ماں! بھائی کب مرے گا؟ - اسد سلیم

کبھی ایک مغربی مصنف کی کہانی پڑھی تھی کہ کسی گاؤں میں ایک غریب عورت اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس عورت کا بڑا بیٹا شدید بیمار تھا اور موت سے لڑ رہا تھا۔ گھر میں ایک ہفتے سے کھانے کو کچھ نہیں بچا ہوتا۔ بھوک سے چھوٹے بیٹے کی حالت بھی جان لیوا ہوچکی تھی۔ ماں اسی پریشانی میں تھی کہ کہاں سے اپنے بیٹوں کے لیے خوراک حاصل کرے۔ اتفاق سے اگلے ہی دن پڑوس میں ایک آدمی مر جاتا ہے۔ گاؤں والے کھانا پکاتے ہیں جس میں سے کچھ ان فاقوں کے مارے بچوں کو بھی کھانے کو مل جاتا ہے جس سے ان کی جان میں جان آتی ہے۔ تین دن بعد پھر سے فاقے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک دن چھوٹا بچہ ماں سے پوچھتا ہے کہ یہ تین دن کیوں گاؤں والے ہمیں کھانا دیتے رہے؟ ماں نے بتایا کہ یہ یہاں کا رواج ہے۔ جب کوئی مرجاتا ہے تو علاقے کے باقی لوگ اس کے گھر والوں کے لیے کھانا پکاتے ہیں۔ ماں کا جواب سن کر بچہ معصومیت سے پوچھنے لگا، “ماں پھر بھائی کب مرے گا؟”

اس کہانی میں سیکھنے والوں کے لیے بہت گہرا سبق ہے۔ نیفرولوجی وارڈ میں جن لوگوں کے گردے واش ہو رہے ہوتے ہیں، ان کی لسٹ اتنی لمبی نہی ہوتی، جتنی لمبی ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ناکافی مشینوں اور چھوٹے شہروں سے غیر ضروری ریفرل کی وجہ سے waiting پرہوتے ہیں۔ اس فہرست میں کئی دفعہ 200-300 مریض ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پرانی لسٹ میں سے روز کا ایک مریض بھی نکلے تو نئے مریض کی ایک سال بعد باری آئے گی۔ اس فہرست میں سے پرانا مریض تین صورتوں میں نکل سکتا ہے۔ یا تو وہ کڈنی ٹرانسپلانٹ کروا لے، یا کہیں اور چلا جائے یا پھر مر جائے۔

ان مریضوں کو تڑپتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں شاید کہیں کسی گاؤں میں renal failure والا مریض، کوئی جوان، بوڑھا یا بچہ اپنی ماں سے یہ سوال پوچھتا ہوگا کہ ماں گردے واش کروانے والا کوئی پرانا مریض کب مرے گا؟