خادم حسین رضوی صاحب - زبیر منصوری

میری ایک بیٹی رات دیر گئے تک اندھیرے میں اپنی ویران سی یونیورسٹی میں پھنسی خوف سے کانپتی رہی، اس لیے کہ باہر آپ کے ڈنڈا بردار پروانو ں نے راستے بند کر رکھے تھے۔
لاکھوں انسان، ہزارون خواتین، بلکتے بچے، درد سے کراہتے مریض اور ایمبولینسیں آپ کے الیکشن دو ہزار اٹھارہ کی تیاری کے اس شو کی نذر ہو گئے۔

اب یہ مت کہیے گا کہ آقا ص کی حرمت کے نام پر ایسا کیا گیا، کیوں کہ میرے نرم خو مہربان نبی محترم ص کی سنت سے آپ اس عمل کو ثابت نہیں کر سکیں گے۔
یہ بھی مت کہیے گا کہ دوسری جماعتیں بھی یہی کرتی ہیں، اس لیے کہ ایک کا گناہ دوسرے کے لیے جواز نہیں۔

رضوی صاحب!
مجھے افسوس ہے کہ سیرت اور صحابہ کے واقعات کو جذباتی انداز سے پیش کرکے آپ جس مہارت اور لفاظی سے امت کے سواد اعظم کو جس راستہ پر لے جا رہے ہیں، وہ امت کو تقسیم در تقسیم کرنے اور فساد در فساد کا راستہ ہے، یہاں پہلے ہی امت پیاز کے چھلکوں کی طرح ہو چکی ہے۔
اور آقا ص اور ان کے صحابہ کی بہادری اور جرات کے جو واقعات آپ سناتے ہیں ان پر تھوڑا سا عمل بھی کر لیں اور جرات سے اپنی گالی گفتار کا جواب عدالت میں جا کر دیجیے۔

رضوی صاحب !
یہ سامنے کی بات ہے کہ اس ملک کی مروجہ سیاست کی طرح آپ کو شہدا ء چاہییں، اور معاشرے میں بکھرے اپنے حصہ کے ناسمجھ یا پھر جذباتی نوجوان درکار ہیں، اور وہ بہرحال آپ کے گرد جمع ہو رہے ہیں، مگر افسوس آپ قوت اور اقتدار کے کیک میں سے اپنے حصہ کے چھوٹے سے ٹکڑے کے لیے آقا ص کی امت سے بڑی سی قیمت وصول کر رہے ہیں۔

رضوی صاحب !
اس پریشان حال امت کے مصائب میں اضافہ نہ کیجیے، ایسا کچھ نہ کیجیے جس سے اللہ ناخوش رسول اللہ ص رنجیدہ، دوست پریشان اور دشمن خوش ہوں۔

رضوی صاحب !
اکیسویں صدی میں امت کے مصائب کا کوئی حل آپ کے پاس نہیں ہے۔
مان جائیے!
یہ ترغیب و ترہیب کے باب سے چند کچے پکے واقعات پیش کر کے واہ وا تو سمیٹی جا سکتی ہے، نعرے لگوا کر نفس کی خود ستائشی کی لت کو گنے کا رس پلا کر ُپھلایا تو جا سکتا ہے، مگر اس سے ابلیسی نظام کی اسٹریٹیجک پلاننگ کو شکست نہیں دی جا سکتی، اس لیے کہ یہ دنیا دار الاسباب ہے، یہاں دلیل کا جواب دلیل، منصوبہ کا منصوبے اور ذہانت کا اس سے بڑی ذہانت سے دینا ہوگا، تب بات بنے گی۔

رضوی صاحب!
یہ ناتواں حکومت جاتے جاتے اپنے سر کوئی مزید سانحہ ماڈل ٹاون نہیں لینا چاہتی، اس لیے یہ آپ کے پونے پانچس و دیوانوں کو کچھ نہیں کہے گی، عوام کے لیے اس نے پہلے کیا کیا ہے جو اب فکر کرے؟ باقی رہے ملک کے ''اصلی تے وڈے مالکان'' تو آپ ویسے بھی پنجاب میں ان کی نئی من چاہی دلہن کی سیج بچھا رہے ہیں، وہ بھلا آپ کو کیوں کچھ کہنے لگے؟
اس لیے ہاتھ جوڑ کر حوض کوثر پر آقاص کے جام کا واسطہ دے کر آپ سے درخواست ہے، ان کے امتیوں کی جان بخشی کر دیں ورنہ یہ سب مل کر آقا ص سے آپ کے خلاف فریاد کریں گے کہ
''ہمیں کس جرم میں ستایا گیا؟''

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت اچھی تحریر
    اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے اور رضوی صاحب کو اسے مکمل طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے