سیاسی عصبیت کا خاتمہ ضروری مگر - یاسر محمود آرائیں

عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات ختم ہوتے نظر آ رہے ہیں مگر، "ن" لیگ پر پچھلے چند برسوں سے چھائی وسوسے، خوف ، جبر، دھونس اور دھاندلی کی دھند میں روز بروز شدت آ رہی ہے۔ بہت پہلے سے یہ اندازہ ہو رہا تھا نواز شریف کے "نظریاتی" ہونے کے بعد پیش آمدہ آزمائشوں سے گھبرا کر بڑی تعداد میں روایتی الیکٹیبلز انتخابات کا وقت قریب آتے ہی ن لیگ کا پنجرہ چھوڑ کر اڑ جائیں گے۔ یہ منظر غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ ملکی تاریخ میں اکثر انتخابات سے قبل ایسی سازشیں اور ہوائیں چلتی رہی ہیں جو، مخصوص الیکٹیبلز کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا کرتی تھیں۔ اس بار لیکن یہ کام جس منظم مگر بھونڈے اور ننگے انداز میں وقوع پذیر ہو رہا ہے اسے سازش کہنا بھی اس لفظ سے زیادتی کے مترادف ہے۔ نواز شریف کی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جتنی پس پردہ چھیڑ خانیوں اور در پردہ ریشہ دوانیوں سے ان کی حکومت کو پالا پڑا ہے، ملکی تاریخ میں کسی دوسری حکومت نے شاید ہی ایسے حالات کبھی دیکھے ہوں گے۔ ان سے اقتدار کی کرسی چھننے سے قبل یہ خیال تھا کہ مسئلہ صرف میاں صاحب کی ذات تک محدود ہوگا۔ اس وقت تک کیونکہ ملک میں جس قدر ہنگامے پیش آئے اور جتنے دھرنے دیے گئے اس کا واحد مطالبہ ان کی اقتدار سے علیحدگی تھا۔ بالآخر جب اقامہ دریافت ہونے کے بعد انہیں نکال دیا گیا تو کچھ وقت کے لئے امید پیدا ہوئی کہ شاید اب سیاسی ماحول میں موجود تلخی ختم ہوجائے گی اور جمہوریت اپنی روح کے مطابق چلتی رہے ۔

بعد کے حالات نے لیکن پہلے سے موجود شک مزید پختہ کر دیا کہ مسئلہ نواز شریف سے نہیں، مسئلہ اس سیاسی عصبیت سے تھا جس کی ملکیت اس دیس میں غیر اعلانیہ طور پر سنگین جرم سمجھی جاتی ہے۔ پھر نواز شریف نے اقتدار سے نکلنے کے بعد نچلے ہو کر بیٹھنے سے انکار کر دیا اور عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عوام کی جانب سے ان کی پذیرائی سے مزید واضح ہو گیا کہ وہ ممنوعہ حد سے زیادہ سیاسی عصبیت حاصل کر چکے ہیں۔ کچھ کمی اگر باقی تھی تو وہ ان کی دختر نے اسی عصبیت کے بل بوتے پر "روک سکو تو روک لو" کا نعرہ لگا کر پوری کر دی۔ مزید ستم یہ ہوا کہ ایسی جماعت جس کے بارے کہا جاتا تھا کہ اس کے خمیر میں مزاحمت نہیں وہ بھی اس نعرے کے ساتھ پوری جان سے کھڑی نظر آئی جس کے بعد "ن" لیگ کے لئے بچت کے تمام راستے معدوم ہو گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

نا اہلی کے فیصلے کے بعد بھی ن لیگ نے اس عصبیت سے جو میاں صاحب کے نام کے ساتھ مخصوص ہوچکی، فاصلہ دکھانے پر آمادگی ظاہر نہ کی تو پھر اسے بھی حدود اربعہ میں لانے کا فیصلہ ہوا۔ جس کا آغاز بلوچستان کی محرومی اور پسماندگی کا ذمہ دار وزیر اعلی بلوچستان کو قرار دے کر ان کی تبدیلی سے ہوا۔ "ن" لیگ کا بلوچستان سے صفایا ہونا میاں صاحب کی بڑھتی عصبیت کے پر کترنے کے لئے لازم تھا۔ اس صوبے میں کیونکہ مسلم لیگ کی حکومت کی موجودگی کی صورت میں ایوان بالا کے انتخابات میں اس جماعت کو واضح اکثریت ملنا یقینی دکھائی دے رہا تھا۔ یہ اکثریت اگر کسی طور حاصل ہو جاتی تو اس سیاسی عصبیت کا خاتمہ مشن امپاسبل بننے کا خطرہ تھا۔ راتوں رات لہذا ایسی کرشمہ سازی دکھائی گئی کہ بلوچستان میں ن لیگ کی صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ جماعت کا نام و نشان بھی ختم ہوکر رہ گیا۔ بعد ازاں ایوان بالا کی تصویر میں من پسند رنگ بھرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ رہی۔ یہ دھچکا کوئی چھوٹا موٹا نہیں تھا مگر، اس ڈینٹ کے بعد بھی ن لیگ کی چال ڈھال میں کوئی لڑکھڑاہٹ نظر نہیں آئی۔

اب جو اچانک جنوبی پنجاب کا غلغلہ بلند ہوا ہے بد قسمتی سے اس کا مقصد بھی کچھ دیگر نظر نہیں آ رہا۔ سیاسی معاملات کے بارے میں سطحی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی علم رکھتا ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنے آخری ایام میں اس قسم کا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب کے حقوق کے نام پر اچانک بیدار ہونے لوگ پچھلے ساڑھے چار سال سے خواب خرگوش کے مزے کیوں لوٹ رہے تھے؟ یہ لوگ بتانا پسند فرمائیں گے کہ جماعت سے علیحدگی کے اس انتہائی اقدام سے پہلے انہوں نے پارٹی کی سطح پر اس کاز کے لئے کتنی آواز بلند کی؟ساڑھے چار سال سے جنوبی پنجاب کی پسماندگی دور کرنے کے لئے ان حضرات نے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر کوئی کوشش کیوں نہ کی؟انہیں اگر سنجیدہ نہیں لیا جا رہا تھا تو آخری گھڑیوں تک اقتدار کی نائو سے کیوں چمٹے رہے؟

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

بنیادی طور پر میرا بھی مطالبہ ہے کہ ملک میں انتظامی لحاظ سے مزید کئی چھوٹے صوبے بننے لازم ہیں۔ اس مطالبے کے طریقہ کار اور شراکت داروں پر لیکن مجھے اعتراض ہے۔ کیا پیپلز پارٹی مہاجر آبادی یا شہری سندھ کو علیحدگی دینے پر تیار ہوگی؟تحریک انصاف ہزارہ ڈویژن کو علیحدہ صوبہ بنا کر اس نیک عمل کا آغاز کیوں نہیں کردیتی؟حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دونوں جماعتیں بھی سنجیدگی سے جنوبی صوبہ بننے کی خواہش نہیں رکھتیں۔ قومی اسمبلی میں کیونکہ پہلے ہی پنجاب کی سیٹیں باقی پورے ملک سے زائد ہوتی ہیں۔ سینیٹ کا ادارہ صوبوں کے مفادات کو بیلنس میں رکھنے کے لئے بنایا گیا تھا، اور اس میں کوئی شک نہیں علیحدگی کے بعد بھی جنوبی پنجاب کا فطری جھکائو سینٹرل پنجاب کی طرف ہی رہے گا۔ ایسے میں ایوان بالا میں بھی دیگر صوبوں کی جماعتیں اپنی مسابقانہ حیثیت کس طرح دائو پر لگا سکتی ہیں؟اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پھر کس طرح یقین کریں کہ یہ تارپیڈو بھی ن لیگ کی کشتی ڈبونے کے علاوہ کسی دیگر مقصد سے داغا گیا ہے۔

عصبیت خواہ سیاسی ہو یا لسانی وہ واقعتا قوم و ملک کے لئے خطرناک ہوا کرتی ہے۔ میاں صاحب نے اپنی سیاسی عصبیت کے بل پر بعض ایسی چیزوں پر اصرار کیا جو ملکی مفاد سے متصادم تھیں۔ نتیجہ آج سب کے سامنے ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی عصبیت کو سیاسی طریقے سے ختم کرنا ہی ممکن ہے۔ غیر جمہوری حرکات اور لسانی تحاریک کی بدولت سیاسی عصبیت کے خاتمے کی کوششوں سے ہی پھر "ادھر ہم ادھر تم" جیسے نعرے لگتے ہیں۔ خاکم بدہن کسی بڑے نقصان کا اندیشہ ہے مگر، یہ ملک اس وقت مزید کسی بھی ایسی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بیرونی خطرات تو ہمیشہ ہماری ریاست کو درپیش رہے ہیں اب "پشتون تحفظ موومنٹ" کی صورت اندورنی طور پر بھی ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شورش سر ابھار رہی ہے۔ مجھے نواز شریف سے کوئی ہمدردی نہیں مگر خدارا کوئی اس حقیقت کو سمجھے کہ سیاسی انجنیئرنگ ایک ایسے ویکیوم کو جنم دیتی ہے جس میں اقوام کی وحدت کھونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔