بچوں کی سوچ کیسے بنائیں؟ - عزیر امین

گھر میں بچے ہوں تو گھر مکمل ہوتا ہے ورنہ فرصت کے لمحات کہاں گزرتے ہیں؟ تبھی تو کہا جاتا ہے کہ جب آپ غمزدہ ہوں تو بچوں سے کھیلیں۔بچوں کی توتلی باتوں اور معصوم ہرکتوں سے ہی گھر میں اک جشن کا سماں رہتا ہے۔ لیکن اس معصومیت کی عمر میں ہی بچے وہ کچھ سیکھ جاتے ہیں جو شاید بڑی عمر میں سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ان کا سیکھا اُس وقت ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس وقت مکمل اپنے والدین اور گھر والوں پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر ان کی عادات اور سوچنے کا زاویہ اسی عمر میں بن جاتا ہے۔جونہی اک بچہ اپنے والدین کی انگلی چھوڑتا ہے اور معاشرے میں دوستوں کے ساتھ کھیلتا کودتا ہے تو یہ وہ عمر ہوتی ہے کہ جب وہ پریکٹس کرتا ہے۔ پھر جوں جوں عمر بڑھتی ہے وہ اسی اک پگڈنڈی پر سوچتا ہے اور اپنی سوچ اور عادات میں پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ تو کیوں نہ ہم اپنی اک ایسی عادت بنا لیں کہ بچے کی عادات کو درست زاویہ مل سکے، اس کے رہن سہن، عادات و اطوار کو اک بہترین سانچہ مل سکے؟ تو بات صرف اہمیت کی ہے، اہمیت کے ٹھیک استعمال کی ہے۔

فارمولا یہ ہے کہ بچے میں اس بات کی اہمیت اجاگر کریں جو آپ چاہتے ہیں کہ وہ کرے اور اس کے غلط کام کو اہمیت دینے کے بجائے، کبھی بٹھا کر اسے اُس غلط کام کے نقصانات سے آگاہ کر دیں۔مگر اس سلسلے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور پہلے اپنا نقطۂ نظر بدلنے کی ضرورت ہے۔جیسے بچہ جب سکول سے واپس آتا ہے تو ہم اس سے اس کی کلاس میں پوزیشن کا سوال کرتے ہیں بجائے اس کے کہ ہم اس سے پوچھیں کہ آج تم نے کیا نیکی کی ہے؟ ٹیچر کو تنگ تو نہیں کیا؟ کسی کا نام تو نہیں بگاڑا، دوست سے لڑے تو نہیں؟ آج کس کس کے ساتھ لنچ شیئر کیا؟ مگر پیار سے !! اس بات کا خیال رکھیے گا کہ بچا آپ کے اس عمل سے نالاں نہ ہو جائے۔ جب آپ بچے سے پوزیشن کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ اک خود غرض انسان بنتا ہے۔خیر !! آپ کے اس عمل سے بچے کا معصوم ذہن میں آپ کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اچھے کاموں کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ وہ سوچے گا: "آج مجھ سے ماما پوچھیں گیں تو بتاؤں گا کہ آج میں نے فلاں اچھا کام کیا ہے"۔ اور یوں آپ کے بچے کے ذہن میں اچھائي کی اہمیت پختہ سے پختہ تر ہوتی چلی جائے گی۔اور برائی سے نفرت دن بَدِن بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ اس کی عادات میں اک انقلاب دیکھنے کو ملے گا

اور دوسری جانب اگر بچہ آپ کے سامنے کوئی برا کام کرتا ہے تو آپ اس کو اہمیت نہ دیجیے۔ اسے مار کر نہ سمجھائیے۔اس طرح بچہ ضدی ہو جاتا ہے۔بلکہ تنہائی میں جب بچےکے ساتھ بیٹھیں تو اسے اس غلط کام کے نقصانات پیار سے سمجھا دیجیے۔ اس طرح وہ بچہ بے عزتی بھی محسوس نہیں کرے گا۔ اور برائی کی برائی کرنے سے اُس بچے کے ذہن میں برائی کے نہ کرنے کی فضیلت بیٹھ جائے گی۔مثلاً اگر بچہ مہمانوں کے سامنے کوئی بد تمیزی کرتا ہے۔یا کوئی غلط کام کرتا ہے تو بجائے اس پر ہنس کر یا ڈانٹ کر اہمیت دیں۔ آپ اسے اِگنور کر دیں اور علیحدگی میں بٹھا کر اسے اس کی پسند کی کوئی چیز دے کر اسے اس بتائیں کہ ایسے کرنے سے اللہ ناراض ہوتے ہیں اور ایسے بچوں سے کوئی بھی پیار نہیں کرتا۔ امید ہے بچا آپ کی بات ذہن میں نقش کر لے گا۔ آج بچوں کی تربیت اک انتہائی اہم موضوع بن چکی ہے۔ کیونکہ ہمارے اس ملک یہی وہ چھوٹی چھوٹی اچھائیاں ہیں جن کا فقدان ہمیں ہر گلی محلے میں دِکھتا ہے۔اود یہی وہ برائیاں ہے جنہوں نے ہمیں جکڑا ہوا ہے۔ تو اگر ہم تہیہ کر لیں کہ بچوں تربیت کے لیے اپنا وقت دیں گے تو یقین مانیے آنے والی نسل ہی اس ملک میں انقلاب کی ضامن ہے۔ کیونکہ جب اک نوجوان میں اچھے برے کی تمیز ہوگی تو وہ وقت دور نہیں کہ دنیا پاکستان کے نوجوانوں کی پاکیزگی کی مثال دے گا۔ کیونکہ آج کے بچے ہی کل کے نوجوان ہیں۔