دکھ بھری داستان 2 - عظمیٰ ظفر

"اوئے باؤ سرور! کدھر جارہے ہو؟"

فرید نے ایئر فون ایک کان سے نکالتے ہوئے کہا اور سرور کے سامنے آگیا۔ "جانا کدھر ہے؟ آرہا ہوں دکان سے، گھر ہی جاؤں گا، سسرال تو جانے سے رہا۔"

سرور نے تھیلی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے اپنی گرفت مضبوط کی، مبادا فرید اسے چھین لے۔

"اوئے! اس میں کیا ہیرے موتی لے جارہا ہے؟" فرید کی ایکسرے جیسی نظروں نے تھیلی کی طرف دیکھا۔ مجھے پتہ تھا بنا بتائے اب میں یہاں سےنکل نہیں سکتا تھا، اس لیے بولنا ہی پڑا۔ "کمر کس، مخانے اور گوند ہے۔ بڑی آپا کا خیر سے چوتھا منّا ہوا ہے، ان کے لیے حلوہ بنانا ہے۔ اماں لے کر جائیں گی ساہیوال"۔

"او… اچھا اچھا! پھر سے ماما بن گیا، مبارکاں مبارکاں!" فرید نے زبردستی مجھے گلے لگایا تو ایک خوشگوار مہک اس کے کپڑوں سے آئی۔

"او پیچھے ہٹ! یہ بتا کون سی خوشبو ہے؟ کب خریدی؟ پہلے تو کبھی ایسی نہیں لگائی۔" میں نے اس سے پوچھا۔ "سرور پیارے! یہ بتا پہلے کبھی کچھ خریدا ہے میں نے؟ بھابھی کے کمرے سے اڑائی ہے پرفیوم کی شیشی، ان کا بھائی لایا تھا ولایت سے، رب سے ایک ایک کو دکھا رہی تھیں۔ اب دیکھنا غم سے نڈھال ہوں گی۔ "

"زنانی خوشبو نہیں لگاتے پاگل!" میں نے امی جی کے اسٹائل میں کانوں کو ہاتھ لگایا۔

"کیوں؟ کون سے جن بھوت چمٹ جائیں گے مجھے؟" فرید بھی اپنے نام کا ایک ڈھیٹ تھا۔ "ویسے یہ حلوہ بھی تو ہی بنائے گا۔ ہے نا؟" اس نے تصدیق چاہی۔

"قسم سے سارے زنانے کام تو تُو کرتا ہے اور پاگل مجھے کہہ رہا ہے۔ میں تیری جگہ ہوتا نا تو کب کا گھر سے بھاگ جاتا۔" فرید نے میری سوئی ہوئی مردانہ غیرت کو جیسے جگایا۔

"رہنے دے،" میں نے جوش آتے ابال کو یکدم ٹھنڈا کیا۔ "یاد نہیں ایک مرتبہ میٹرک کے امتحانات کے بعد بھاگا تھا، جب اماں نے درجن بھر رضائیوں میں سلائیاں ڈالنے کے لیے دی تھیں؟ موٹے سُوئے نے کیسا چھید کردیا تھا انگلیوں میں؟ بھاگ بھاگ کر ٹانگوں میں درد الگ ہوگیا تھا۔ داتا دربار سے ایک وقت کا کھانا بڑی مشکل سے ملا تھا۔ جیب میں ایک دھیلا نہیں تھا، خود ہی واپس آگیا۔ اور امی جی کی حالت دیکھی تھی؟ میرے جانے کے غم میں بھوکی بیٹھی تھیں۔" چشم تصور میں امی کو دیکھا، جنھیں خالہ دلاسہ دے رہی تھیں۔

"اچھا یار! میں چلتا ہوں بہت کام پڑے ہیں۔" میں نے قدم آگے بڑھائے۔ سورج کی تیزی سے لگ رہا تھا کہ کافی دیر ہو چکی ہے۔

"ویسے حلوہ بن جائے تو مجھے بھی بھیجنا۔" فرید نے ندیدے پن سے کہا۔

"اصلی گھی لے آنا پھر مل جائے گا۔ " میں نے جواب دیا۔

"خیر سے بڑی جلدی آگیا پتر…، " گھر میں گھستے ہی امی نے کرارا استقبال کیا "سسپنس ڈائجسٹ مل گیا کیا؟"

میں اپنی جگہ سے اچھل پڑا کہ انہیں کیسے خبر ہوگئی کہ میں اب خواتین ڈائجسٹ چھوڑ کر سسپنس ڈائجسٹ پڑھنے لگا ہوں۔ (فرید تیری خیر نہیں۔)

"یہ سب مصالحے نکال کر رکھے ہیں۔ اچھی طرح بھون کر حلوہ بنانا۔ ہلکی آنچ پر چمچ چلاتے رہنا اور خبردار! جو ذرا سا بھی پیندے سے لگے یا چکھ چکھ کر آدھا کیا ہو تو۔

"میں اتنی دیر میں بازار سے ضروری چیزیں لے آؤں۔ واپسی پر مولوی صاحب کے گھر سے ہوتی ہوئی آؤں گی۔ ان کی بیٹی کی شادی ہے اگلے مہینے، مبارکباد دے آؤں۔ میرے پیچھے تو تو جانے سے رہا مبارک دینے، اور سن! سالن رات کا بچا ہے روٹیاں ڈال لینا، دن میں وہی چل جائے گا۔ رات میں مولی کے پراٹھے بنا لینا بس!

" اور ہاں کمرے میں کپڑے رکھے ہیں استری کرنی ہے ان پر۔ میں چلوں اب رات کو ٹکٹ بھی لے آنا۔ کل سویرے کی بس سے نکلوں گی۔" امی چلتے چلتے پلٹ آئیں۔

"اور ہاں! تیری چھٹکی آپا نے بڑی تعریف کی ہے تیرے انڈوں کے حلوے کی۔ دل چاہے تو بڑی آپا کے لیے بنا لینا۔ وہ بچی کون سا روز روز آتی ہے ہم سے ملنے، سوغات ہی لے جاؤں گی۔"

مگر امی! اتنے سارے کام؟ آپ کچھ تو رحم کریں اس اکیلی جان پر۔" میں چیخ پڑا۔

(چھٹکی آپا نے کون سا بدلہ نکالا ہے اکلوتے بھائی سے؟ غم کے مارے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ )

"دیکھ سرور! نخرے نہ دکھا مجھے،" امی نے تھیلی سے بقیہ میوے نکال کر مصالحے میں شامل کیے۔ "واپسی پر جب تیمور تیرے لیے تھیلے بھر بھر کر بھنے چنے اور مالٹے دے گا تو واپس کر دوں گی۔ پھر نہ کہنا کچھ لے کر نہیں آئیں۔"

امی نے کب لحاظ رکھنا تھا میری لالچ پنے کا، جانتی ہیں مجھے پسند ہیں دونوں۔

میرے لیے کھڑے ہونا مشکل ہوگیا تھا، میں نے دیوار کا سہارا لے لیا۔ امی کے فرمان تھے یا آئینی بل؟ یکے بعد دیگرے جاری ہو رہے تھے جن سے میں انکار بھی نہیں کر سکتا تھا۔

اماں نے اپنی چپل پیروں میں ڈالی اور سفید چادر کی بکل مار کر نکل پڑیں۔

قارئین! دن میں تارے اگر کسی کو نظر آتے تھے تو وہ میں ہی تھا!

کاموں کا ڈھیر الگ تھا، جو امی نے بریکنگ نیوز سنا دی۔ کمرہ دور تھا ورنہ دادا کی بندوق سے فائر کرتا اور خالی گولیاں اپنے سینے میں اتار لیتا۔ دل جیسے ٹوٹ گیا تھا۔ مولوی کی بیٹی کی بھی شادی ہو رہی ہے۔ ایک مولوی صاحب ہی تو تھے جو اسے شریف اور مظلوم سمجھتے تھے۔ ورنہ تو امی جی نے ساری لڑکیوں کو آپا بولنے کی عادت شاید گھٹی میں ڈال کر پلا دی تھی، جو خود بخود منہ سے "سلام آپا" نکل جاتا۔ یا ساری لڑکیاں اتنی ننھی ہوتیں کہ وہ خود ہی "سلام سرور ماموں" کہہ دیتیں اور گل ہی مُک جاتی۔ ایک فرید اور میں ہی کنوارے تھے، جو لُور لُور پھر رہے تھے۔

فرید تو اس مرتبہ پُر امید تھا کہ اس سال اس کی شادی کے چاول پک جائیں گے مگر عین رشتے والے دن اس کی بھینس مر گئی اور چاچا اس کے غم میں بیمار پڑ گیا بات آئی گئی ہوگئی۔

تب سے وہ "حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے" گنگنانے لگا ہے اور ہر بھینس کو غصے سے دیکھتا رہتا ہے۔

فرید تو خیر اپنی موٹی توند کی وجہ سے بھی اکثر نااہل ہوجاتا ہے مگر میرے سہرے کے پھول پتہ نہیں کیوں نہیں کھلنے پر آرہے؟ جب کہیں بات بنتی ہے تو پچھلی چھ بہنوں کی آپس میں نہیں بنتی۔ ہر ایک اپنی کسی دوست یا نند کو اپنی بھابھی بنا کر لانا چاہتی ہیں اور امی اپنی پسند سامنے رکھ دیتیں ہیں۔ یہ دکھ بھری داستان الگ غم زدہ ہے پھر بتاؤں گا۔

میرے ارمان حلوے کے ساتھ بھنتے جاریے ہیں، شاید تھوڑے سے لگ بھی گئے ہیں۔

اس سے پہلے کہ امی آجائیں ان کے کلف لگے کپڑوں کو استری بھی کرنی ہے۔ فرید سے گھی مانگتا ہوں انڈوں کا حلوہ بھی تو بنانا ہے۔ کوئی کام ہو تو آواز دے دیجیے گا۔ یاد ہے نا مجھے کون کون سے کام آتے ہیں۔

باقی باتیں پھر سہی۔

ٹیگز

Comments

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں