ڈاکٹر اسرار صاحب کا یوم وفات کتنی خاموشی سے - زبیر منصوری

استاد محترم ڈاکٹر اسرار صاحب کا یوم وفات کتنی خاموشی سے گزر گیا۔
دکھ ہوا۔
کمال کا آدمی اللہ نے دنیا والوں کو دیا تھا۔
وہ اس وقت ڈاکٹر بنا جب معاشرے میں عطائی بھی پورے نہ تھے، مگر پھر مرشد مودودی رح کی احساس ذمہ داری کی فکر نے قلب و نظر میں وہ چنگاری پھینکی کہ وہ شخص قرآن ہی کا ہو گیا۔

یوں لگا جیسے وہ قرآن کے ساتھ سویا، قرآن کے ساتھ جاگا، قرآن کے سائے میں چلا، قرآن کے نور سے روشن ہوا، قرآن اس کے رگ و پے میں اتر چکا تھا۔ وہ صبح سے رات تک اسی قرآن کی تحریک کا ہو کر رہ گیا۔ اس کی قادر کلامی ہو یا پاٹ دار آواز کا سحر، اس کے جسم کی توانائی ہو یا ذہن کی سوچنے اور محفوظ کرنے کی استعداد، سب قران کے لیے وقف ہو گئی تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ وہ قرآن کا وہ ''جز دان'' ہے جس نے خود کو اس قرآن کے لیے وقف کر لیا ہے جو خود قرآن کے مقصد آمد کا محافظ بن گیا ہے۔

قرآن اکیڈیمی کی وہ راتیں جب رمضان، قرآن اور ہم ہوتے تھے۔ اس خوبصورت خوشگوار ماحول میں وہ قرآن میں ڈوب کر اسے پیش کرتا تھا، جب وہ اور اس کے صالح صدقہ جاریہ شاگرد انجینئر نوید مرحوم و مغفور اور شجاع الدین شیخ اسی کے اسلوب میں اسی کی طرح جذب کے عالم میں یہ شعر پڑھتے تھے کہ

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی

تو یوں لگتا تھا زبان تو بس حرکت کر رہی ہے، الفاظ کہیں بہت اندر سے، کہیں دل کی گہرائیوں سے نکل رہے ہیں، اور سامنے والوں کے دلوں میں اترے چلے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں نے ان کا کام کیمرے کی آنکھ سے اس وقت محفوظ کر لیا تھا جب ابھی بہت سوں کو اس کا خیال تک نہ آیا تھا، اسی لیے آج وہ نہیں بھی ہیں تو ان کی کمی کم محسوس ہوتی ہے۔ گاہے ڈیجیٹل میڈیا اچانک سے انھیں سامنے لا بٹھاتا، ان سے سنواتا ہے اور ان کی بصیرت کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن مجید کا قانون عروج وزوال: مادی یا ایمانی؟ حافظ محمد زبیر

اللہ ان کے سارے اگلے مراحل کے لیے رحمت کے فرشتوں کو ان کا ساتھی بنا دے۔
ان سے راضی ہو جائے۔
اللہ ان کے بعد والوں کو دل و زبان کی نرمی سے نوازے۔
ان کے رویوں میں خلوص کی چاشنی بھر دے۔
اللہ خیر کے کاموں میں مصروف ساری ہی قوتوں کے
دل عدل سے بھر دے،
انا سے خالی کر دے،
اور انھیں بس اپنا ہی ہو کر رہنے کی توفیق دے دے۔

ڈاکٹر صاحب آپ سدا یاد کیے جاتے رہیں گے
ان شاءاللہ

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں