈاکٹرز بن کر نکلتے ہیں۔ جن میں سے تین سو سے زائد ڈاکٹرز پاکستان سے باہرچلے جاتے ہیں۔ پے بیک نہ ہونے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے، کیونکہ ایک ڈاکٹر اور انجینئر کی تعلیم پر ملک کے تیس سے چالیس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جو ڈاکٹر اور اِنجینئر باہر نہیں جا سکتے، اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سی ایس ایس کرکے دیگر اہم ملازمتوں کا رُخ کرلیں۔

پاکستان نوجوان آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبرپر ہے۔ ہمارے پاس 44 فی صدنوجوان ہیں۔ اعلیٰ ذہانت اور بہترین تعلیم والی نسل ہمارے پاس موجود ہے۔ ٹیلنٹ، صلاحیت، ذہانت کسی بھی معاملے میں ہمارے نوجوان کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ طلبا و طالبات گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ہر سال تقریباً پانچ لاکھ نوجوان ڈگری لیتے ہیں۔ لیکن اہلیت، قابلیت اوراعلیٰ تعلیم کے ہوتے ہوئے نوجوانوں کا ملک سے باہر چلے جانا پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ خدمات کا معقول معاوضہ نہ ملنا، جان و مال کا عدم تحفظ، سفارش کلچر، میرٹ کا فقدان، رشوت اور اقرباء پروری اور غیر یقینی کی صورت حال برقرار رہنا، وہ بنیادی عوامل ہیں کہ جنہوں نے نوجوانوں کے دل ودماغ میں مایوسی کی جڑیں گاڑ رکھی ہیں۔

غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اِس وقت امریکا میں 13ہزار چار سو، برطانیہ میں 9ہزار، آسٹریلیا میں 3 ہزار اور مشرق وسطیٰ میں ساڑھے آٹھ ہزار پاکستانی ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں۔ یہ توڈاکٹروں کی غیرممالک میں خدمات ہیں۔ دیگرتمام اہم شعبوں میں پاکستانیوں کے پیشہ وارانہ کردارکا تناسب بھی کم اہمیت کا حامل نہیں ہے، جبکہ پاکستانی سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداداِس کے علاوہ ہے۔ اگر پاکستان کے ان فرزندوں کو اُن کا ملک اُن کی خدمات کا معقول صلہ اور اُن کی جان ومال کی سلامتی کو یقینی بنانے، اُن کے اعتمادکو بحال کرنے اوراُن کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے ٹھوس اورعملی اقدامات کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کے یہ بیٹے اپنے پیارے وطن میں نہ لوٹ آئیں۔ شرط یہی ہے کہ اُن کی پاکستان واپسی سے پہلے عدلیہ، انتظامیہ اورمقننہ کی انقلابی بنیادوں پر صفائی کا عمل شروع کیاجائے۔ جب تک تمام ادارے شفافیت سے متصف نہیں ہوں گے۔ پاکستانی برین کی وطن واپسی ایک دیوانے کا خواب ہے اورپاکستانیوں کا ہنر، قابلیت، سرمایہ اورخدمات غیروں کی تعمیروترقی کے کام آتی رہیں گی۔ آئین کی پاسداری، قانون کی عمل داری اورانصاف وعدل اورمساوات پر مبنی پُرامن ماحول ہی نہ صرف یہاں تعمیروترقی کے مواقع فراہم کرسکتا ہے، بلکہ اجنبی دیسوں میں مقیم ہم وطنوں کو بھی اپنے گھرواپس لاکر، قوم وملک کواُن کی صلاحیتوں سے مستفید کرسکتا ہے۔