کچھ تو سوچو، اے دانا لوگو! - نگہت فرمان

اس کے چہرے کا بھولپن پھیکا پڑچکا تھا، گیسو منتشر تھے اور کپکپاتے لبوں کا ارتعاش اور آنکھوں کی اداسی میری دل کی چبھن اور گلے کی پھانس بن کر رہ گئی تھی۔ وہ ایک زندہ لاش کی طرح دنیا کی گیلری میں لٹک رہی تھی۔

یوں تو میں کار دنیا میں مصروف تھی لیکن دل و دماغ اسی میں اٹکا ہوا تھا۔ وہ اپنے والدین کی پہلی اولاد تو تھی ہی، ننھیال کی بھی پہلی تھی اس لیے سب کی آنکھوں کا تارا اور ایک چمکتا ستارہ تھی وہ۔ ماشااﷲ بھرا پُرا ننھیال اور ددھیال تھا اور وہ اتنی معصوم، محبت کرنے والی کسی کی ذرا سی تکلیف میں خود بھی دکھی ہونے والی تو کیوں نہ لاڈلی ہوتی؟ ہنستی، مسکراتی، چہچہاتی اور ہر وقت شوخ باتیں کرتی۔ اوڑھنے پہننے کی رسیا اریبہ کی کب تعلیم مکمل ہوگئی اور وہ کب بڑی ہوگئی، پتا ہی نہیں چلا۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئی تھی اور یوں اس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا تھا۔ جب بھی اس سے ملتی وہ بظاہر تو سجی سنوری خوش باش نظر آتی لیکن اس کے چہرے پر وہ رونق اور حقیقی خوشی کی جھلک نہیں تھی جو اس عمر کی بچیوں میں نظر آتی ہے۔ میں اکثر اسی سوچ میں رہتی کہ ایسا کیوں ہے؟ بظاہر تو سب ٹھیک ہے پھر یہ نامعلوم اداسی کیوں؟

پھر ایک دن یہ گتھی سلجھ ہی گئی، ہوا یوں کہ میری بیٹی اپنی سہیلی کے قصے سنا رہی تھی کہنے لگی امی آپ کو پتا ہے رافعہ آنٹی کتنا سختیوں میں رکھتی ہیں اریبہ کو؟ تمہیں کیسے معلوم ہوا، مجھے تو ایسا نہیں لگتا؟ میں نے حیرت سے کہا، تو وہ بولی ارے امی منال نے خود بتایا ہے اس کی تو چاچی ہیں۔ اچھا ہاں امی باتوں باتوں میں ذکر آیا تو وہ بتا رہی تھی کہ شادی کے دو، تین دن بعد ہی وہ اس سے برتن دھلوانے اور گھر کے دیگر کام کرانا شروع ہوگئیں۔ نہ کوئی دلہنوں والے ناز نخرے اٹھائے گئے اور تو اور جب نندیں آتی ہیں ان کی فرمائشیں بھی پوری کرنا پڑتیں۔ خیر چھوڑیں ہم بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے وہ تو یہ کہہ کر دیگر قصے سنانے لگی اور مجھے سوچوں کا نیا رخ دے دیا۔

اب مجھ پر عقدہ کھلا اریبہ کا۔ اس کی شادی کے وقت بھی میں نے سوچا تھا کہ اس کا رشتہ بے جوڑ ہے اور دعا تھی کہ نصیب اچھے ہوں، ایک طرف اریبہ جس نے ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں دولت کی فراوانی تھی، گھر میں ملازمین کی فوج رہتی تھی۔ گھومنا پھرنا، کھانا پینا، منہ سے نکلے اور فرمائشیں پوری ہونا اور دوسری طرف اس کے سسرالی لوگ جو محدود آمدنی کی وجہ سے سوچ کے خرچ کرتے نہ نوکر نہ چاکر نہ ایسے عیش بس ایک طرح سے تنگی سے زیادہ کنجوسی سے گذر بسر۔ اصل میں ہمارے معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے۔ نہ لانے والے یہ سوچتے ہیں کہ ہم کس گھر کی بیٹی کو لے جا رہے ہیں، کن آسائشوں کی وہ عادی ہوگی، تو وہ ہمارے گھر میں کیسے گزارہ کرے گی۔ اس کے برعکس اس معصوم سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ ہمارا پورا گھر بل کہ پورا خاندان سنبھال لے، وہ لڑکی جو خود کو نہیں سنبھالتی تھی چند دنوں میں اتنی بڑی ذمے داری کیسے سنبھالے گی۔ نہ دینے والے یوں سوچتے ہیں کہ ہم نے جس طرح رکھا تھا اسے وہ سب مل پائے گا؟ بعد میں والدین پریشان رہتے ہیں ایک طرف بیٹی کا درد بھی ستا رہا ہوتا ہے تو دوسری جانب نباہ کی چاہ بھی ہوتی ہے کہ دوسرا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا، چاہے بچیاں کملا جائیں۔

مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے لوگوں کے اس رویے پر اور میں چیخ چیخ کے یہ کہنا چاہ رہی ہوں، کہ بدلو خود کو، گھر بنانا صرف آنے والی بچیوں کی ذمے داری نہیں ہوتی ان کی بھی ہوتی ہے جو انہیں گھروں میں لے کر آتے ہیں، ان بچیوں کو اپنی بیٹیاں سمجھیں، انہیں محبت و عزت دیں، وقت دیں کہ یہ خود کو آپ کے مزاج میں ڈھالیں اور کچھ آپ بھی اپنے اندر تبدیلی لائیں تاکہ گھر واقعی گھر بن جائے۔ ورنہ یا تو گھر ٹوٹتے رہیں گے یا یہ پھول سی بچیاں مرجھاتی رہیں گی۔