مانسہرہ کا قبرستان - سائرہ فاروق

آبائی گاؤں جانے کے لیے مانسہرہ کے اس قبرستان میں آنا پڑتا ہے۔ اس قبرستان کے ساتھ لاری اڈا ہے، جہاں مختلف قصبوں میں جانے والی گاڑیاں مسافروں سے کھچا کھچ بھرتی ہیں، گویا یہ قبرستان بغیر چار دیواری کےویٹنگ روم جیسا ہے، جہاں سواریاں گاڑی کے انتظار میں آ کر بیٹھ جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبرستان میں بہت سے کردار نظر آتے ہیں۔ جیسے پکوڑوں کا تھال سر پر اٹھائے خضاب زدہ خشخشی داڑھی والے بابا جی،اپنی منحنی سی آواز میں صدا لگاتے نظر آتے، جن کے تھال میں آلو کے پکوڑے اور ساتھ میں سٹیل کی مخروطی صراحی نما برتن میں کھٹی میٹھی چٹنی ہوتی۔

یہیں پر ایک اور مضبوط دبنگ کردار چوڑی والی کا ہے، جس کا مضبوط قد کاٹھ، سانولا رنگ،چہرے پر عجب بے نیازی، نظریں کلائیوں میں چوڑیوں پر جمی،مشتاق ہاتھوں سے اپنے کام میں مگن چوڑیاں پہناتی۔ اپنے اردگرد کے مناظر سے لاتعلق یہ چکنا سانولا چہرہ عجب کشش رکھتا۔ ایک عجیب بات یہ بھی مشاہدے میں آئی کہ خواتین اس سے رازونیاز بھی کرتی پائی جاتیں۔ پیچیدہ امراض، بچوں کا ضائع ہو جانا،ساس نند سے لڑائی کے قصے، اپنی گھریلو پریشانیاں کہ جن کا برملا اظہار کرتیں۔ گویا یہ قبرستان پسی ہوئی مظلوم خواتین کا ہائیڈ پارک بھی تھا، جہاں وہ اپنے دل کے پھپھولے آزادی کے ساتھ اور اس یقین کے ساتھ کھولتیں کہ انہیں کوئی سن رہا ہے، جو صرف سن نہیں رہا بلکہ ان کے مسائل کا حل بھی پورے اعتماد کے ساتھ بتا رہا ہے۔ عموماً بانجھ خواتین اور بار بار ابورشن سے بے حال خواتین کو حکیم کے نسخے اور تعویذ چند پیسوں کے عوض دے کر انہیں اطمینان کی پڑیا بھی تھما دیتی، جنھیں پورے اعتماد کے ساتھ دوپٹے کی چوک سے باندھ لیا جاتا اور پھر یہ چوک اپنی ہتھیلی میں بند کر لی جاتی کہ مبادا گم نہ ہو جائے۔ گویا یہ قبرستان اک مایوس عورت کے لیے مطب کے فرائض بھی انجام دیتا۔

قبرستان کے پہلو میں سے گزرتی سڑک پر بنی کباب کی دکانیں اور ان کی خوشبو اس پورے قبرستان میں بھٹکتی رہتی۔ خواتین انتظار کی کوفت سے بچنے کے لیے نیچے سڑک پر موجود دکانوں سے سودا سلف خریدنے میں مشغول ہو جاتیں یا پھر بھوک مٹانے کے لیے کباب خریدتیں اور بلا جھجھک کسی قبر کی اوٹ میں بیٹھ کر اخبار میں لپٹے نان کباب کھول دیتیں۔ عجب سی بھینی بھینی خوشبو نتھنوں سے ٹکراتی تو بھوک چمک اٹھتی گویا یہ قبرستان ایک کھابے کا مقام بھی رکھتا ہے۔

اس بار میرا جانا ہوا تو معلوم ہوا وہ چوڑی والی مر گئی۔ دنیا سے نہ ہارنے والی دل کے ہاتھوں مار کھا گئی۔ یعنی اب کی بار تمام مناظر میں سے ایک منظر کم تھا، وہ منظر جو ایک عورت نے اپنے بلند حوصلے سے بنایا۔ میرے دل کو اک ٹھیس سی لگی اور آنکھیں بھیگنے لگیں، مگر آج اسی کے گھرانے کی عورتیں بھیک چھوڑ کر رزقِ حلال کی مشعل تھامے اس پیشے سے منسلک ہیں اور اسی جگہ بیٹھی ہیں گویا منظر وہی ہے مگر اک تصویر کی کمی ہے۔ مگر مجھے بہت خوشی ہوئی جب میں نے،کچھ چیزوں کے اسٹال اضافی دیکھے،یعنی اب چوڑیوں کے ساتھ ساتھ منیاری بھی چل رہی تھی اور خواتین کا رش بھی پہلے سے زیادہ تھا۔ اب ان کے حالات کافی بہتر تھے،جانے کیوں اک اطمینان سا دل میں اترا۔

پتہ نہیں لوگ منظر سے کیسے غائب ہو جاتے ہیں؟ حالانکہ اپنی جگہ پر موجود برگد کا بوڑھا درخت،جس کی موٹی جڑیں اور پھیلی شاخیں اپنے اندر بہت سے مناظر کی گواہ ہیں۔ وہ گواہ ہیں یہاں روزی روٹی کے وسیلے سے آنے والے کے عزم کی، اس کے ٹوٹے تھکے بدن کی، پیسوں کی پوٹلی کی گٹھان سے جس میں گن گن کر رکھے پیسے ابھی بھی کسی ناتمام خواہش کی چاہ میں چہرے پر تفکر کی ایک اور لکیر کا اضافہ ہی کرتے چلے جاتے۔ مگر پیسوں کی یہ پوٹلی کبھی بھرتی ہی نہیں۔

یہاں ان گنت کچی قبروں کے سروں پر ابھرے سیاہ پہاڑی پتھر نما کتبے ہی بس نشانی ہیں کہ یہ قبر ہے۔ مگر یہ قبر کس کی، کب کی ہے؟ اس بارے وہ پتھر چپ ہے گویا یہاں کی اکثر قبریں اپنے مکین سے متعلق کوئی راز افشا کرنے سے قاصر ہیں مگر اکا دکا پکی قبریں جدید ماربل کے کتبوں سے آویزاں بھی دکھ جاتی ہیں۔ گویا یہ قبرستان قدامت و جدت کا عجب امتزاج ہے

نجانے یہ قبرستان کب سے ہے؟موسموں کو شکست دیتے کتبے،زمین کے اوپر جھکے درخت اور ان سے گزرتی دھوپ کی کرنیں زمین پر عجب زاویے بناتے مگر ان درختوں کے سائے گھنے اور ٹھنڈے ہیں ۔

یہاں دور کی مسافت طے کر کے آنے والے مسافر کا آخری پڑاؤ یہ قبرستان ہے گویا یہاں آنے والے اپنے علاقائی ثقافتیں بھی ساتھ لاتے ہیں جو خواتین ان دیہاتوں سے نکل کر شہروں میں جا بستی ہیں، ان کے پہناوے تو ماڈرن ہوگئے مگر چہرے اور لب ولہجے کی سادگی وہی رہی بغیر کسی تغیر کے،بغیر کسی بناوٹ کے۔ اپنے بابل کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ان کی بے قرار آنکھیں نمناک ہونے لگتیں جنھیں کمال مہارت سے وہ اپنی چنی سے پونچھ لیتیں، اپنی جوانی پردیس کو سونپنے والی بڑھاپے سے بھرے چہرے کے ساتھ جب یہاں پہنچتی ہیں تو کسی تروتازہ دوشیزہ جیسی مسکراتیں۔

ان مناظر میں اور بھی کئی شرمیلے مناظر اپنی چھب دکھلاتے ہیں نئی نویلی دلہن کا علم کالے برقعے سے نکلے سفید دودھیا ہاتھوں پر حنا کے خوبصورت ڈیزائنوں اور پیروں کے تلووں پر لگی گہری حنا اور اس برقعے کے اندر کھنکھتی مچلتی کانچ کی چوڑیوں سے ہوتا۔ جس طرح وہ اپنے سفید قمیض شلوار میں ملبوس بندے کے اٹھ کر جانے پر کسی ہرنی کی طرح سہمی سہمی سی ادھر ادھر دیکھنے لگتیں، تو یہ بات جاننے کے لیے کافی ہوتی کہ یہ چڑیا نئی نئی شہروں کی طرف اڑ کر گئی ہے۔

ان مناظر میں ایک منظر بابل کا بھی ہے جب وہ اپنی بیٹی کو لینے کے لیے یہاں پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے اور ان کے پہنچنے پر خوشدلی سے "ہر کدے آو" کہتا ہے اپنائیت سے داماد کو سینے سے لگاتا ہے اور بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہی بیٹی،مکمل بابل کی ہو جاتی ہے اپنے خاوند سے بے نیاز، گھر کی بکری کی خیریت سے لیکر پڑوسن کی گائے تک کے سارے حالات جاننے کی متمنی اور بابل اس کے لہجے سے ہی اس کی خوشی بھانپ کر مطمئن سا پرسکون سا لگنے لگتا ہے ساتھ میں کئی تھیلیاں مٹھائی، پھل، گوشت کے اپنی بیٹی،داماد کی مہمان نوازی کے سلسلے میں خریدے گئے ہوتے ہیں تاکہ کوئی کسر نہ رہ جائے لہٰذا کھانے پینے کے لوازمات میں ہر وہ چیز خریدتا ہے جو گاؤں میں آسانی سے دستیاب نہیں۔ یہاں سے وہ بیٹی اور داماد کو لے کر اپنے کچے آشیانے کی طرف عازم سفر ہوتا ہے۔

گویا یہ ہمارے ہزارے کا انوکھا قبرستان ہے جو آنے والے ہر انسان کو چاہے کسی بھی فرقے کا ہو، کسی بھی مذہب کا ہو، جگہ دیتا ہے۔ وہ کسی سے نہیں پوچھتا کہ تیری ذات پات کیا ہے؟ تیری زبان کیا ہے؟ روایتی لباس سے ماڈرن لباس تک سب اس کی پناہ میں ہوتے ہیں، اس علاقے کے فوجی افسر، ڈاکٹر، انجینیئر، پی ایچ ڈی اسکالرز سے لے کرعام سرکاری سکول کے ہیڈ ماسٹر تک سب ہی اس قبرستان کی گزرگاہ کے مسافر بنے ہیں۔