اے اہل نظر! امجد اسلام امجد

اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
اپنے اخبارات، سیاسی لیڈروں کے بیانات اور ان میں استعمال ہونے والی زبان اور ذہنیت اور میڈیا پر ہونے والے مباحثوں کو دیکھیں اور سنیں تو احساس ہوتا ہے کہ اب شاید خرد بھی خبر سے محروم ہوگئی ہے کہ کسی بھی خبر میں دور دور تک خرد کی موجودگی کا نشان نہیں ملتا اور اس سے ملتا جلتا حال ’’نظر‘‘ کا ہے، نظر والوں نے بھی اہل خرد کے ڈھنگ اپنالیے ہیں۔ نہ خود بات کی تہہ تک پہنچتے ہیں اور نہ ہی کسی کو رستہ دکھانے کے اہل ہیں۔ چند برس قبل اس صورتحال پر ایک نظم ہوئی تھی، اب چونکہ صورتحال سلجھنے کے بجائے مزید بگڑ چکی ہے اس لیے اس کو باردگر دیکھنا لازمی ہوگیا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کی طرح یہ بوجھ بھی مسلسل بڑھتا جارہا ہے اور ہمارا ہر آنے والا بچہ اس ذہنی غلامی کا اپنے بڑوں سے زیادہ مقروض ہوتا چلا جارہا ہے۔

ہے کوئی نظر والا؟

وہ چاند کہ روشن تھا، سینوں میں، نگاہوں میں

لگتا ہے اداسی کا اک بڑھتا ہوا ہالہ

پوشاک تمنا کو، آزادی کے خلعت کو

افسوس کہ یاروں نے

الجھے ہوئے دھاگوں کا اک ڈھیر بنا ڈالا

وہ شور ہے لمحوں کا

وہ گھور اندھیرا ہے

تصویر نہیں بنتی، آواز نہیں آتی

کچھ زور نہیں چلتا کچھ پیش نہیں جاتی

اظہار کو ڈستی ہے ہر روز نئی الجھن

احساس پہ لگتا ہے ہر شام نیا تالا

ہے کوئی دل بینا! ہے کوئی نظر والا؟

میں بنیادی طور پر زندگی کے روشن پہلوؤں کو دیکھنے اور ان کے ساتھ چلنے پر یقین اور ایمان رکھتا ہوں اور اس بات کا بھی قائل ہوں کہ سب نہ سہی، قیام پاکستان سے اب تک ہم نے زندگی کے کئی شعبوں میں بہت ترقی بھی کی ہے اور تمام تر مفاد اور افراتفری کے باوجود چیزیں آگے کی طرف بڑھ رہی ہیں مگر یہ خیال بھی ہمہ وقت دامن گیر رہتا ہے کہ ہم ایک بہت تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے شہری بھی ہیں اور ہماری تمام تر پیشرفت اس لیے بھی تسلی بخش، بروقت اور بامعنی نہیں ہوتی کہ ہمارے اردگرد کی دنیا کے ساتھ ہمارا فاصلہ گھٹنے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے کہ یہ مقابلہ ایک سمندری اور ہوائی جہاز کی رفتار جیسا ہے لیکن اس وقت یہ تاثر مزید گہرا اور تکلیف دہ ہوجاتا ہے کہ ہمارے عوام، اہل فکر و نظر اور سیاستدان سب کے سب نہ صرف اپنے حصے کا کام ٹھیک سے نہیں کر رہے بلکہ ایک دوسرے کے رستے میں ہمہ وقت روڑے بھی اٹکاتے رہتے ہیں۔

چاروں طرف دن رات ہونے والے جلسوں میں نعرہ بازی بھی بہت ہوتی ہے، لوگ بھی کثرت سے آتے ہیں اور پنڈال بھی خوب سجتے ہیں مگر کم و بیش ہر اسٹیج سے سوائے ایک دوسرے کو گالی دینے اور طعنہ زنی کے کوئی کام نہیں ہو رہا۔ بڑے بڑے نامور اور سینئر لیڈران کرام ان پڑھ اور جھگڑالو عورتوں کی طرح ایک دوسرے کو کوسنے دیے جاتے ہیں کہ ہماری بات چھوڑو یہ بتاؤ کہ تم نے اب تک کیا کیا ہے؟

ہر کوئی دعوؤں کا ایک جیسا پلندا اٹھائے پھر رہا ہے جس کی صداقت کا تعین بھی وہ خود ہی کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اقامہ کیس، مجھے کیوں نکالا؟ موٹروے، میٹرو پراجیکٹ، اورنج ٹرین، شجرکاری اور مذہب کے نام پر غنڈہ گردی کے علاوہ اس ملک میں نہ کوئی موضوع ہے اور نہ مسئلہ۔ ہر کوئی اس لُڈو پر سانپ سیڑھی کا کھیل کھیل رہا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ اس ملک کے عوام اور تمام اہل فکر ونظر تمام سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کو اپنی طرف سے ایک منشور دیں اور اس بات کا پابند کریں کہ وہ صرف انہی موضوعات پر بات کریں اور انہی کے حل کے بارے میں اپنا نظریہ اور پروگرام بتائیں یعنی اگر وہ حکومت میں آگئے تو درج ذیل مسائل کے بارے میں ان کی پالیسی کیا ہوگی؟

-1 تعلیم

-2 صحت

-3 امن و امان

-4 خارجہ پالیسی

-5 کشمیر

-6 سی پیک

-7 سوشل سیکیورٹی

-8 پانی اور توانائی کے مسائل

-9 قومی کلچر

-10 شفاف اور بروقت انصاف

اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صرف سیاستدانوں کے کرنے کے کام نہیں بلکہ ہم سب اس کے اسٹیک ہولڈرز میں شامل ہیں۔ عام عوام، میڈیا اور اہل فکر ونظر سب کے سب مل کر چلیں گے تب ہی بات بنے گی کہ رب کائنات کا فرمان بھی یہی ہے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا