سید منور حسن، منظور پشتین اور مستقبل کا سورج - راؤ اسامہ منور

کچھ عرصہ پہلے ایک دوست کے ساتھ تیمرگرہ (دِیر) جانے کا اتفاق ہوا، ملاکنڈ کے علاقے تک پہنچے تو آگے ایک آرمی چیک پوسٹ نظر آئی، ہمارے ہاں جیسے عام چیک پوسٹس ہوتی ہیں، اسی طرح کی یہ تھی، سوچا ویسے ہی سیکیورٹی دکھاوے کے لیے بنا رکھی ہوگی، یہاں سے آرام سے گزر جائیں گے، لیکن قریب پہنچنے پر دیکھا کہ گاڑیوں کی ایک لمبی قطار وہاں موجود ہے، اور ہر گاڑی کی ایک ایک سواری کا شناختی کارڈ چیک کیا جا رہا ہے. حیرت ہوئی کہ اپنا ملک، اپنا شہر، اپنے لوگ، پھر اس قدر سختی کیوں؟ دوست نے بتایا کہ ہم کئی سالوں سے اس صورتحال سے دوچار ہیں، آپ کو تو یہ سب دیکھ کر حیرانی ہو رہی ہے جبکہ ہماری تو پریشانی بھی کہیں کھو چکی ہے، اب بس برداشت ہی بچی ہے جو کر رہے ہیں.

واپسی پر لاہور کے کچھ ساتھی ساتھ تھے، چیک پوسٹ پر موجود سپاہی نے شناختی کارڈ نکالنے کا کہا تو ہم ازلی بےپروائی سے شناختی کارڈ سامان سے ڈھونڈنے لگے، اس انڈر میٹرک فرعون کو لگا کہ شاید ہم حکم عدولی کر رہے ہیں تو ظالم نے بھڑکتے ہوئے اپنی زبان سے میٹرک فیل ہونے کا ثبوت دیا، رویہ ایسا تھا جیسے ہم کوئی ملک دشمن لوگ ہیں. بہرحال یہ سب برداشت کیا اور اپنے پختون بھائیوں کی برداشت کو شاباشی دیتے واپس آپہنچے.

اسی طرح کچھ عرصہ پہلے کشمیر جانے کا اتفاق ہوا، فیض آباد پہ ایک پولیس چیک پوسٹ پر روکا گیا، گاڑی میں سب لوگ پنجابی یا کشمیری تھے جبکہ دو پٹھان تھے، ایک پولیس والے نے کینہ توز نظروں سے گاڑی میں جھانکنا شروع کیا اور باقی کسی فرد کو کچھ بھی کہے بغیر دونوں پختون باہر بلوا لیے. پھر اس نے تلاشی کا جو عمل شروع کیا تو اسے دیکھ کر ہمیں شرم آنے لگی. تلاشی لے کر اس نے ان دونوں کو واپس گاڑی میں دھکیلا اور روانہ کردیا. اندازہ کریں کہ بھری ہوئی گاڑی میں سے صرف ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کو نکالنا، انہیں غدار کی نظر سے دیکھنا، بھنبھوڑنے کے انداز میں ان کی تلاشی لینا. کس قدر ذلت آمیز رویہ تھا جو ان بےچاروں نے برداشت کیا، یہ سب دیکھ کر میرا خون کھول رہا تھا. آپ ذرا دیر کو سوچیں کہ جن کے ساتھ یہ ہوا ان کی کیا حالت ہوگی.

پختون بھائیوں سے جو کچھ معلومات لی ہیں، ان میں بھی یہی سامنے آیا کہ پچھلے کچھ عرصے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افراد تو ایک طرف اُن کا کوئی گھر، گھر کا کوئی کمرہ، کمرے کا کوئی کونہ بھی "مقدس ہاتھوں" کی تلاشی سے محفوظ نہیں رہ سکا. سینکڑوں گھروں کے چراغ اپنی ہی فورسز کے ہاتھوں گُل ہوئے، اور افسوس کا مقام تو یہ رہا کہ آج تک کسی کو اغوا کرنے اور مارنے کی کوئی وجہ بھی ان کے پیاروں کو نہیں بتائی گئی. یہ وجہ بتانے کے لیے انہوں نے پالشیے رکھے ہوئے ہیں جو ہر موقع پر کہتے ہیں 'بس جی دہشت گرد تھا، مار دیا'. کوئی بھی غیرت مند شہری یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کے اپنے ہی ملک میں، اسی کے ٹیکس کی ادائیگی سے چلنے والی فورس اس کے ساتھ یہ سلوک کرے.

یہ بھی پڑھیں:   حسین فاروق مودودی کی کتاب اور اپنے حصے کی گواہی - محمد عامر خاکوانی

ہر ذی شعور پاکستانی پختون بھائیوں کے اس دکھ میں برابر کا شریک رہا ہے، ان سب پاکستانیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے سید منور حسن نے بہت سال پہلے کہا تھا:
"اغوا برائے تاوان والوں کو لوگ چور، ڈاکو اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں، لیکن ہمیں حیا آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ یہاں ہماری اپنی فورسز اپنے ہی نوجوانوں کو اغوا کر رہی ہیں، کاش یہ ہماری فورسز کے لوگ نہ ہوتے، کوئی چور اور ڈاکو ہی ہوتے."

آگے چند الفاظ میں سیدی نے اُن ہزاروں پختون ماؤں کے دل کی بات کہی جن کے جگر گوشے اس جبر کا شکار ہو کر ان کی آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے دور ہوگئے:
"خدا کرے ان فوجیوں کے بیٹوں کے ساتھ بھی، ان اغوا کرنے والوں کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو، میں کوئی بددعا نہیں دے رہا لیکن چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس دنیا کے اندر ان کی بدمعاشی کا بدلہ دکھائے کہ یہ رو رو کر حالات کی خرابی کو دیکھیں اور ان کا کیا ان کے سامنے آئے."

اسی طرح بہت سی جگہوں پر سید صاحب کا مؤقف بہت واضح اور دلیل سے پُر تھا جس کے مطابق عام لوگوں کو تنگ کرنے کے بجائے دنیا کی نمبر ون فورس ایسے طریقوں سے بھی دہشت گردوں کا خاتمہ کرسکتی ہے جو عوام کے لیے بےضرر ہوں.

سید صاحب کی باتیں اس وقت لوگوں کو سمجھ میں نہیں آئیں، خود اپنی جماعت کے لوگ انہیں دیوانہ کہتے رہے، "مقدس ادارے" سے پنگا لینا اور ان کے "مقدس کام" میں روڑے اٹکانا اس وقت لوگوں کو پسند نہیں آیا، لوگ یہی کہتے رہے کہ سید منور حسن فوج کی مخالفت دراصل دہشت گردوں اور طالبان کی ہمدردی میں کر رہے ہیں، لیکن ہمارے 'حال' نے ثابت کیا کہ اس شخص کا مستقبل کو دیکھنا عین اسی طرح تھا کہ گویا مستقبل کا نقشہ اس کے سامنے رکھ دیا گیا ہے اور وہ پکار پکار کر لوگوں کو آنے والے خطرات سے آگاہ کر رہا ہے.
سید منور حسن کا کردار شفاف تھا، ان کی بات میں وزن تھا، ان کی دلیل میں طاقت تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سب کے پیچھے ان کا خلوص تھا، پاکستان کے لیے اور اس کی عوام کے لیے محبت تھی لیکن لوگوں نے سمجھنا تھا نہ سمجھا.

یہ بھی پڑھیں:   حسین فاروق مودودی کی کتاب اور اپنے حصے کی گواہی - محمد عامر خاکوانی

اب لوگ بخوبی یہ بات سمجھ جائیں گے، منظور پشتین اٹھا ہے، پختون تحفظ موومنٹ کھڑی ہوئی ہے، پشتین ایک فرد سے ایک تحریک بننے کا سفر طے کر رہا ہے، اس کے ساتھ چلنے والے کوئی سیاسی مداری نہیں، کوئی کاروباری افراد بھی نہیں، بلکہ فریاد کرتی مائیں ہیں جن کے بیٹے اغوا کرلیے گئے، آنسو پونچھتے باپ ہیں جن کے بچوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا، روتے بلکتے لوگ ہیں جن کے خاندان تباہ کردیے گئے. دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مظلوم نے متحد ہو کر ظالم پر ہاتھ ڈالا ہے تو اس کے ظلم سے چھٹکارا پا کر ہی ہاتھ پیچھے کیا ہے.

منظور پشتین کا پشاور میں جلسہ ہوا اور آج خبر ملی کہ دِیر سے فورسز کو ہٹا لیا گیا ہے، اب سکیورٹی کے لیے عام پولیس والے تعینات ہوں گے، خبر نے تصدیق کردی ہے کہ اب واقعی لوگوں کو سمجھ آ چکی ہے، لیکن اب مستقبل کا تعین منظور پشتین کرے گا. سید منور حسن کی بات سمجھ نہیں آئی تھی، منظور پشتین کی آجائے گی، وہ جن کو منظور کا بیک گراؤنڈ نہیں پتا، وہ جو پریشان ہیں کہ یہ کسی کا مہرہ نہ ہو، وہ جنہیں اس کے طریق کار پر اعتراض ہے، وہ جنہوں نے سید منور حسن کو جھٹلایا تھا، اب وہ سوچتے رہ جائیں گے، کیونکہ اب بازی منظور پشتین کے ہاتھ میں ہے اور لاکھوں افراد اس کے ساتھ ہیں. دیکھتے ہیں مستقبل کا سورج کیا دکھلاتا ہے؟ اور ہم تو بس دیکھ ہی سکتے ہیں.