تاجر…… مبشر علی زیدی

’’ہمارا بھگوان دسمبر میں ریٹائر ہونے والا ہے۔
کیا تم آرڈر پر نیا بھگوان بنا سکتے ہو؟‘‘
اس تاجر نے پوچھا۔
’’میں سنگ تراش ہوں۔
یہی میرا کام ہے۔‘‘
میں نے جواب دیا۔
اس نے سوچ سوچ کر ایک کاغذ پر خصوصیات لکھ دیں۔
میں نے چند دن کے اندر سیاہ چٹان کے پتھر سے بُت تراش دیا۔
تاجروں نے میرے بنائے ہوئے بھگوان کو اپنے مندر میں نصب کر دیا۔
وہ گدی پر بیٹھا ہوا بھگوان تھا،
نذرانے قبول کرتا ہوا بھگوان!
تعریف پر خوش بھگوان!
تنقید پر برہم بھگوان!
لمبی زبان والا بھگوان!
فیصلے کرنے والا بھگوان!
تاجر بھگوان!