خادم حسین رضوی صاحب! میں آپ سے مخاطب ہوں - ربیعہ فاطمہ بخاری

میرے والد صاحب کا شمار پاکستان کے جیّد علمائے کرام میں ہوتا ہےاور وہ جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری سے فارغ التحصیل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے لیےحضرت علامہ مفتی گل احمد عتیقی صاحب، علامہ حافظ عبد الستّار سعیدی صاحب، علامہ صدیق ہزاروی صاحب، قاری زوار بہادر صاحب وغیرھم کے ساتھ علامہ خادم حسین رضوی صاحب کے نام اجنبی نہیں تھے۔ ان علمائے کرام کے علاوہ بہت سے علمائے کرام جن میں سے کچھ میرے والدِ محترم کے اساتذہ تھے، کچھ ساتھی اور بہت سے شاگرد، بہت سوں سے ہمارا غائبانہ تعارف تھا۔ میرے والد صاحب چونکہ انتہاء درجے کے روادار، مثبت سوچ رکھنے والےاور خاص طور پر مذہبی اور فقہی ہم آہنگی پر یقین رکھنے والی شخصیت ہیں اور ان میں عموماً پایا جانے والا ہم عصر علماء کے ساتھ حسد پر مبنی تعصب کا شائبہ تک نہیں تو ان سب حضرات کا ایک انتہائی مقدس اور بہت خوبصورت تصور ہمارے اذہان میں ہے۔

علامہ خادم حسین رضوی صاحب جو میرے والدِ محترم کے شاگرد بھی ہیں، ان سے میرا دوسرا تعارف ایک ویڈیو کلپ کے ذریعہ ہوا جو فیس بک پہ بہت وائرل ہوا۔ اس ویڈیو میں رضوی صاحب ایک اور جیّد عالمِ دین علامہ طاہرالقادری پر برس رہے تھے اور ان کا یہ برسنا کاش کہ کسی علمی یا منطقی سطح کا ہوتا تو حضرت صاحب کا مقام میری نظر میں اور بلند ہو جاتا، لیکن جو کچھ وہاں ہو رہا تھا اس نے ان کے بارے میں میرے انتہائی خوبصورت تصور کو ایسا چکنا چور کیا کہ میں کئی دن تک اس اذیت سے نہیں نکل سکی۔ بعد ازاں جیسے ہی علامہ صاحب نے مین سٹریم میڈیا تک رسائی حاصل کی پھر تو حضرت کی'' خوش الحانی '' کے جوہر کچھ اس طرح آشکار ہوئے کہ الامان والحفیظ! کوئی عالمِ دین ، کوئی سیاستدان، کوئی اہم شخصیت ان کی زبان کی تیز دھار سے محفوظ نہیں رہی۔ بات یہیں تک رہتی تو میں شاید کبھی اس پر قلم نہ اٹھاتی لیکن مجھے جس چیز نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا اسے فارسی میں کہتے ہیں ''عذرِ گناہ، بدتر از گناہ''

آپ جیسی بھی زبان استعمال کر رہے ہیں کرتے رہیں کہ اس سے آپ کا وقار یا تو بلند ہو گا یا کم ، لیکن آپ اپنی دشنام (آپ کی استعمال کی گئی زبان کے لیے نرم سے نرم مجھے یہی لفظ ملا) کو احادیثِ مبارکہ سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ عوام الناس کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اینکر نے پوچھا کہ آپ لفظ ''دلّا'' بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا، احادیث میں لفظ ''دیّوث'' استعمال ہوا ہے۔ حضرت صاحب! مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ احادیث مبارکہ میں آپ کو یا کسی بھی مسلمان کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ جس مرضی انسان کو چاہو، میرے منبر پر بیٹھ کر دلّا، خنزیر جیسے القابات سے نوازتے رہیں۔۔؟؟ آپ صحابہ کرام ؓ سے گالیاں منسوب کر کے اپنے فعل کی وضاحت تو اپنے تئیں دے رہے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کی آپ ان مقدس ترین ہستیوں کے وقار کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ وہ اللہ کے مقرب بندے تھے، اصحابِ رسولِ عربیؐ تھے لیکن بہر حال وہ انسان بھی تھے، انسان ہونے کے ناطے اگر ان سے کبھی کوئی غلط کلمہ سرزد ہو گیا ہو تو کیا آپ اسے عوام الناس کے آگے کھول کھول کر بیان کر کے ان کی شان میں کسی اضافے کا باعث بن رہے ہیں؟

نہیں محترم! میرے نزدیک آپ ان بر گزیدہ ہستیوں کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں اور کیا ان کے الفاظ کو دلیل بنا کر آپ منبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر کسی کو بھی دشنام طرازی کا نشانہ بنانے کو درست ثابت کر سکتے ہیں؟ ہم نے تو بچپن سے آج تک یہی پڑھا ہے کہ ہمارے نبیؐ کی زبانِ حق ترجمان سے کبھی کسی کے لیے سخت کلمہ نہیں سرزد نہیں ہوا، ہم نے تو نبئ رحمتؐ کے دہنِ مبارک سے ان لوگوں کے لیے بھی صرف دعا ہی سنی جو جان کے درپے تھے۔ جو روز اپنا کچرا آنحضورؐ پر پھینکتی، اس کی تیمارداری کچھ اس طرح کی کہ اسے مانتے ہی بنی کہ اتنا اعلٰی اخلاق و کردار، اتنا وسیع ظرف صرف ایک پیغمبر کا ہی ہو سکتا ہے۔ بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ابو جہل حضرت ابو بکر صدیقؓ کو گالیاں دے رہا تھا، پہلے آپ خاموشی سے اس کی بک بک سنتے رہے، جب وہ ساری حدود ہی پھلانگ گیا تو جنابِ صدیقِ اکبرؓ نے اسے اسی کی زبان میں جواب دیا۔ جونہی حضرت صدیقِ اکبر ؓ نے اسے جواب دیا، نبی اکرمؐ اسی لمحے وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اس کی وجہ پوچھی تو نبئ رحمتؐ نے جواب دیا کہ جس وقت تک ابو جہل گالیاں بکتا رہا اور تم خاموش رہے، ایک فرشتہ اس کا جواب دے رہا تھا، جس لمحے تم نے اسے جواب دیا اسی وقت وہ فرشتہ وہاں سے چلا گیا اور درمیان میں شیطان آ گیا تو میں چلا گیا۔

آپ اس عظیم الشان ہستی کے خاتمیتِ نبوت کے محافظ ہونے کے داعی ہیں جس کا یہ فرمان ہر مسلمان کے لیے زادِ راہ ہے کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی نقصان نہ پہنچے۔ ہم نے تو محافظِ ختمِ نبوت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی کی شیریں سخنی دیکھ رکھی ہے۔ 1973ء میں علمائے کرام نے ذوالفقار علی بھٹو حیسے لبرل اور سیلولر نظریات کے حامل حکمران کے دور میں قادیانیوں کو کافر قرار دلوایا، کیا یہ کوئی چھوٹا موٹا کام تھا؟ فرہاد جوئے شیر شاید آسانی سے لے آیا ہوگا مگر یہ کام اس سے بھی مشکل تھا جو اس وقت کے علماء نے کر دکھایا اور اس دوران لوگوں نے کی زبان سے شاید ''تُو'' کا لفظ بھی نہیں سنا ہو گا۔ کیا وہ ختمِ نبوت کا تحفظ نہیں کر سکے، یا کیا حضرت صاحب علامہ نورانی صاحب یا علامہ مفتی محمود صاحب سے بڑا کارنامہ سر انجام دے رہے ہیں؟

خدارا علامہ صاحب! میں آپ سے مخاطب ہوں۔ آپ کو ایک ایسے پر فتن دور میں اللہ تعالٰی نے عالمِ دین ہونے کا شرف بخشا ہے جب اسلام کو غیروں سے زیادہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں سے خطرہ ہے۔ آج اسلام جتنے نازک دور سے گزر رہا ہے شاید ہی کبھی 1400 سالہ تاریخ میں اتنے نازک وقت سے گزرا ہو گا۔ آج وہ دور ہے جب خود مسلمان اسلام کی بنیادی تعلیمات، بنیادی احکامات اور اسلامی شعائر سے منحرف ہیں، خود مسلمان ہم جنس پرستی اور زنا بالرضا جیسے قبیح ترین افعال کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ علمائے کرام سے ویسے ہی عوام کا ایک مخصوص با اثر طبقہ ویسے ہی بہت خار کھاتا ہے اور ان کے بارے میں انتہائی نازیبا پروپیگینڈہ کیا جاتا ہے۔ اس نازک دور میں میں سمجھتی ہوں کہ علماء ہر ممکن محاذ پر دین کا دفاع کریں لیکن اس کے لیے اس وقت جس قدر نبوی اخلاق اور نبوی کردار اپنانے کی علماء کو ضرورت ہے شاید ہی کسی اور دور میں رہی ہو۔آپ ایک عالمِ دین کی حیثیت سے جتنی خوش اخلاقی، شیریں سخنی، مذہبی اور فقہی ہم آہنگی اور رواداری کو اپنائیں گے اتنا ہی عوام آپ کے قریب ہوں گے۔ لیکن جسطرح کا اپناامیج آپ اپنی گفتگو سے بنا رہے ہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں عوام کی ایک بڑی تعداد آپ کے ذاتی فعل کی وجہ سے اس عظیم الشان مقصد سے بھی دلبرداشتہ نہ ہو جائیں جس کی خاطر آپ جدوجہد کر رہے ہیں۔ خدارا ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور اپنی روش جتنی جلدی ممکن ہے تبدیل کریں اور نبوی اخلاق اور کردار اپنا کر نبیؐ کی شان اور عظمت کے محاذ پر اپنے جھنڈے گاڑ دیں۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.