’’ غم نہ کریں‘‘: ایک تعارف - احمد توصیف قُدس

’’غم نہ کریں ‘‘ ڈاکٹر عائض القرنی کی عربی کتاب ’’لا تحزن ‘‘کا اُردو ترجمہ ہے جسے غطریف شہباز ندوی نے اُردو زبان میں منتقل کیاہے۔ ریاض(سعودی عرب) کے عالمی شہرت یافتہ الدار العالمیۃ للکتاب لاسلامی پبلشنگ سینٹر نے اِسے چھاپا ہے اور اب تک مختلف ایڈیشنز میں پوری دنیا میں ا ِس کی دس لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوچُکی ہیں۔

’’ غم نہ کریں‘‘ جیسا کہ موضوع سے ہی ظاہر ہے ایک ناصحانہ کتاب ہے۔ حزن و ملال، رنج و غم، یاس و حسرت اور مجبوری و مقہوری کی زندگی گزارنے والا موجودہ دور کا انسان اس کا مخاطب ہے اور ’’انسانی زندگی کا المیہ‘‘ اس کتاب کا موضوع ہے۔ ۴۸۰ صفحات پر مبنی اِس کتاب میں چھوٹے چھوٹے ابواب درج ہیں جن میں انسان کو’’ کرنے اور نہ کرنے‘‘(do's and don'ts)کے کاموں سے آگاہی فراہم کی گئی ہے۔ اِن ابواب میں آیاتِ قرآنی، احادیث، اشعار اور حکایتیں وغیرہ بکثرت شامل ہیں۔ مشرق و مغرب اور قدیم و جدید کی وہ تحقیقات بھی شاملِ کتاب ہیں جو ذرائع ابلاغ، اخبارات و رسائل اور خبر ناموں، ضمیموں اور مجلوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ علاوہ ازیں کتاب میں مختصر کہانیاں بھی پیش کی گئی ہیں کہ جن کے مطالعہ سے بات واضح اور مبرہن ہو جاتی ہے۔

آج اپنے آس پاس کے ماحول کے مطالعہ و تجزیہ سے اولاد ِ آدم ہمیں مایوسی و غمی، بے چینی ورنجیدگی،، بد اخلاقی وبے راہ روی اور حرصِ مال و جاہ میں مبتلا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ اصل میں انسان کی وہ قلبی بیماریاں ہیں جو انسان کو اندر سے دیمک کی طرح کھا جاتی ہیں، نتیجتاً انسان کی زندگی جیتے جی بدترین عذاب کا شکار ہو جاتی ہے۔ ’’ غم نہ کریں‘‘اِن تمام بیماریوں اور برائیوں کے سدباب کا ایک منصوبہ پیش کرتی ہے اور سچ کی عادت، جھوٹ کی برائی، علم کے ساتھ عمل عفو و درگزر، توکل اور صبر و شکر، حق پر استقامت، سخاوت اور خیرات کی ترغیب، بخل، اسراف اور فضول خرچی سے پرہیز، میانہ روی کی تاکید، یتیموں، پڑوسیوں، مسافروں، سائلوں اور غریبوں کی امداد، امانت، ایفائے عہد، معاہدوں کا لحاظ، نیکی اور بھلائی کاتذکرہ، باہمی محبت وغیرہ جیسی اچھی عادتوں کو اختیار کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔

کتاب کے اکثر ابواب ہم مثل و ہم معنی ہیں اور بعض اوقات ابواب کے اس تکرار سے قاری اُکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اِن مضامین کوبار بار پڑھنے سے کتاب کے یہ موضوعات قلب و ذہن میں راسخ ہو جاتے ہیں جس سے یقینا قاری کو فائدہ ہی حاصل ہوتا ہے۔ یوں تو یہ ایک عمومی کتاب ہے اور مذہب و مسلک اور رنگ و علاقے کی تفریق کیے بنا اِسے کوئی بھی شخص پڑھ کر استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کتاب کے مطالعہ سے سب سے زیادہ فائدہ اُسی شخص کو حاصل ہوتا ہے کہ جو واقعتاًدکھوں کا مارا ہوتا ہے اور جس کا سینہ بے چینی، یاس و حسرت اور خوف ورنج کی آگ کی بٹھی سے سُلگ رہا ہوتا ہے۔الغرض یہ کتاب انسان کو پُکار پُکار کر کہہ اُٹھتی ہے کہ ’’ مطمئن و شاد رہیں، خوش ہوں، اُمید رکھیں اور غم نہ کریں‘‘