تاریخ میں شخصیت کے بت کی نفی کی ایک روشن مثال - عثمان ایم

(اپنے وطن، سیاستدانوں، مذہبی اکابر اور دفاعی اداروں کو اپنے بت بنا لینے والوں کے لیے)

اسلاف میں شجاعت، قربانیوں اور پہاڑ جیسے حوصلوں کی حامل ہستیوں میں ایک نمایاں نام خالد بن ولید رضی اللہ عنه کا ہے۔ اسلام پر نچھاور ہو جانے والی اس ہستی کی عظمت کیا ہوگی کہ جس نے غزوات میں شہادتِ حق کے لیے تلواریں چلا چلا کے نو عدد تلواریں توڑ لی ہوں اور پھر رسول اللہ ﷺ‬ سے انہیں سیف اللہ کا لقب ملا ہو؟ سیف الله، یعنی اللہ کی تلوار! جس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ‬ نے عزت بخشی ہو اس کو کسی اور سے تعریف کی محتاجی نہیں ہوتی۔ صحابہ کی کہکشاں کے روشن ستارے خالد بن ولید جب دین کی خاطر اپنے مشن میں بلند ترین سطح پر تھے، جب دیگر صحابہ کرام ان کو ہیرو کا درجہ دیتے تھے ان پر دو بار بڑی آزمائش آئی جس سے وہ سرخرو ہو کے نکلے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنه کی وفات کے بعد جب خلافت کی ذمہ داری عمر رضی اللہ عنه کو سونپی گئی تو اس وقت خالد بن ولید مسلمانوں کے سپاہ سالار تھے اور خالد بن ولید کا ناقابل شکست ہونے کی بنا پر صحابہ کرام لشکر کی فتوحات کا کریڈٹ خالد بن ولید کی ذات کو دیا کرتے تھے۔

عمر رضی اللہ عنه نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلے جو احکامات دیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ خالد بن ولید کو سپاہ سالار کے عہدے سے ہٹایا اور ان کی جگہ ابو عبیدہ بن جراح کو سپاہ سالار مقرر کر دیا۔ بعد میں اس کی وجہ عمر رضی اللہ عنه نے یہ بتائی کہ "میں نے خالد بن ولید کو اس لیے نہیں ہٹایا کہ مجھے اس پر کوئی غصہ تھا یا مجھے ان پر بھروسہ نہیں تھا، بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو یہ باور کروایا جائے کہ ہمیں فتح اللہ کی ذات کی وجہ سے ملتی ہے، (اہل حق کی فتح کسی شخصیت کی مرہون منّت نہیں)۔"

یہ بھی پڑھیں:   شخصیات نہیں ادارے - اسامہ الطاف

اس پر خالد بن ولید کا ردعمل کیا تھا؟ انہوں نے نئے خلیفہ کی اطاعت کا حلف لیا اور ایک عام فوجی کمانڈر کی حیثیت سے ابو عبیدہ بن جراح کی ماتحتی میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔

عمر رضی اللہ عنه کے دور میں مسلمانوں کی طرف سے فتوحات کا سلسلہ جاری تھا۔ انہی میں سے ایک علاقے مرعش پر جب فتح ہوئی تو خلیفہ عمر اور ان کی شوریٰ کے علم میں یہ بات آئی کہ خالد بن ولید، جو کہ اس وقت شام میں گورنر تھے اور وہاں پر ہردلعزیز اور اچھی شہرت کے حامل تھے، نے کسی مشہور ایرانی شاعر سے اپنی تعریف میں کہے گیے اشعار سن کر اس کو سرکاری خزانے سے دس ہزار درہم انعام دیا ہے۔

عمر رضی اللہ عنه نے ابو عبیدہ بن جراح کو فوراً خط لکھا اور ہدایت دیں کہ خالد بن ولید سے جواب طلبی کی جائے اور ان کو معزول کر کے مدینہ واپس بھیجا جائے۔ خالد بن ولید نے جواب طلبی میں وضاحت کی کہ انعام رقم انہوں نے سرکاری خزانے سے نہیں بلکہ اپنی جیب سے ادا کی تھی، لیکن بہرحال ان کی معزولی کا حکم تھا اس لیے وہ معزول ہو کر مدینہ روانہ ہو گئے۔

خالد بن ولید جب مدینہ پہنچے تو عمر رضی اللہ عنه نے خالد بن ولید کو خراج تحسین بھی پیش کیا اور یاد دہانی بھی کروائی، جس کا مفہوم تھا: "(خالد!) آپ نے حق ادا کر دیا ہے، جو کچھ (دین کے لیے) آپ نے کیا وہ کوئی اور نہ کر سکا، لیکن لوگ جو کچھ بھی عمدہ کرتے ہیں وہ ان کے اپنی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے..."

بعد میں عمر رضی اللہ عنه نے خالد بن ولید کی معزولی کی وضاحت دی جس کا مفہوم ہے:

"میں نے خالد کو اس لیے معزول نہیں کیا تھا کہ مجھے ان کی عدم دیانت کا کوئی غصہ تھا، بلکہ لوگ ان کی بابت شخصیت
پرستی میں مبتلا ہو گئے تھے، اور مجھے ڈر تھا کہ لوگ ان پر ہی انحصار کرنا شروع کر دیں گے، لیکن میں انھیں باور کروانا چاہتا تھا کہ ہمیں جو بھی فتح حاصل ہوتی ہے وہ اللہ کی ہی طرف سے حاصل ہوتی ہے (کسی شخصیت کی طرف سے نہیں)، تاکہ لوگوں کو غلط فہمی نہ رہے اور کوئی فتنہ نہ پیدا ہو۔ "

یہ بھی پڑھیں:   شخصیات نہیں ادارے - اسامہ الطاف

عمر رضی اللہ عنه نے شخصیت پرستی کی نفی کی خاطر سیف اللہ کو معزول کیا، تاکہ رہے نام صرف اور صرف اللہ کا اور خالد بن ولید نے اللہ کی راہ میں ہی تو اپنا سب کچھ نچھاور کیا تھا، وہ کیونکر اپنے امیر المؤمنین کے احکامات سے روگردانی کرتے؟ اس لیے انہوں نے اپنے امیر کی اطاعت کی اور سر تسلیم خم رکھا۔

یہ اسلاف کے واقعات کوئی غیر مرئی واقعات نہیں ہیں، یہ کوئی کہانیاں نہیں ہیں، یہ اسی امّت کی حقیقت تھی جس کو فراموش کر دیا گیا۔ دین کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کر دینے والی عمر رضی اللہ عنه اور خالد بن ولید جیسی ہستیوں کی مثالیں تو رہیں ایک طرف، آج کے دور میں تو اس دین کے وارث اب انتہائی کم ظرف، سستے، ذلیل دنیا دار شخصیات کے دفاع میں اپنی ساری دینی اقدار کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، گویا انہوں نے ان شخصیات و اداروں اور وطنیت کو اپنے بت بنا لیا ہے، یہ ایسے لوگ ہیں جو اسلام کے دعوے دار بھی ہیں اور اپنے بت پر آنچ تک آ جانے پر ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کے سامنے ایک طرف اسلام کے ازلی اخلاقی اصول، حتیٰ کہ بنیادی انسانی اصول بھی پامال ہو رہے ہوں اور دوسری طرف ان کے بت کی غلط کاریوں اور جرائم کو تسلیم کرنے کا فرض ہو، تو یہ لوگ اشخصیت یا ادارے کے بت کو بچا لیں گے ..... رہی حیاء تو بے حیاء لوگوں کا اس سے کیا کام؟ اور بے حیاء لوگوں کا دینی اقدار اور دینی اخلاقیات سے کیا واسطہ؟