طالبان عسکریت پسندی، طالبانائزیشن کو سمجھیں - محمد عامر خاکوانی

سوال : طالبان پاک فوج نے تخلیق کئے، انہوں نے بنائے، انہوں نے مارے اور سب کچھ انہی کا کیا دھرا ہے؟
جواب: پہلے تو یہ مان لیا جائے کہ طالبان کہلانے کے حقوق صرف افغان طالبان کے پاس ہیں، یہ اصطلاح ان کے لئے ہی استعمال ہوئی ، یہ ان کا برانڈ نیم ہے۔ یہ طالبان افغانستان کی خانہ جنگی کی پیداوار ہیں۔ اگر افغانستان کے سپوت یعنی سات جماعتی اتحاد کے کمانڈر ایک دوسرے پر گولیاں برسانا نہ شروع کر دیتے تو طالبان نام کی کوئی مخلوق وجود میں نہ آتی۔ احمد شاہ مسعود اور حکمت یار چار برسوں تک کابل میں ایک دوسرے پر گولے برساتے رہے۔ خانہ جنگی بڑھ گئی، ہر علاقے کا اپنا وار لارڈ بن گیا، قندھار میں ایک وار لارڈ نے لڑکے سے شادی کی اور باقاعدہ ٹینک پر بارات لے کر گیا۔ عوامی ردعمل بڑھا تو مدرسے کے ایک استاد ملا عمر نے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر اس وار لارڈ کو مارا، مدرسے کے طالب، اساتذہ، قبائلی اکٹھے کئے اور ایک گروہ بنا لیا۔ جو بعد میں طالبان کہلایا۔

سوال: اگر طالبان یہ تھے تو پاکستانی فوج اس کا حصہ کیوں بنی؟
جواب: پاکستانی فوج نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو نامی پاکستان کی وزیراعظم جو ایک لبرل، سیکولر پارٹی پی پی پی کی لیڈر تھیں، ان کے ایک سیکولر مزاج وزیرداخلہ نصیر اللہ بابر نے طالبان نامی اس گروہ کو دریافت کیا اور ان کی پشت پناہی کا فیصلہ کیا، اس کے لئے انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حمایت حاصل تھی۔ طالبان کی مقبولیت اور پزیرائی میں سب سے بڑا حصہ افغان کمانڈروں کی خانہ جنگی اور ہمہ وقت کشیدگی نے ڈالا۔ لوگ تنگ تھے، خود ان کمانڈروں کے جنگجو طالبان کے ساتھ ملتے گئے، حکمت یار کے بیشتر ساتھی طالبان کے ساتھ چلے گئے، مجبور ہو کر حکمت یار سائیڈ پر ہوگئے اور طالبان پورے افغانستان پر قابض ہوتے گئے۔ اس میں انہیں پاکستانی اداروں کی حمایت ضرور حاصل ہوگی، لیکن یہی ادارے جب حکمت یار کو سپورٹ کر رہے تھے تو وہ کامیاب نہیں ہوئے، دوسری آپشنز بھی نہیں چلیں۔ طالبان چل گئے ، کیونکہ یہ صاف سلیٹ تھے، اور امن قائم کرنے کا نعرہ لے کر اٹھے ۔ اس لئے طالبان کے بانی فوج نہیں بلکہ سول حکومت کا حصہ ، بے نظیر بھٹو کے دست راست نصیراللہ بابر تھے، جو کہیں سے مذہبی یا بنیاد پرست نہیں تھے۔

سوال : یہ پاکستانی طالبان کیا افغان طالبان کا حصہ تھے ، پاکستانی فرنچائز سمجھ لیں انہیں ؟؟
جواب: پاکستانی طالبان المشہور تحریک طالبان پاکستان المشہور ٹی ٹی پی کا افغان طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ چھیانوے میں افغان طالبان افغانستان میں حکومت میں آئے، نومبر دو ہزار ایک میں ان کی حکومت ختم ہوئی۔ پانچ برسوں میں ایسی کوئی مقامی فرنچائز نظر نہیں آئی۔ کسی نے پاکستانی طالبان کا نام تک نہیں سنا تھا ، دو ہزار تین چار تک۔ اگر یہ افغان طالبان کا حصہ ہوتے تو طالبان حکومت میں کبھی ان کا نام سننے کو ملتا، ان کی جھلک ملتی، یہ افغان طالبان کی حکومت کا حصہ ہوتے، طالبان کا کوئی کم بخت مارا ایک آدھ وزیر ہی ٹی ٹی پی میں ہوتا، بعد میں کبھی نظر آتا۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ نام نہاد پاکستانی طالبان نے کبھی ملا عمر کی بیعت کی اور نہ ہی یہ ملا عمر کے مرکزی نظم کے تابع تھے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ دو ہزار تین سے افغان طالبان نے امریکہ کے خلاف گوریلا جنگ شروع کر دی تھی، ہر سال اس میں شدت آتی گئی، حتیٰ کہ دو ہزار نو ، دس ، گیارہ بارہ میں انکی گوریلا تحریک شدید ترین مرحلے پر پہنچ گئی۔ اس گوریلا جنگ میں ، افغان طالبان کی زندگی موت کی جنگ میں ایک بار بھی پاکستانی طالبان شامل نہیں ہوئے۔ ان کی جانب سے کوئی افرادی قوت کا حصہ نہیں ڈالا گیا، افغان طالبان کو سپورٹ نہیں فراہم کی گئی۔

سوال : پھر پاکستانی طالبان کیسے بنے؟ خود کو طالبان کیوں کہلاتے تھے؟
جواب : نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن تورا بورا کے غاروں سے مقامی افغان وارلارڈز کو رشوت دے کر فرار ہوگئے اور انڈرگراؤنڈ چلے گئے ۔ ان کے کچھ ساتھی بشمول محمد عاطف (ابو حفص المصری) وہاں سے نکلتے ہوئے امریکی بمباری سے ہلاک ہوگئے۔ اسامہ ، ایمن الزوایری اور دیگر البتہ بچ نکلے۔ یہ عرب جنگجو زیادہ تر پاکستانی قبائلی علاقوں میں آ گئے، ان میں کچھ نے جنوبی وزیرستان، بعض نے شمالی وزیرستان میں پناہ لے لی۔ مقامی سرداروں، بااثر لوگوں کو انہوں نے ساتھ ملایا، دوستی، رشتے داریاں قائم کیں ، کہتے ہیں کہ کچے مکان سینکڑوں ڈالر ماہانہ کرایے پر لئے، مقصد یہی تھا کہ مقامی حامی بنا لئے جائیں۔ یہ لوگ یہاں اگلے دو تین سال تک رہتے رہے، حتیٰ کہ امریکہ جو افغانستان میں طالبان حکومت ختم کرنے کے بعد اپنا فوکس عراق میں صدام حکومت بدلنے پر لگا چکا تھا۔ صدام کو ہٹانے ، عراق میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کے بعد دوبارہ افغانستان کی طرف متوجہ ہوا۔ اس دوران طالبان گوریلا تحریک بھی افغٓانستان میں منظم ہو رہی تھی۔ امریکہ نے پاکستان پر دبائو ڈالا کہ القاعدہ کے عربوں، ازبکوں، چیچنوں کو نکال باہر کریں۔ پاکستان نے اس مقصد کے لئےمقامی قبائلیوں پر دبائو ڈالا، نیک محمد اس وقت فرنٹ پر آئے ، اگرچہ پیچھے دوسرے کمانڈر تھے۔ معاہدے بھی ہوئے، چل نہیں پائے، دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔ لیکن بنیادی نکتہ یہی تھا کہ القاعدہ کے کمانڈر وزیرستان ایجنسیوں میں مقیم ہیں اور امریکہ انہیں گرفتار کرانا چاہتا تھا، وہ پاکستان پر اسی لئے دبائو ڈال رہا تھا۔ بہرحال ان غیر ملکی جنگجوئوں کے مقامی حامیوں، رشتے داروں، دوستوں وغیرہ کی مدد سے ٹی ٹی پی یا تحریک طالبان پاکستان وجود میں آئی اور وزیرستان کے محسود قبیلے کے ایک جنگجو بیت اللہ محسود اس کے سربراہ بن گئے۔ افغان طالبان اور اس کے قائد ملا عمر کی مقامی قبائلیوں میں مقبولیت اور اثرورسوخ کی وجہ سے اس نئے گروہ نے اپنا نام پاکستانی طالبان رکھا، رفتہ رفتہ مختلف گروپ ،کشمیری سپلنٹر سیل بھی ان کے ساتھ ملتے گئے اور ٹی ٹی پی کے ڈھیلے ڈھالے پلیٹ فارم سے اتحاد بن گیا۔

سوال : اگر پاکستانی طالبان افغان طالبان کا حصہ نہیں تو پھر انہوں نے اس کی تردید کیوں نہیں کی؟ ملا عمر اسے ڈس اون کر سکتے تھے ؟
جواب: یہ اہم سوال ہے، اسے سمجھنا چاہیے۔ افغان طالبان امریکہ کے ساتھ گوریلا جنگ میں الجھ چکے تھے، ان کا بیس کیمپ پاکستانی قبائلی علاقے تھے ، ان کی مجبوری تھی کہ وہ اپنے اس روٹ، ان علاقوں کو اپنے خلاف نہیں کر سکتے تھے۔ افغانستان میں افغان طالبان کی موجودگی اور اثر تھا، مگر وہاں امریکہ کی ایک لاکھ کے قریب فوج سرگرم تھی، اربوں ڈالر جاسوسوں پر خرچ کئے جا رہے تھے، اس لئے پاکستانی قبائلی علاقے وقتی پناہ لینے کے لئے ٹھیک تھے، اس سپلائی لائن اور روٹ کو پرسکون اور محفوظ بنانا ان کی مجبوری تھی۔ پاکستانی طالبان جو خود کو طالبان اور ملا عمر کے عقیدت مند کہتے تھے، انہیں افغان طالبان کس وجہ سے انکار کرتے، خود سے دور کرتے ؟ ہر پیر کو مرید چاہیے ہوتےہیں، پیر کبھی نئے مریدوں کو قبول کرنے سے انکار نہیں کرتا، جب تک اس کی کوئی بڑی مجبوری نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   شاہد آفریدی کی اصل غلطی آدھا سچ بتانا ہے- محمد عامر خاکوانی

سوال : افغان طالبان، پاکستانی طالبان کے الگ الگ ہونے کی بات مزید وضاحت طلب ہے۔
جواب : دیکھیں سادہ سی بات ہے کہ کسی تنظیم کا جب قائد الگ ہو، اس کا سٹرکچر الگ ہو، اس کا ایجنڈا یعنی مرکزی اہداف الگ ہوں، نظم یعنی تنظیمی سسٹم ، چین آف کمانڈ الگ ہو تو اصولی اور منطقی طور پر انہیں الگ الگ ہی کہنا چاہیے۔ افغان طالبان کے قائد ملا عمر تھے ، ان کا میدان صرف اورصرف افغانستان تھا۔ ان کا ایجنڈا محدود یعنی افغانستان سے غیر ملکی افواج کو نکال باہر کرنا تھا۔ ان کا سٹرکچر، کمانڈر، فیلڈ جنگجو، فنڈنگ سب کچھ الگ تھے۔ تحریک طالبان پاکستان کا قائد بیت اللہ محسود ، میدان پاکستان، ایجنڈا پاکستانی فوج اور پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ کرنا تھا، ان کے کمانڈر، فیلڈ جنگجو، ٹریننگ دینے والے ، پلانر، فنڈنگ کرنے والے حتیٰ کہ حملہ کا سٹائل تک الگ تھا۔ یہ دونوں تنظیمیں البتہ ایک دوسرے کو چھیڑتی نہیں تھی، تعرض نہیں کرتی تھیں۔

سوال : ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی فوج اور ریاست کے خلاف جنگ کیوں شروع کی؟
جواب : اس کے پیچھے القاعدہ تھی۔ نائن الیون کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ایک فیصلہ کیا کہ افغانستان پر حملہ آور امریکی فوج کا ساتھ دینا ، لاجسٹک سپورٹ دینا ان کی مجبوری ہے کہ اقوام متحدہ اس بارے میں امریکہ کو مینڈیٹ دے چکی ہے، لیکن انہیں امریکہ کو مزاحمت دینے والے افغان طالبان کو کچھ سپیس دینی چاہیے۔ ’’اخلاقی مدد‘‘سمجھ لیں، ویسی جیسی ہم مقبوضہ کشمیر میں لڑنے والے جنگجوئوں کو ’’اخلاقی مدد‘‘ فراہم کرتے رہے ہیں۔ دو وجوہات تھیں۔ ایک تو افغان طالبان کی اخلاقی پوزیشن مضبوط تھی، وہ غیر ملکی قابض افواج کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے اور اپنی سرزمین پر لڑ رہے تھے۔ ان کے ساتھ زیادتی ، ظلم ہوا تھا۔ دوسرا امریکہ نے بھارت کو افغٓانستان پر مسلط کر دیا تھا۔ بھارتی ماہرین ہر شعبے میں گھسا دئیے گئے تھے، افغان فوج کے ٹرینروں تک میں بھارتی آ گئے تھے۔ حد یہ ہوئی کہ افغان انٹیلی جنس کی ٹریننگ دینے را کے ایجنٹ اور افسر آئے تھے۔ دنیا کی سب سے بڑی انٹیلی جنسی ایجنسی سی آئی اے خود امریکہ میں موجود ہے اور وہ افغان انٹیلی جنس والوں کو ٹریننگ نہیں دے رہی بلکہ بھارتی را کو موقعہ دے رہی ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ بھارت سے ٹرینڈ یہ لوگ بعد میں پاکستان کو ٹف ٹائم دے سکیں گے۔ حکومت میں شمالی اتحاد چھا گیا تھا، جن کی بھارت مکمل فنڈنگ اور سپورٹ کرتا رہا تھا۔ افغانستان پاکستان کے لئے انتہائی ناپسندیدہ، مخالف اور خطرناک بنانے کی پوری پلاننگ کی جا چکی تھی، پاکستان کے لئے واحد امید افغان طالبان تھے۔ کیا پاکستان کو انہیں سپورٹ نہیں کرنا چاہیے تھا؟ اس کے علاوہ اور آپشن کیا بچی تھی؟ اس لئے پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے آنکھیں بند کرنے اور القاعدہ کے لیڈروں کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اس لحاظ سے درست تھا کہ القاعدہ کے نزدیک پاکستانی ریاست کی کوئی حیثیت نہیں تھی، وہ جغرافیائی ریاست کو مانتے ہی نیہں، وہ گلوبل ایجنڈا لئے لڑ رہے ہیں۔ پاکستان سے القاعدہ کے کئی نامور اور اہم لیڈر پکڑے گئے۔ شیخ خالد محمد پنڈی سے پکڑے گئے، یہ نائن الیون کے ماسٹر پلانر تھے۔ ابو زبیدہ گجرات سے گرفتار ہوا۔ ابو یحیٰ اللبی قبائلی علاقوں میں ڈرون سے مارا گیا، ابوفراج البی کو مردان سے گرفتار کیا گیا، نعیم نور پکڑا گیا، کئی اور بعد میں بھی پکڑے جاتے گئے، جن کا ذکر پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں بھی کیا۔

سوال : کیا پاکستانی فوج نے ڈالروں کی لالچ میں لوگ پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کئے ؟
جواب : کوئی احمق ہی ایسی بات کر سکتا ہے۔ پاکستان نے القاعدہ کے لوگ پکڑ پکڑ کر امریکیوں کو ضرور دئیے ، اس کے علاوہ اور کوئی آپشن بھی نہیں تھی۔ ویسے بھی پاکستانی حکومت ان سب کو پاکستان چھوڑ دینے کا بہت پہلے کہہ چکی تھی۔ ہیڈ منی جس جس کی ہوگی، وہ شائد ملی ہو، مگر اس مقصد کے لئے ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں ڈیڑھ ہزار ارب ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ اربوں ڈالر وہ ملا عمر یا دیگر ممتاز طالبان کمانڈروں کی خاطر دے ڈالتا۔ دو چار ارب ڈالر تو امریکہ صرف حقانی نیٹ ورک کے سراج حقانی کے بدلے دے دیتا کہ انہوں نے افغانستان میں امریکہ کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ یہ کیسی فوج تھی جو اربوں ڈالر انعامات کی مزاحمت کرتی رہی، دنیا بھر سے حقانی نیٹ ورک، کوئٹہ شوریٰ کو بچاتی رہی، اور چند ہزار ڈالروں کی قیمت والے القاعدہ کمانڈر امریکہ کو دیتی رہی؟ اس کا مطلب ہے کہ اس میں ڈالر ایشو نہیں تھا۔ جہاں قومی مفاد تھا، وہاں اربوں ڈٓالر ٹھکرا دئیے گئے، بدترین امریکی دبائو بھی برداشت کیا گیا، برسوں برداشت کیا جاتا رہا۔ طالبان حکومت گرنے کے شروع کے دنوں میں ملا عبدالسلام ضعیف کو ضرور امریکہ کے حوالے کیا گیا، یہ ایک غلطی تھی، مگر شروع کے ہنگامی دنوں میں ہو گئی۔ اس کے علاوہ کوئی طالبان لیڈر، کماندڑ ایسا نہیں جسے امریکہ کے حوالے کیا گیا ہو۔ کسی کے پاس ایسے نام ہوں تو ضرور بتائے۔ اس کا شکریہ ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان سپین سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ ڈاکٹر عرفان مجید راجہ

سوال : کیا ٹی ٹی پی کے حملوں والا قصہ رہ گیا ؟
جواب : ٹی ٹی پی کی قیادت شروع سے القاعدہ کے زیراثر رہی ہے، عرب ، ازبک، چیچن ہی اس کے پلانر رہے ، انہی کی وجہ سے ٹی ٹی پی نے پاکستانی فوج ، اداروں پر حملے شروع کر دیے۔ القاعدہ ان حملوں کی پلانر ، معاون اور فنانسر تھی۔ پولیس، انٹیلی جنس اداروں پر خاص طور سے حملے کئے گئے، جہاں القاعدہ جنگجوئوں کی تفتیش کی گئی۔ حتیٰ کہ جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کیے گئے۔ ان حملہ آوروں میں کشمیری سپلنٹر گروپ بھی شامل تھے۔

سوال : کشمیری سپلنٹرگروپوں سے کیا مراد ہے؟
جواب: کشمیر میں چھ جہادی یا گوریلا تنظیمیں کام کر رہی تھیں۔ سب سے پرانی اور مقامی تنظیم حزب المجاہدین تھی، بعد میں اس کا ایک حصہ کمانڈر بخت زمین کی قیادت میں الگ ہوگیا، اس نے نام البدر رکھ لیا۔ یہ دونوں جماعت اسلامی کے زیراثر رہی ہیں۔ تین تنظیمیں دیوبندی مکتب فکر سے تھیں۔ سب سے پرانی حرکتہ الجہاد الاسلامی ، اس کے سربراہ نے روس کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا تھا۔ اس سے فضل الرحمن خلیل الگ ہوئے اور حرکت المجاہدین قائم کی۔ ایک وقت میں یہ دونوں اکٹھی ہوگئیں اور حرکت الانصار کے نام سے کام کرتی رہیں۔ بعد میں مسعود اظہر بھارتی طیارہ اغوا کرنے کی وجہ سے بھارتی جیل سے رہا ہو کر پاکستان آئے تو انہوں نے جیش محمد بنائی۔ چھٹی تنظیم لشکر طیبہ تھی جس کا تعلق سلفی مسلک سے تھا۔ کشمیر کی دیوبندی مکتب فکر کی جہادی تنظیموں کا عربوں سے خاص اور قریبی تعلق رہا۔ اس لئے القاعدہ کی محبت میں یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔ یہ پاکستانی استیبلشمنٹ کی ڈبل گیم نہ سمجھ پائے اور خود پاکستانی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے۔ حرکتہ الجہاد سب سے زیادہ ٹوٹ پھوٹ گئی، اس کا اہم کمانڈر الیاس کشمیری وزیرستان چلا گیا اور ٹی ٹی پی کو جوائن کر لیا۔ حرکت المجاہدین اور جیش محمد کے مختلف لڑکے، گروپ الگ ہوگئے ، جنہیں سپلنٹرگروپ کہا جاتا ہے۔ یہ سب ٹی ٹی پی کا حصہ بنے اور ٹی ٹی پی کے جنگجوفورس کا اہم حصہ تھے۔ ٹی ٹی پی کے زیادہ تر خود کش بمبار محسود یا وزیرستان، باجوڑ کے تھے ، جبکہ گن فائٹ کرنے والے زیادہ تر لڑکے یہی کشمیری سپلنٹر تھے۔ ان میں سے کچھ لشکر جھنگوی کا حصہ بھی رہے۔ لشکر جھنگوی کے مختلف گروپ بھی ٹی ٹی پی کا اہم حصہ رہے۔ جنرل مشرف نے لال مسجد میں جس آپریشن کی حماقت کی، اس کے بعد بہت سے لڑکے ٹی ٹی پی کے ساتھ جا ملے اور بہت سے حملے اسی وجہ سے انہوں نے کئے۔ یہ سب کشمیری سپلنٹر گروپ بعدمیں پنجابی طالبان بھی کہلائے ، حالانکہ ان میں پنجابی کے ساتھ کچھ سرائیکی بولنے والے اور کچھ اردو سپیکنگ بھی تھے، مگر وزیرستان کے مقامی قبائلی ان غیر پختونوں کو روایتی طور پر پنجابی طالبان کہہ کر پکارتے۔ یوں یہ پنجابی طالبان کے طور پر مشہور ہوگئے۔

سوال : بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستانی فوج نے خود تیار کی تھی؟
جواب : یہ دعویٰ کرنے والے یا تو بددیانت اور جھوٹے ہیں یا لاعلم ۔ ٹی ٹی پی وہ تنظیم ہے جس نے ہزاروں فوجی جوان اور افسر شہید کیے، میجر، کرنل کی سطح سے لے کر میجر جنرل تک کے فوجی ان کے حملوں سے شہید ہوئے۔ آرمی چیف مشرف پر انہوں نے قاتلانہ حملہ کیا۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار جی ایچ کیو میں گھس کر آرمی چیف جنرل کیانی کو یرغمال بنانے کی کوشش اسی ٹی ٹی پی کے ایک گروپ نے کی ۔ اگر خدانخواستہ یہ سازش کامیاب ہوجاتی تو پھر پاکستانی ایٹمی ہتھیار بھی گئے تھے۔ دنیا اکٹھی ہوجاتی کہ جو فوج اپنے چیف کو نہ بچا پائی ، وہ ایٹمی ہتھیار کیسے بچا پائے گی۔ اس لئے یہ دعویٰ تو احمقانہ ہےکہ ٹی ٹی پی پاکستانی فوج نے تیار کیا ، یہ بعد میں مس ہینڈل ہوگئی وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان کو یا پاکستانی فوج کو ٹی ٹی پی کے بنانے سے کیا فائدہ ملنا تھا؟ ایک فیصد بھی نہیں۔ کچھ بھی اس سے حاصل نہین ہوا، الٹا فوج کے لئے خطرات، مسائل پیدا ہوئے۔

سوال : گڈ طالبان، بیڈ طالبان سے کیا مراد ہے؟ ٹی ٹی پی میں سے بیک وقت گڈ اور بیڈ کیسے ہوسکتے ہیں؟
جواب ؛ دراصل گڈ طالبان سے مراد قبائلی علاقوں خاص طور پر وزیرستان ایجنسیوں کے وہ قبائلی کمانڈر تھے جنہوں نے پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے اور وہ بنیادی طور پر افغان طالبان کے اتحادی تھے۔ ان میں سرفہرست وزیر قبائل کے ملا نذیر تھے۔ ان کا گروپ افغان طالبان کو سپورٹ کرتا رہا اور ان کے لڑکے افغانستان جا کر امریکہ کے خلاف آپریشن بھی کرتے رہے۔ اسی طرح حافظ گل بہادر کا گروپ تھا، یہ بھی ٹی ٹی پی سے الگ رہے اور ان کا تمام تر فوکس افغان طالبان اور ان کی مدد تھا۔ اسی علاقہ میں ٹی ٹی پی کے لوگ تھے جو پاکستان ، ریاست اور فوج کے خلاف تھے۔ وہ خود کش بمبار تیار کرتے اور دہشت گردوں کی ملک بھر سے ریکروٹنگ کر کے یہاں تربیت کرتے۔ قاری حسین جو خود کش بمباروں کا استاد، قاری ظفر جو کراچی سے خود کش بمبار بھرتی کر کے وزیرستان لاتا تھا، یہ سب ، ان کے ٹریننگ کیمپس سب جنوبی وزیرستان اور بعد میں شمالی وزیرستان میں موجود تھے۔ فوج اس لئے انہیں بیڈ طالبان یعنی خطرہ کہتی تھی، جب ملانذیر ، حافظ گل بہادر کی بات آتی توعسکری ماہرین انہیں گڈ طالبان کہتے یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستانی ریاست کے خلاف نہیں، فوج کے خلاف حملے نہیں کرتے، غیر جانبدار ہیں، اس لئے ہمیں بھی انہیں نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ ٹی ٹی پی کو کنٹڑول کرنا ہی مسئلہ بنا ہوا تھا، جو لوگ انکے ساتھی نہیں ہیں، الگ ہیں، انہیں خواہ مخواہ نشانہ بنا کر ٹی ٹی پی کا اتحادی کیوں بننے دیا جائے۔ یہ ہے گڈ طالبان، بیڈ طالبان کی کہانی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں