کیا استاد فی میل اسٹوڈنٹ کو تحفہ دے سکتا ہے؟ حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ وہ کو۔ایجوکیشن میں پڑھاتا ہے اور اپنی ایک فی۔میل اسٹوڈنٹ کو گفٹ دینا چاہتا ہے تو کیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے؟ جواب: ایک لفظ میں استاذ اور شاگرد کا باہمی تعلق خیر خواہی کا تعلق ہے۔ استاذ اپنے شاگرد کا خیر خواہ (well wisher) ہوتا ہے۔ اگر شاگرد اپنے استاذ سے کچھ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اسے استاذ سے لازما ایک تعلق ہونا چاہیے اور اگر استاذ اپنے شاگرد کو کچھ بنانا چاہتا ہے تو اسے بھی لازما اپنے شاگرد سے تعلق ہونا چاہیے۔

پس استاذ اور شاگرد کے مابین اس تعلق کا قیام اور اس کی نشوونما بہت ضروری ہے۔ ایک شاگرد در اصل اپنے استاذ کی تخلیق ہوتا ہے اور جس طرح ایک آرٹسٹ کو اپنی تخلیق سے تعلق ہوتا ہے، اسی طرح استاذ کو بھی اپنے شاگرد سے تعلق ہوتا ہے۔ اور اس تعلق کا ہونا فطری ہے کہ تخلیق ہی کسی آرٹسٹ کے کمال کی ایسی زندہ علامت اور چلتی پھرتی نشانی ہوتی ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنے مرنے کے بعد بھی اپنے زندہ رہنے کی تمنا اور خواہش کی تکمیل چاہتا ہے۔ پس استاذ کی مثال اس آرٹسٹ کی سی ہی ہے جو انسان کو دوسری مرتبہ تخلیق کرتا ہے،جبکہ اس کی پہلی تخلیق اس کے باپ کی وجہ سے ہوتی ہے۔

اہل حدیث کے بہت بڑے عالم جو استاذ الاساتذہ معروف ہیں یعنی حافظ محمد گوندلوی صاحب جب بلاد عرب میں تشریف لے گئے تو ان کے شاگرد جناب علامہ احسان الہی ظہیر صاحب نے جب علماء کے حلقوں میں ان کا تعارف کروایا تو علماء نے پوچھا کہ یہ اتنے بڑے شیخ اور استاذ الاساتذہ ہیں، ان کی تصانیف تو دکھائیں۔ تو علامہ صاحب نے کہا کہ ان کی کوئی تصنیف نہیں ہے، انہوں نے ہمیں تصنیف کیا ہے، ہم ان کی چلتی پھرتی تصانیف ہیں۔ تو ایسے شاہکار شاگرد پر محنت اور اس سے تعلق کے بغیر تخلیق نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   میری بھی تو سنیے - عظمیٰ ظفر

صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق ہیں، قاضی ابو یوسف اور امام محمد، امام ابو حنیفہ کی تخلیق ہیں۔ امام ابن قیم، امام ابن تیمیہ کی تخلیق ہیں۔ امام بخاری، علی بن مدینی کی تخلیق ہیں۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ استاذ اور شاگرد کا باہمی تعلق بھی کوئی چیز ہے تو اب تو یہ سوچوں میں بھی نہیں ہے، عملا کیا ہونا ہے اور سیکولر اداروں میں تو بالکل بھی نہیں ہے۔ استاذ اور شاگرد میں جو تعلق نظر آتا بھی ہے تو وہ باہمی مفاد کا تعلق ہے نہ کہ خیر خواہی کا۔ تو اگر طالب علم کو ایسا تحفہ دیا جائے کہ جس سے خیر خواہی کے تعلق کی نشوونما ہوتی ہو تو وہ تحفہ دینا جائز ہے اور جس تحفے کی بنیاد مفاد ہو تو اس کا دینا دلانا ناجائز ہے۔

میرے پاس ایک شاگرد چار پانچ کھجوروں کا ایک پیکٹ لے آیا کہ یہ حقیر سا تحفہ قبول فرمائیں تو میں نے اسے کہا کہ تحفہ ہمیشہ حقیر ہوتا ہے، بڑی تو رشوت ہوتی ہے۔ پس استاذ اگر طالب علم کو مصحف، کتاب، ٹوپی، تسبیح، جائے نماز وغیرہ تحفے میں دے دے تو حرج نہیں ہے، چاہے فی۔میل اسٹوڈنٹ ہی کیوں نہ ہو۔ میں اپنی کسی فی میل اسٹوڈنٹ میں الحاد (atheism) کے جراثیم دیکھوں گا تو اسے الحاد پر اپنی کتاب ضرور گفٹ کروں گا، ایک دینی فریضہ سمجھ کر کروں گا۔ ہاں، اگر آپ اپنی فی میل اسٹوڈنٹ کو جیولری گفٹ کرنا چاہتے ہیں تو بھائی یہ پھر استاذ شاگرد کا تعلق نہیں کوئی اور تعلق بن چکا ہے، اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں