انتخابی بساط پر کیا ہونے جا رہا ہے - راشد عباس

ملکی تاریخ میں مسلسل تیسری بار قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے جا رہی ہے جو پاکستان جیسے ملک میں، جہاں جمہوریت کی کشتی اکثر ہچکولوں کی زد میں رہتی ہے، کسی معجزے سے کم نہیں۔ البتہ وزرائے اعظم کا مدت پوری نہ کرنے کا ریکارڈ ہمیشہ کی طرح قائم رہا اور ایک بار پھر بھاری مینڈیٹ سے برسرِ اقتدار آئے میاں نوازشریف کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں نہ صرف نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا بلکہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھی ہدایات جاری کیں کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف اپنی آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیے جائیں۔ ان دنوں ان ریفرنسز کی سماعت حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان پر فیصلے عام انتخابات سے پہلے ہی آ جائیں گے جن کے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

انتخابات کے بڑے سٹیک ہولڈرز پر نگاہ دوڑائیں تو اس وقت نوازشریف کی مسلم لیگ، عمران خان کی تحریک انصاف اور آصف زرداری کی پیپلزپارٹی اس انتخابی دوڑ کے بڑے کھلاڑی ہیں (کچھ لوگ نادیدہ قوتوں جنھیں عرفِ عام میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے، کو سب سے بڑا سٹیک ہولڈر قرار دیتے ہیں)۔ دیگر چھوٹی جماعتیں اور آزاد گروپ بھی اس انتخابی معرکے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ان دنوں نئی صف بندیاں کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں البتہ ان اتحادوں کی نوعیت زیادہ تر علاقائی ہی دکھائی دے رہی ہے۔ ان میں سب سے اہم پانچ مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کا دوبارہ احیاء ہے جو پختونخواہ، بلوچستان کے کچھ علاقوں اور کراچی سے کچھ سیٹیں جیت سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اندرون سندھ بھی اس کا پہلے کی نسبت اثرورسوخ بڑھا ہے مگر انتخابی نتائج پر اس کے اثرات کے بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ پنجاب میں اس کی جگہ اب علامہ خادم رضوی کی تحریک لبیک نے لے لی ہے جو ضمنی انتخابات میں کئی حلقوں سے ہزاروں ووٹ لے کر اپنی حیثیت منوا چکی ہے۔ یہ تحریک بھی ابھی تک تو نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی لیکن چوہدری برادران کی مسلم لیگ یا پیپلزپارٹی میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کا اتحاد ہوتا ہے تو پنجاب کے کئی حلقوں میں اپ سیٹ ہوتے نظر آئیں گے۔

دوسری جانب چوہدری برادران نے سندھ کی علاقائی جماعتوں سے جو اتحاد کیا ہے اس سے انھیں کچھ حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہاں البتہ تحریک لبیک یا جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے ان کی متوقع مفاہمت انھیں پنجاب کی فائدہ دے سکتی ہے (آج کل چوہدری برادران اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان خفیہ رابطوں کی خبریں تواتر سے میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، ان کے درمیان مفاہمت دونوں گروپوں کے لیے فائدہ مند ہوگی)۔ جنوبی پنجاب کی حد تک سرائیکی صوبہ کے نام پر بننے والا اتحاد کئی نشستیں جیت سکتا ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں اس خطہ کے مزید الیکٹ ایبلز ان سے آ ملیں گے۔ ان کے علاوہ کراچی میں مصطفٰی کمال کی پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے، اندرون سندھ پیرپگارا کی مسلم لیگ، بلوچستان میں اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی، محمود اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی، حاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی اور حال ہی میں بنائی جانے والی بلوچستان عوامی پارٹی جبکہ خیبر پختونخوا میں اسفندیار ولی کی عوامی نیشنل پارٹی اور آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی قابل ذکر سیاسی قوت کی حامل ہیں۔ یہ علاقائی جماعتیں، گروپ اور آزاد امیدواران آئندہ انتخابات میں پچاس سے ساٹھ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں جن کا نہ صرف عام انتخابات بلکہ اس کے بعد بننے والے کسی بھی سیٹ اپ میں کلیدی کردار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   مایوس کن ردعمل - محمد عامر خاکوانی

اب تین بڑی جماعتوں میں سے سب سے پہلے پیپلزپارٹی کا جائزہ لیتے ہیں جس کے شریک چیئرمین آصف زردای اقتدار کے کھیل کے سب سے شاطر کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے سینیٹ انتخابات کو اگر انتخابی فلم کا ٹریلر مان لیا جائے تو آصف زرداری نے جس مہارت سے اپنے پتے کھیل کر اپنی مرضی کا سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین بنوایا، اس امکان کو ظاہر کر رہا ہے کہ معلق پارلیمنٹ کی صورت میں وزیراعظم بھی شاید ان کی مرضی کے بغیر نہ بن پائے۔ پیپلزپارٹی کا ہدف بھی اس وقت انتخابات جیتنے کی بجائے پچاس سے زیادہ نشستوں کا حصول لگ رہا ہے۔ اگرچہ صوبہ سندھ میں اس کی دس سال سے قائم حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا جاتا ہے مگر دو بڑی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے صوبہ کو نظرانداز کرنا، علاقائی جماعتوں کا غیر مؤثر ہونا، کراچی میں ایم کیو ایم کی دھڑے بندیاں وہ عوامل ہیں جو اس ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر پیپلزپارٹی اور دیگر چھوٹی پارٹیاں و گروپ 10 کے آس پاس نشستیں حاصل کرتے نظر آتے ہیں۔

اب آتے ہیں باقی 170 نشستوں کی جانب جن کے حصول کے لیے دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ ایک جماعت جتنی زیادہ نشستیں جیتے گی دوسری کو اتنی ہی کم ملیں گی، ایک کا فائدہ دوسرے کا نقصان ہے۔ ان میں سے جو بھی سو نشستوں کا جادوئی ہندسہ عبور کرے گی اقتدار کا ہُما اسی کے سر بیٹھے گا۔ گزشتہ انتخابات میں دونوں جماعتوں نے بالترتیب پنجاب اور پختونخوا سے تقریباً سوئپ کیا تھا اور ان صوبوں میں حکومتیں بھی بنائی تھیں جن کی کارکردگی بھی کم وبیش ملتی جلتی ہی نظر آتی ہے لیکن ایک بات یقینی دکھائی دیتی ہے کہ یہ اپنی اپنی حکومتوں والے صوبوں سے نسبتاً کم نشستیں جیتیں گی۔ پاناما کیس کے فیصلہ سے پہلے مسلم لیگ کی دوبارہ جیت یقینی نظر آرہی تھی مگر گزشتہ دس مہینوں کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے ہاتھوں نوازشریف کی نااہلی (جو کہ اب تا حیات ہو چکی ہے)، پارٹی صدارت سے سبکدوشی، بلوچستان میں صوبائی حکومت کے خاتمے، سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں ہزیمت کے باعث ایڈوانٹیج اب ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پارٹی سے الیکٹ ایبلز کی علیحدگی کا سلسلہ اگر دراز ہوتا ہے تو اس سے مزید نقصان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

دوسری جانب مسلم لیگ حکومت کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلوں اور از خود نوٹسز کی وجہ سے تحریک انصاف کی "ہوا" تو بن چکی ہے لیکن اب یہ عمران خان اور دیگر قیادت پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جو بات ان کے لیے پریشانی کا باعث ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب سے مسلم لیگ سے علیحدہ ہونے والے گروپوں نے تحریک انصاف میں شامل ہونے کی بجائے اپنی اپنی علیحدہ شناخت کو ترجیح دی شاید وہ نئے سیٹ اپ کے لیے اپنے آپشنز اوپن رکھنا چاہ رہے ہوں گے۔ انتخابی پیش گوئی کرنا وہ بھی پاکستان میں ایک مشکل کام ہے مگر میرے ذاتی خیال میں انتخابات تک اگر صورت حال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی رونما نہ ہوئی تو اس وقت ایڈوانٹیج تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔