زندگی کا گہرا دکھ - سعد انور چوہدری

گھر میں بہن بھائیوں کی آپس میں لڑائیاں ہو جانا معمولی سی بات ہے کیونکہ مزاج نہیں ملتے اور ہر وقت کا ساتھ ہوتا ہے۔ بہن بھائی ہونے کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ مزاجوں میں ہم آہنگی بھی ہو، پر ان لڑائیوں کو طول دینا، ان کو بہت زیادہ سنجیدہ لے لینا اور برسوں ایک دوسرے سے بات تک نہ کرنا اچھا اور صحت مندانہ رویہ ہرگز نہیں۔ ان مواقع پر والدین کو سمجھ داری اور ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

میں آج آپ سب سے اپنی داستان شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میرا سارا بچپن بہن بھائیوں کے ساتھ لڑنے جھگڑنے میں گزر گیا۔ ہم خوب لڑتے تھے اور بلا وجہ لڑتے تھے۔ خاص طور پر جب امی ابا گھر میں نہ ہوتے تھے۔ ہم نے پارٹی بازی کر رکھی تھی۔ میں اور سب سے چھوٹا بھائی۔ ہم دونوں کی جوڑی تھی اور ہم تیسرے بھائی کو بہت تنگ کرتے تھے۔ اس کو مارتے تھے۔ خوب لڑتے تھے۔ وہ ہم کو مارتا تھا۔ بہنوں کو بھی خوب تنگ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری اک بار چھوٹے بھائی سے ایسی 'عالمی جنگ' ہوئی تھی کہ میں نے چھ ماہ تک ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود اس سے بات تک کرنا چھوڑ دی تھی۔ آج جب میں اپنے ماضی میں جھانکتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ ان "گھریلو جنگوں" کی وجہ کیا تھی؟ تو مجھے کوئی حقیقی وجہ نہیں ملتی۔ سوائے اس کے کہ سارا بچپن ہم نے والدین اور رشتے داروں کو ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے ہی دیکھا اور یقیناً ہم انہی تلخ رویوں کے زیر اثر پرورش پائی۔

بچپن کی سرحد عبور کرتے اور جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی مجھے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رکھے گئے اپنے اس احمقانہ رویہ کا احساس ہونا شروع ہوگیا۔ اس وقت تک میں گھر سے ہزاروں میل دور یونیورسٹی ہاسٹل میں شفٹ ہوچکا تھا۔ اب میں اپنے برے رویے کی تلافی چاہتا تھا۔ پر شاید اب کافی دیر ہوچکی تھی۔ برسوں کی لڑائیوں سے پھیلائی گئ نفرت صرف اچھی نیت اور نیک ارادے سے نہیں ختم کی جاسکتی تھی۔ بہن بھائیوں کے دلوں میں جو ایک دوسرے کے لیے فطری پیار اور محبت ہوتا ہے اس کی جگہ انتقامی نفرت لے چکی تھی۔ کہ وہ اب بڑے ہو ریے تھے اور بچے نہیں رہے تھے۔ سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو چکے تھے۔ سب نے سکولنگ ختم کر لی تھی اور مختلف شہروں کی اپنی پسندیدہ مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے۔ ایک دوسرے سے ملاقات کا موقع بھی کم ہی ملتا تھا۔ بس زیادہ تر بات چیت واٹس ایپ اور فیس بک سے ہی ہوپاتی۔

چھوٹا بھائی اور بہن گھر ہی میں رہتے تھے کہ انہوں نے اپنے ہی شہر کی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا۔ میں ان کو خوش قسمت سمجھتا تھا کہ ان کو ہاسٹل کی زندگی اور اس کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس بھائی اور بہن کا رویہ میرے ساتھ بہت ہی عجیب تھا۔ بھائی تو خیر کبھی کبھار مجھے لفٹ کروا دیا کرتا تھا اور بات چیت بھی کر لیتا تھا اگرچہ ہمیشہ ہی بدتمیزی سے ہی بات کرتا۔ میں اس پر بھی خوش ہوتا کہ چلو بات تو کر ہی لیتا ہے۔ چھوٹا بھائی اکثر مجھے گفٹس بھی دیا کرتا تھا۔ پر مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میری بہن نے مجھ سے آخری بار کب بات کی تھی؟ غالباً کئی برس گزر چکے ہیں اس نے مجھ سے کبھی بھی بات نہی کی۔ ہماری سلام دعا تک بند ہے۔ میں اس کو موبائل پہ اکثر ٹیکسٹ کیا کرتا تھا تاکہ چلو کسی بہانے سے تو بات ہو۔ اس نے مجھے موبائل پہ بلاک کردیا۔ .فیس بک اور واٹس ایپ پہ بھی میں بلاک شدہ ہوں۔ یونیورسٹی سے سیمسٹر بعد چند دن کے لیے جب میں گھر جاتا ہوں تو بہن کو سلام کرتا ہوں۔ پر کبھی اس نے مجھے جواب نہیں دیا۔ گھر میں کبھی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو اس کا رویہ 'نو لفٹ' والا ہوتا ہے. اگر میں ذرا زیادہ بات چیت کی کوشش کروں تو وہ بہت شدت سے 'ری ایکٹ' کرتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہو مجھ پہ مار دیتی ہے۔ گرم چائے تک انڈلینے کے لیے تیار رہتی ہے۔ ایک بار موسم سرما میں اس نے مجھے ٹھنڈے پانی کا گلاس دے مارا۔ اس کا رویہ صرف مجھ سے ہی ایسا ہے۔ باقیوں کے ساتھ تو وہ بہت خوش مزاج ہے۔ یقیناً میں ہی قصور وار ہوں۔

ان حالات میں ہمارے والدین کا رویہ بھی قیامت کی نشانی سے کم نہیں، بالخصوص میری والدہ۔ میں ماں سے جب بھی اس
معاملے پہ بات کرتا ہوں تو وہ مجھے یہ کہ کر چپ کروا دیتی ہے کہ مجھے بہن سے بات کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ماں نے ہمیں گھر میں الگ الگ کمروں کی الاٹمنٹ کر دی ہے۔ کہ جب میں گھر آؤں تو مجھے بہن سے بات کرنے یا اس کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں۔ اول تو ماں کی کوشش ہی یہی ہوتی ہے کہ میں گھر ہی نہ آؤں۔ ان کا فرمان تھا کہ "تم آتے ہو تو لڑائی شروع ہوجاتی ہے"۔ اگرچہ ہم میں کبھی کوئی ایسی خوفناک لڑائی نہیں ہوئی تھی۔ ماں ہمارے معمولی پیار بھرے اختلافات اور جھگڑوں کو بھی بہت پروجیکٹر کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ غالباً اس پہ یہ خوف طاری رہتا کہ بچے لڑ نہ پڑیں۔ تو اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ ان کو بات تک نہ کرنے دی جائے۔ اس صورت حال میرے والد صاحب کا رویہ بہت ہی مشفقانہ تھا۔ وہ اس ساری صورتحال کو سمجھتے تھے۔ میں بالعموم تب ہی ہاسٹل سے گھر جاتا جب والد محترم دامت برکاتہم گھر میں موجود ہوتے۔

اگر آج مجھ سے کوئی پوچھے کہ میری زندگی کا سب سے بڑا 'ری گریٹ' (regret) کیا ہے؟ تو میں یہی کہوں گا کہ میرا سارا بچپن اپنے بہن بھائیوں سے لڑتے گزرا۔"