واقعات اور غلطیوں کا اعتراف، مگر کیسے؟ - فضل ہادی حسن

پہلا واقعہ

یہ واقعہ مئی 2009 کا ہے، جب بونیر آپریشن ’’راہ راست‘‘ شروع ہوچکا تھا، ایک بدقسمت خاندان ٹینک کے گولے کا نشانہ بنا۔ پاچا کلے (پیربابا، بونیر) سے تعلق رکھنے والا رحمانی بخش تھا۔ جو آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک ہائی ایس گاڑی میں اپنے خاندان کے افراد بٹھا کرمردان کی طرف نکلے تھے لیکن راستہ میں کچھ اور مقدر تھا۔ ٹینک اور چند فوجی جوان دیکھ کر رحمانی بخش اور شاید کنڈیکٹرگاڑی سے اترے، ہاتھ اٹھا کر آگے بڑھے تھے کہ ٹینک سے گاڑی پر فائر ہوا اور چند ہی لمحوں میں پورا خاندان تباہ ہو گیا۔ رحمانی بخش کی بوڑھی والدہ، بیوی اور ایک چھوٹی بچی زخمی تھے لیکن اس کے باقی بچے اس کے دو بھائیوں کی بیویاں اور ان کے بچے اور تین قریبی رشتہ دار لقمہ اجل بن چکے تھے۔(اس کی ایک بھابی میرے جاننے والے کی بہن تھی، جبکہ اس وقت متعلقہ خاندان سے میں ملا تھا)۔

مرے ہوئے افراد کی لاشوں کی حوالگی، تدفین اور اس کے بعد کی صورتحال ایک الگ داستان ہے۔ لیکن ریاست کی سلامتی کی خاطر اس بڑی مصیبت اور ظلم کو سہنا پڑا۔

دوسرا واقعہ

یہ واقعہ اپریل 2011 کا ہے، مہمند ایجنسی کی تحصیل، لکڑے شیخ بابا میں فوجی آپریشن کے بعد لوگ نقل مکانی کررہے تھے، راستے میں سیکورٹی اداروں نے خواتین ایک طرف کرکے مرد (بشمول بچے اور بوڑھوں) کو ساتھ لے گئے جن میں سے 38 بے گناہ افراد کو ایک قطار میں کھڑا کرکے بے دردی سے قتل کردیا گیا اور ایک ہی گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دی گئی، ان میں 11 سال کا بچہ اور 85 سال کا بوڑھا بھی شامل تھا۔

10 جون 2011 (پورے دو مہینے بعد) کو سینیٹ میں مہمند ہی کے سینیٹر حافظ رشید اور پروفیسر محمد ابراہیم خان نے پوائنٹ آف آرڈر پر اس دلخراش واقعہ پر اظہار کیا تھا جبکہ 14 جون کو چئیرمین سینٹ کے نام ایک خط اور تفصیلات جس میں 38 افراد کے نام، ولدیت، عمریں اور ایڈریس فراہم کردیے تھے۔ اس واقعہ کے اسباب میں یہ کہا جارہا تھا کہ ان افراد کو محض اس لیے قتل کردیا گیا کہ وہ اپنے گاؤں کے ایک عسکریت پسند کا سراغ بتانے میں ناکام رہے۔ واقعے کے بعد مقامی آبادی کو جب علم ہوا اور اشتعالی کیفیت میں لواحقین نے لاشوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا پولیٹکل ایجنٹ کا لواحقین سے وعدہ کے باوجود سیکورٹی آفیسر نے انکار کردیا تاکہ مقتولین کی لاشیں صحیح طریقے سے دفنایا جاسکے۔ بعد میں عوامی ردعمل کے خطرے کے پیش نظر لاشیں دفنانے کی اجازت مل گئی تھی۔ بلکہ ہر مرنے والے کے لواحقین کو 3 لاکھ روپے دے کر خاموش کرنے کی کوشش بھی کی گئی (رقم لینے سے جہاں کچھ افراد نے انکار کردیا تھا وہاں یہ واقعہ اپنی غلطی کا اقرار بھی سمجھا جاسکتا ہے)۔ ملکی بقاء اور سالمیت کی خاطر مہمند ایجنسی کے باسیوں نے ایک طرف اس دردناک واقعہ کو برداشت کیا وہی عمر خالد خراسانی (جس کا تعلق مہمند سے ہے) جیسوں کی سوچ کو رد کرکے ریاست کے وفادار ہونے کا ثبوت دیا۔

تیسرا واقعہ

یہ واقعہ غالباً 2011 کے آواخر یا 2012 کے اوائل کا ہے۔ ملاکنڈ (ایجسنی) کی ایک تحصیل جو ایجنسی نہ رہی بلکہ ایک ضلع اور بندوبستی علاقہ ہے۔ ایک دوست نے مجھے فون کیا کہ ہمارا ایک پڑوسی جو دسویں کا طالبعلم تھا، شک کی بنیاد پر اٹھایا گیا چند مہینے بعد وہ گھر واپس لوٹ تو آیا لیکن ایک اپاہج اور مفلوج انسان کی شکل میں۔ یعنی ہاتھ پیر توڑنے اور مناسب علاج نہ ملنے کی صورت میں اس کے ہاتھ پاؤں مفلوج لگ رہے تھے۔ چھوڑتے وقت ان کے خاندان والوں سے معذرت کی گئی کہ شک کی بنیاد پراسے اٹھانا پڑا تھا لیکن یہ بے قصور نکلا۔

میرے دوست کا مقصد تھا کہ اگر حامد میر سے بات ہو تاکہ اس پر پروگرام ممکن ہوسکے اور کم از کم متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے کی کوئی سبیل نکل آئے۔ ایک مصروفیت کی وجہ سے میر صاحب سے چند روزبعد رابطہ ممکن ہوسکا، نیز انہوں نے بھی بیرون ملک مصروفیت کا کہا تو بات نہ بن سکی۔ دو ہفتے بعد میر صاحب نے رابطہ کیا کہ کب اس پروگرام کو ریکارڈ کرنے جانا ہے؟ میں نے وقت مانگ کر دوست سے رابطہ کیا تو انہوں نے انکار کردیا کہ چند روز پہلے سیکورٹی اداروں کے اہلکار اس کے گھر آئے تھے اور انہیں خبردار کیا ہے کہ اس واقعہ کی تفصیلات میڈیا پر نہیں آنی چاہئیں ورنہ اس (معذور طالبعلم) سمیت خاندان کے دیگر افراد کی زندگیوں کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ میر صاحب کی یقین دہانی کے باوجود کہ ہم نہ تصویر دکھائیں گے اور نہ نام اور علاقہ کا ذکر کریں گے، لیکن انہوں نے انکار کردیا اورانکار کیوں نہ کرتے جب زندگی کا بھی خطرہ ہو اور اسی حالت ہونے کا بھی خوف۔

یہ تینوں واقعات صرف نمونہ ہیں اور اسے شئیر کرنے سے میری حب الوطنی کو بھی مشکوک نہ بنائی جائے بلکہ ان جیسے بے شمار واقعات ہیں جو فاٹا اور ملاکنڈ ڈویژن میں وقوع پذیر ہوئے ہیں جن میں کافی کے شواہد بھی فراہم کیے جاسکتے تھے اور چند ایک بعد میں میڈیا اور حکومت کے علم میں بھی آئے ہیں۔ لیکن ملک کی سلامتی و بقا اور ملک دشمنوں عناصر کو موقع فراہم کرنے کو ناکام بناتے ہوئے جذبہ حب الوطنی کا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔

اللہ تعالی، جو مالک کائنات، خالق اور ہمارا سب کچھ ہے۔ اگر ایک بندہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور گناہ پر نادم ہو کرتوبہ کریں تو اللہ اس پر خوش بھی ہوتا ہے بلکہ توبہ کرنے والوں سے محبت بھی کرتا ہے "(إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ )" اور فرمان رسول ﷺ کے مطابق ’’ تمام انسان خطاکار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو خوب توبہ کرنے والے ہیں۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’ گناہ سے توبہ کرنے والا شخص ایسا (پاک و صاف) ہو جاتا ہے۔ جیسے اس نے کبھی گناہ ہی نہیں کیا‘‘۔ یہ وقت ہے کہ ریاست اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، اسے ’انا‘ کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور غلطیاں کس نہیں ہوجاتی؟ لیکن ریاست اپنی غلطیوں پر اظہار ندامت کریں تو قوم بھی معاف کریگی اور اللہ بھی معاف کرنے والا ہے۔ جن کیساتھ ظلم و زیادتی ہوئی ہے، انہیں سینہ سے لگا کر پیار اور ریاست کا وفادار سمجھا جائے، ردعمل اور انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو محبت سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جائے تو یقیناً ملک کے اندراٹھنے والی تمام آوازیں خود بخود خاموش ہوجائیگی۔ ان شاءاللہ العزیز

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں