دو رنگی - محمد فیصل شہزاد

بہت عرصہ قبل کی بات ہے، قریب پچیس سال گزرے، ہم کہ جب شاید عمر کے بارھویں سال میں تھے، ابتدائی بلوغ کا زمانہ سمجھ لیجیے کہ جب ابھی مسیں بھیگتی تھیں، دور کے کچھ عزیزوں کی ایک شادی میں شرکت کے لیے ان کے گھر گئے ہوئے تھے. اُن دنوں، یا شاید اب بھی ہوتا ہو، ایک رواج سا تھا کہ مایوں والے دن سے ہی شادی والے گھر میں سارا خاندان اکٹھا ہو جاتا تھا، سو ہم بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ وہاں پہنچے تھے.

ہمیں یاد ہے کہ وہ مایوں کا دن ہی تھا، صبح سے ہی شادی والے گھر میں اک ہنگامہ مسرت بپا تھا، مختلف عمروں کے بچے اپنے اپنے گروپس بنائے اپنی شرارتوں شوخیوں میں لگےتھے، اور جوکچھ بڑے ہو گئے تھے، ٹین ایجر، جوانی جن کے انگ انگ سے اور ہر ادا سے ظاہر ہوتی تھی، وہ اپنی موج مستیوں میں تھے. جو واقعی بڑے تھے یعنی امیاں اور ابا لوگ، وہ بھی اپنے اپنے گروپ بنائے ماضی کے قصے چھیڑ، ایک دوسرے کوخوب چھیڑتے اور بچوں کی طرح کھلکھلاتے تھے.

ہم سے نوبلوغ البتہ بیچ کی بلی بنے ہوئےتھے. گرچہ اس عمر میں نت نئے پیدا ہوتے ہارمونوں سے پہلی بار پنجہ آزمائی کرتے ہم اس عجیب سی جذباتی کشمکش میں بھی تھے کہ جس سےقریب ہر نوبالغ گزرتا ہے، مگر شاید سب سے زیادہ مزے میں بھی.

ابھی جو ماضی قریب میں تازہ تازہ بچھڑے بچپن نے ذرا آواز دی تو، آٹھ نو سال کے بچوں کے ساتھ کدکڑیاں بھی لگا لیں، پہل دوج اور چھپن چھپائی بھی کھیل لیے، اور ابھی جومستقبل کے جھروکے سے اک ذرا جوانی نے جھانک، مخمور نگاہوں سے اشارہ کر دیا، تو بڑے پن کے ایک انوکھے اورخمار آلود احساس میں بھیگتے ہم، سترہ اٹھرہ برس کے جوانوں میں بھی جا گھسے. ان نوجوانوں کی پھر پراسرارانداز میں مٹکتی آنکھوں کو ہم بے خود ہو کر دیکھا کرتے کہ جن سے’’بہت کچھ نیا‘‘ جان لینے کاایک مغرورانہ سا احساس یوں جھلکتا بلکہ چھلکتا تھا، جیسےظرف کی اوقات سے زیادہ اس میں مشروب ڈالا جائے اور وہ چھلک پڑے. گھٹی گھٹی ہنسی ہنستے وہ لڑکے کچھ عجیب پہلودار اور ذو معنی سی باتیں کرتے اور ہم بے چارے کچھ سمجھتے، بہت کچھ مگر نہیں سمجھ پاتے.

یہ بھی پڑھیں:   نکاح والی رات بات، نکاح والی رات ملاقات - صدام حسین

شادی والے گھر میں اس دن شام بھی کسی اپسرا کی طرح اتری تھی، خوشی کے شادیانے بجاتے، مسرت کے گیت گاتے ہوئے. ہم نے دیکھا کہ شام کی چائے کے لیے دیگچی نہیں دیگچا چولہے پر رکھا گیا تھا. گھنٹے ڈیڑھ کے بعد مایوں کی رسم ادا کی جانی تھی کہ جس کی تیاری کے لیے کیا خواتین کیا حضرات، سب نے غضب کی تیاریاں کر رکھی تھیں. چائے کے مرحلے سے گزر کر جن میں سب کو لگنا تھا. خاص طور پر لڑکیوں نے تو ایک دوسری کو مات دینے واسطے لیپاپوتی کے سارے ہی اسباب جمع کر رکھے تھے.

اکھاڑے میں اترنے میں مگر ابھی کچھ وقت تھا کہ تب ہی اچانک ڈور بیل بجی. ہم نے ہی دروازہ کھولا تھا، دیکھا تو مووی کا کمیرہ اور تار وغیرہ لیے دو انکل باہر کھڑے تھے.
اندر آ کر صاحب خانہ کو بتایا تو فرمایا گیا: صحن میں خواتین کو پردہ کروا کر انہیں اوپر چھت پر لے جاؤ، اور سنو اپنی چچی کو کہہ کر دو کپ چائے بھی انہیں دے آنا. ہم نے سعادت مندی سے سر ہلایا اور صحن میں خوش گپیاں کرتی خواتین کو مووی میکر انکل کا بتایا، وہ ہڑبڑا کر جلدی جلدی اٹھیں اور ایک ہاتھ میں چائے کے کپ، دوسرے میں گود کے بچوں کو سنبھال، تیزی سے اندر کمرے میں چلی گئیں.

پردہ ہو گیا تو مووی والے دونوں انکل صحن سے گزرتے ہوئے اوپر چھت پر چلے گئے،
اور تب،
تب ہمیں کوئی بات جیسے چبھی ہو. اک خیال نے کسی ناگ کی طرح ہمارے ذہن میں پھن کاڑھا، اور ڈس لیا.
یہ جو ابھی ہوا، خواتین کو پردہ کروایا گیا، یہ بھلا کون سا پردہ تھا؟
سادہ سے گھریلو حلیے میں تو چھپانے والی چیز (عورت) کو چھپایا گیا.
اچھا کیا، مگر ابھی پون ایک گھنٹے کے بعد سجی سنوری، سارے سنگھار کیے ہوئے یہ خواتین، انہی نا محرموں کے سامنے، کہ جن سے ابھی گھبراتی اور چھپتی تھیں، سامنے بیٹھ کر مووی بنوائیں گی، دلہن کو ابٹن لگائیں گی. اور نامحرم مووی میکر کیمرے کے عدسے سے انہیں تاکتے ہوں گے، انہیں ریکارڈ کرتے ہوں گے، اور پھر اپنے کمروں کی تنہائیوں میں ان کی متحرک تصویروں پر گانے سیٹ کرتے ہوں گے.

یہ بھی پڑھیں:   حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! ثمینہ اقبال

اتنی کم عمری کے باوجود ہماری بدتمیزی سمجھیے یا بےباکی کہ بڑوں کی یہ دو رنگی ہم نے ان پر واضح بھی کر دی، لڑکیوں پر اپنا اشکال واضح کر دیا.
کچھ دیر تو خاموش ہی کھڑی رہ گئیں، کچھ جواب جو نہ بن پاتا تھا، مگر پھر ایک چچی نے شوخی سے ایک دھموکا ہماری کمر پہ جڑ دیا، چل یہاں سے، بڑا آیا کہیں سے ملا…!
ملا تو چپ ہو گیا مگر سچ تو یہ ہے کہ شہر بھر کے رذیل تو کیا، شریف گھرانوں کی پردہ دار لڑکیوں کو بھی اگر سج دھج سے تیار کسی نے دیکھا تھا تو وہ مووی کی نحوست سے مووی میکر اور اس کا اسسٹنٹ تھا. کیوں کہ ان پردہ دار لڑکیوں کا برقع رواجی تھا، ان کا پردہ محض رسمی تھا!

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.