خوشی کی سائنس - ام حبیبہ

اب تک خوشی کے موضوع پر جتنی بھی ریسریچ ہوئی ہے لگتا انسان کسی فارمولے کی تلاش میں ہے کہ خوش کیسے رہا جا سکتا ہے? پچھلے پچاس سالوں کی تحقیق اس نتیجے تک لے آئی ہے خوشی کا کوئی نسخہ نہیں ہے۔ ہاں! کچھ رہنمائی مل جاتی ہے کہ انسان مطمئن اور خوشگوار زندگی کیسے گزار سکتا ہے؟

- سچا پیار

انسانی جبلّت میں تعلقات بنانا شامل ہے، یہاں بیشتر لوگ غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ سچا پیار ملے گا تو ہم خوش ہوں گے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اچھے دوست، support network اور وہ تمام روابط جو ذاتی نمو میں معاون ثابت ہوں باعث خوشی اور اطمینان ہوتے ہیں۔

- رحمدلی اور سوشل ورک

دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، ان کی بھلائی کے بارے میں سوچنا اور مدد کرنا بھی انسان کو خوش رکھتا ہے۔ صدقہ اور خیرات، سوشل ورک سب اسی طرح کی بےلوث خدمات انسان کو سکون فراہم کرتی ہیں جو خوشی کا پیش خیمہ ہے۔

- شکر گزاری

Gratitude یعنی تشکر کی اپنی پوری ایک ریسرچ تھیوری ہے کہ یہ انسان کو کس طرح ڈپریشن یعنی ذہنی تناؤ سے بچاتی ہے۔ مختصر کہ جتنا انسان اپنی چھوٹی سے چھوٹی نعمتوں کا اعتراف اور اظہارکرتا ہےاتنا ہی خوشی محسوس کرتا ہے۔

- مقصد حیات

وہ تمام افراد جو کوئی تعمیری خواب یا مقصد حیات رکھتے ہی یعنی کہ اپنے دنیا میں پیدائش کے مقصد کو دریافت کرتے ہیں ان کے اندر طمانیت رہتی ہے جو خوشی کا حصہ ہے۔

مقصد حیات کوئی بھی ایسا کام ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے آپ خود کو پرسکون محسوس کریں وہ sense of achievement بھی دیتا ہے۔ خدمت، creativity، خداداد صلاحیتوں کے استعمال سے بامعنی زندگي اکثر پتہ چلتا ہے۔ "بنیادی ضروریات زندگی کے بہتر حصول "کے بعد اس شعور پر کام کریں کے وہ کون سے کام ہیں جن کے کرنے سے مجھے سکون کا احساس ہوتا ہے اور میں دوسروں کے لیے بھی کچھ کر رہا ہوں۔ تبھی آپ سچی خوشی کو محسوس کر سکیں گے اور جینا کا اصل لطف حاصل کر سکیں گے۔

- صحتمند عادات

وقت پرسوناجاگنا، ورزش، واک، یوگا، غور و فکر، مطالعہ یہ سب فرد کی جذباتی صحت کو مضبوط کرتی ہیں اور انسا ن تازہ دم محسوس کرتا ہے۔

بدقسمتی سے نوجوان نسل "خوشی" کے اصل تصور سے نا آشنا ہے۔ ہم نے ضرورتوں کو مقصد حیات سمجھ لیا ہے، تعیش کو ضرورت سمجھ لیاہے۔ ۔ ضرورت بہت جلد پوری ہو جاتی ہے۔ تعیش میں تگ ودو لگتی ہے۔ پر ان سب کے حصول کے بعد احساس ہوتا ہے ہم خوش نہیں کوئی کمی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی کہ کسی شے کے حصول سے "خوشی "وابستہ ہے۔ جیسے گھر، گاڑی، نوکری، پیسہ، شہرت۔ آپ غلط شے کے ہاتھوں کنٹرول ہو رہے ہیں۔ یہ آسانیاں ہیں کسی حد تک آپ کو خوش کر سکتی ہیں، پر زندگی کے سفر میں ان کی اہمیت جیسے ہی تبدیل ہوتی ہے یہ بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جن چیزوں کو زندگی سمجھ کر بھاگ رہے ان کے حصول کے بعد یا عدم حصول کی صورت میں آپ زندگی سے بیزار بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر کسی فرد کا ہونا آپ خوشی سے تعبیر کرتے ہیں تو آپ کی خوشی رسک پر ہے۔ کتنے لوگ ایک دوسرے کو حاصل کرنے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں یا حاصل کرکے پچھتاتے ہیں۔

ماضی بعید میں لوگ سوشل میڈیا کے ہاتھوں برین واشڈ نہیں تھے تو ان کی خوشی کا تصور focused یعنی مرتکز تھا۔ اب ہر فرد خوشی کے حصول کے لیے ایک الگ دنیا بسا بیٹھا ہے۔ فی زما نہ خوشی کا تصور میڈیا نے لوگوں کے اذہان میں پیدا کیا ہے، جس کی بنیاد consumerism ہے یعنی آسان الفاظ میں خریدو فروخت۔ میڈیا نے کاروبار کے فروغ کے لیے اشتہار بازی کی ذریعے خوشی کے تصور کو یوں تبدیل کیا کہ یہ خریدو اور خوش رہو۔ وہ گاڑی ہے یا لان کا سوٹ یا واشنگ پاؤڈر کا ڈبہ، غرض ہم خرید تو سب رہے ہیں اور ڈراموں کی طرح گھر سجا رکھے ہیں اور ویسی ہی گفتگو کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں پر معاشرہ دن بدن ذہنی دباؤ اور تشنگی کا شکار ہے یہی وجہ اخلاقی سطح پر ہم روبہ زوال اور معاشرتی سطح پر جرائم کا شکارہیں۔

" خوشی کو نہ خریدا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ منزل یا ہدف ہے بلکہ سفر زندگی کا حصہ ہے یا by product ہےجو صحت مند رویوں سے جنم لیتی ہے۔ "

(مرکزی خیال ماخوذ)