کتا کہانی اور جنوبی ایشیائی کتے - محمد عرفان ندیم

آپ دنیا کا کوئی بھی ادب اٹھا کر پڑھیں آپ کو اس میں ’’گریڈی ڈوگ ‘‘یا ’’لالچی کتا‘‘ کی کہانی ضرور ملے گی۔ دنیا کے ہر ادب میں کتے کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟ اس کی وجہ کتے کی خصلت، نیچر، وفاداری، جفاکشی اور رتجگی ہے۔

کتا بھیڑیے کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، یہ پالتو جانور ہے اور انسان کا سب سے وفادار دوست ہے۔ کتا دنیا بھر کی ثقافتوں کا اہم جز ہے اور مغربی معاشروں میں کتوں کو اولاد سے زیادہ درجہ دیا جا تا ہے۔ کتے انسانوں کے لیے بے شمار خدمات سر انجام دیتے ہیں مثلا شکار، چوکیداری، غلہ بانی اور جا سوسی وغیرہ۔ ماضی میں کتے مردہ ا ور بے ہوش انسانوں کی شناخت کے فرائض بھی سر انجام دیتے تھے اور اہل روم مردے کو اس وقت تک نہیں دفناتے تھے جب تک وہ کسی کتے سے اس کی تصدیق نہ کر والیتے تھے۔ کتے پالنے کی روایت بہت قدیم ہے اور یہ روایت پچھلے پندرہ ہزار سال سے چلی آ رہی ہے۔ اس وقت دنیا میں آٹھ اقسام کے تقریباً چالیس کروڑ کتے پائے جاتے ہیں، ایک کتا تقریباً چودہ سال تک جی پاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں مختلف رنگوں کے کتے پائے جاتے ہیں لیکن کالے رنگ کا کتا سب سے خطرناک گردانا جا تا ہے۔ کتے کی سونگھنے کی حس عام انسان سے ایک لاکھ سے دس لاکھ تک زیادہ ہے، کتوں کی ایک نسل ’’ بلڈ ہاؤنڈ‘‘ میں یہ حس سب سے زیادہ پائی جاتی ہی۔

کتوں کی اہم خصوصیات میں سیکھنے کا ملکہ، کھیلنے کا شوق اور مالک کی مرضی کے سامنے دم ہلانا شامل ہیں۔ کتوں کا انسانوں کے ساتھ رہنے کا ثبوت بیلجئم کے ایک غار سے ملتا ہے جو 31700سال پرا نا ہے۔ 3 نومبر1957میں جب سوویت یونین نے اپنا راکٹ خلا میں بھیجا تو اس میں پہلی بار’’ لائیکا‘‘ نامی کتا بھی خلا میں بھیجا گیا۔ کتوں کی سننے کی حس بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، کتوں کے کانوں میں 18 ایسے ریشے ہوتے ہیں جو انہیں دائیں بائیں محسوس کرنے اور آگے پیچھے مڑنے میں مدد دیتے ہیں، کتا انسان سے چار گنا دور تک کی آواز سن لیتا ہے۔ اس وقت دنیا میں تقریباً 77.10ملین لوگوں نے کتے پالے ہوئے ہیں۔ کتے انسانوں کو کاٹنے سے بھی با ز نہیں آتے اور ہر سال تقریباً 4.7ملین لوگوں کو کتے کا ٹ جاتے ہیں۔ کتے کے بچے پیدائش کے وقت اندھے ہوتے ہیں اور پیدائش سے بارہ دن بعد ان کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ کہتے ہیں کتے اور بجو میں بڑی عداوت ہوتی ہے، کتا اگر چاندنی رات میں کسی بلند مقام یا مکان پر ہو اور اس کے سائے پر بجو کا قدم پڑ جائے تو کتا بے اختیار نیچے گر پڑتا ہے اور بجو اسے پکڑ کر کھا جاتا ہے اور اگر کتے کو بجو کی دھونی دی جائے تو کتا پاگل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی انسان بجو کی زبان کاٹ کر اپنے پاس رکھ لے تو اس پر کوئی کتا بھونکے گا، نہ حملہ کرے گا۔

کتے کی بری عادتوں میں مردار کھانا، ناپاک اشیا میں منہ مارنا اور بعض دفعہ اپنی ہی کی ہوئی قے کو چاٹنا شامل ہیں۔ کتے کے دانت انتہائی تیز اور نو کیلے ہوتے ہیں اور غصے کی حالت میں کتا اگر پتھر پر بھی دانت مارے تو وہ اس میں بھی گھس جائیں۔ کتے کو جو بیماریاں لاحق ہوتے ہوتی ہیں ان میں جنون بھی شامل ہے، جنون کی حالت میں کتا بھوکا ہو تا ہے لیکن کچھ کھاتا نہیں، پیاسا ہو تا ہے مگر پانی نہیں پیتااور بعض اوقات پانی سے بہت ڈرتا ہے حتٰی کہ اس سے مر بھی جاتا ہے۔ جنون کی حالت میں جو بھی جاندار شے اس کے سامنے آئے یہ اس پر حملہ کر دیتا ہے اور سے کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے، اس حالت میں عام کتے بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور اس کے سامنے نہیں آتے۔ کتوں کے کاٹنے کا علاج مشہور فرانسیسی کیمیا دان لوئی پاسچر نے ایجاد کیا تھا۔ لوئی پاسچرفرانس کا رہنے والا تھا، والد چمڑا رنگنے کا کام کر تا تھا، لوئی پاسچر نے تعلیم مکمل کر نے کے بعد یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کر دیا۔ یہاں اسے بائیو کیمسٹری کے شعبے میں دلچسپی پیدا ہو گئی، اس کی تحقیق سے جرثومیات کا نیا علم وجود میں، پاسچر نے نہ صرف متعدد بیماریوں کے جراثیم دریافت کیے بلکہ حیوانات کے متعدد امراض کا علاج بھی دریافت کیا، اس نے پاگل کتوں کے کاٹنے کا ٹیکہ بھی دریافت کیا۔ 1888میں اس کی خدمات کے اعتراف میں پیرس میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا جہاں مختلف امراض کے جراثیموں اور ٹیکوں سے متعلق ریسرچ کی جاتی ہے۔

کتوں کے حوالے سے امریکہ کی شہرت زبان زد عام ہے۔ امریکہ میں ہر قسم کے کتے وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ ویسے تو امریکہ میں ہر قسم اور ہر رنگ کے کتے پائے جاتے ہیں لیکن آج کل کالے کتوں کی بجائے سفید کتوں کا راج ہے۔ امریکی سفید کتوں نے دنیا بھر میں دہشت پھیلائی ہوئی ہے اور یہ دنیا میں کسی بھی وقت کسی کو بھی کا ٹ جاتے ہیں۔ دیکھنے میں سفید کتے عام کتوں سے شریف اور بھلے مانس دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ اندر سے اتنے ہی زیادہ گٹھیا، بھیانک اورخوفناک ہیں۔ آج کل امریکہ میں ایک سفید کتے کی بہت شہرت ہے، یہ شکل سے ہی خوفناک دکھائی دیتا ہے، یہ جب بھونکتا ہے تو اس کے منہ سے جھاگ ٹپکنے لگتی ہے۔ یہ آج کل آوارہ ہو گیا ہے، یہ کسی کو بتائے بغیر دنیا کے کسی بھی ملک میں گھس جاتا ہے اور جس ملک میں یہ گھس جائے اس کو کاٹ کاٹ کر کھا جاتا ہے۔ اس مشن میں دنیا کے کچھ دوسرے کتے بھی اس اس کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔

کتوں کی ایک قسم لالچی کتے ہیں اور جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ایسے کتوں کی آماجگاہ۔ دنیا بھر کے ادب میں ’’گریڈی ڈوگ‘‘یا’’ لالچی کتا‘‘صرف کہانیوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس ملک میں یہ کتے عملی طور پر پائے جاتے ہیں۔ عالمی ادب میں کتے کو گوشت کے ٹکڑے کی ہوس میں اندھا د کھایا گیا ہے لیکن اس ملک کے کتے ذرا وکھری ٹائپ کے ہیں، یہ گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ اقتدار کی ہوس میں بھی اندھے ہو جاتے ہیں۔ آج کل ان کتوں کی وفاداریاں بدلنے کا موسم ہے اور یہ دھڑا دھڑ اپنی وفاداریاں بدل رہے ہیں۔ یہ کتے کسی مناسب ہڈی کی تلاش میں ہیں، جیسے ہی انہیں نظر آئے گا کہ انہیں یہاں سے ہڈی ملنے کا امکان ہے یہ فوراً اس کے گھر میں چھلانگ لگا دیں گے۔ آج کل ان میں سے اکثر کتوں کو جنون کا مرض لاحق ہو گیا ہے جس کی جہ سے یہ عجیب وغریب حرکتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ کبھی اپنی کی ہوئی قے کو چاٹتے ہیں، کبھی عوام کوکاٹتے ہیں اور کبھی مالک کے قدموں میں سر رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کتوں کی منزل کیا ہے اور یہ کیا چاہتے ہیں کسی کو کچھ سمجھ نہیں۔ لوئی پاسچر نے پاگل کتوں کے کاٹنے کا علاج تو دریافت کر لیا تھا لیکن ان کتوں کا علاج کیا ہے، یہ عوام کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کتوں کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے۔ عوام کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس بار سوچ سمجھ کر کسی کتے کا انتخاب کریں لیکن یہ بات پھر بھی ذہن میں رکھیں کہ بہرحال ہو گا وہ بھی کتا ہی۔

ٹیگز

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.