پیشہ ور دین دار طبقہ میں اصلاح کی ضرورت - بشارت حمید

دین اسلام میں مسجد سب سے اہم ادارہ ہے جہاں مسلمان دن میں پانچ وقت اپنے رب کے حضور حاضری دیتے ہیں اور اپنی خطاؤں کی بخشش مانگتے ہیں اور اپنے دین اور دنیا کی بھلائی کے سوالی ہوتے ہیں۔ مسجد نبوی شریف وہ مسجد ہے جو آقائے دو جہاں صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تعمیر کی۔ یہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ اسلامی حکومت کا صدر دفتر، ایک یونیورسٹی اور مسلمانوں کی جائے پناہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ حضور صل اللہ علیہ وسلم سربراہ مملکت بھی تھے اور مسجد نبوی کے امام اور خطیب بھی۔ دور خلافت راشدہ میں یہ منصب خلیفہ وقت کو حاصل رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسجد کی امامت اور منصب حکومت کے شعبے الگ الگ ہوتے گئے۔ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اس کا جائز ہ لیا جائے تو بہت عجیب صورتحال نظر آتی ہے۔

مسالک سے قطع نظرمنبر و محراب کے وارثان کی اکثریت اب دنیا کی دولت اکٹھی کرنا اپنا مطمع نظر بنا چکی ہے جس کے لیے بیسیوں جواز تراش لیے گئے ہیں۔ مسجد میں نماز کی امامت اور جمعہ کی خطابت اب الگ الگ شعبے ہیں۔ چلیے نماز کی امامت تو روزانہ پانچ وقت اور پورے مہینے کی ڈیوٹی ہے لیکن پروفیشنل خطابت جو ہفتے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کی ڈیوٹی ہے اور مہینے میں صرف چھ سے آٹھ گھنٹے بنتے ہیں لیکن اس کے لیے بھی مساجد کی انتظامیہ ہزاروں روپے بطور مشاہرہ خطیب صاحب کی خدمت اقدس میں پیش کرتی ہے تاکہ جس فن تقریر کی مہارت دکھا کر خطیب صاحب جمعہ کے اجتماع میں عوام کا مجمع اکٹھا کرتے ہیں وہ برقرار رہے۔ ان خطباء کی اکثریت منبر رسول پر کھڑے ہو کر جہنم کے عذاب اور حشر کے دن کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ سامنے بیٹھے عوام کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لیکن جیسے ہی خطاب ختم ہوتا ہے تو خطیب صاحب قریب بیٹھے نمازیوں سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ اتنی جلدی وہ قیامت کی سختی جو بیان کی اس کا اثر ختم بھی ہو گیا؟ کیا ایسا تو نہیں کہ یہ خطابت کی شعلہ بیانی صرف زیادہ شہرت اور مال کے حصول کا ذریعہ ہی ہو؟

دوسری طرف نعت خواں طبقہ ہے جس کا عملی زندگی میں دین کی تعلیمات پر عمل کم ہی نظر آتا ہے اور ان کے خیال میں صرف نعت خوانی ہی بخشش کے لیے کافی ہے۔اس کی تازہ ترین مثال قصور واقعہ میں ملوث نعت خوانی محافل کے نقیب کی ہے جو بچی کو ریپ کے بعد قتل کرکے نعت خوانی کی محفل میں چلا گیا۔ کیا آقائے دو جہاں کی صرف جھوم جھوم کر شان بیان کرنا ہی تمام بداعمالیوں کا کفارہ بن سکتا ہے؟ چاہے عملی زندگی میں جو چاہے حرام خوری اور جرائم کرتے رہیں۔ پھر ان محافل کے اندر نوٹوں کی برسات کرنے والے شرکاء اور انہیں جھاڑو پھیر کر اکٹھا کرنے والے نعت خواں جو زیادہ نوٹ نچھاور کروانے کے چکر میں ایک ہی مصرع کو باربار دہراتے رہتے ہیں کیا یہ عشق رسول ہے یا پھر دوکانداری، جو نوٹ نچھاور کرتے ہیں ‌ان کے خیال میں پیسہ چاہے جیسے مرضی حرام ذریعے سے کماتے رہو، بس محفل نعت میں جا کر ویلیں دے آو تو سب کچھ پاک ہو جائے گا… یہ کہاں کی دینداری ٹھہری؟ کیا یہ سب اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کے نام کو اپنی دنیا بنانے کے لیے بیچنے والی بات نہیں؟

قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے علماء کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم وہ لوگ ہو جو دنیا کے تھوڑے مال کے لیے اللہ کی آیات کو سستا بیچ دیتے ہو یعنی اللہ کی کتاب سے جھوٹ منسوب کرکے چند ٹکوں کی خاطر عوام کو ان کی مرضی کے فتوے دیتے ہو حرام کو حلال ثابت کرتے ہو۔ کیا یہ صورت حال ہمیں اپنے دینی طبقے میں نظر نہیں‌آتی؟ ہر مسلک اپنے لوگوں کا گند کارپٹ کے نیچے چھپا کر عوام کو تو دھوکہ دے لے گا لیکن کل روز قیامت اللہ کی بارگاہ میں کیا جواب دے گا؟ مساجد اور مدارس کی آمدن عام لوگوں کی ڈونیشنز سے اکٹھی ہونے والی رقوم سے ہوتی ہے۔ اکثر مساجد ہمیشہ زیرتعمیر ہی رہتی ہیں۔ ہر جمعہ میں خطیب حضرات کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ اتنا فنڈ آج ہی اکٹھا کرنا ہے اور پھر کئی خطیب تو اعلان فرما دیتے ہیں کہ آج جب تک ایک لاکھ پورا نہ ہوا تب تک نماز جمعہ ادا نہیں کی جائے گی۔ پھر لوگوں کے نام لے لے کر کھڑا کروا کے زبردستی ان کے ذمے رقم ڈالی جاتی ہے۔ غزوہ تبوک میں صحابہ کرام اور صحابیات کے ایثار کی مثالیں دے کر خواتین و حضرات سے زیور اور نقدی مسجد میں نئی ٹائلیں لگانے کے لیے اکٹھی کی جاتی ہے اور چند ہفتوں‌ بعد یہ ٹائلیں پھر کسی نئے ڈیزائن سے تبدیل کرنے کا اعلان ہو جاتا ہے۔

ایک خطیب ایک گھنٹہ تقریر کے جتنے پیسے لیتا ہے کیا یہ رقم شرعی لحاظ سے لینا جائز ہے؟ قرآن مجید میں تو انبیاء نے اپنے قوموں‌کو دین کی دعوت دیتے وقت یہ نکتہ واضح بیان کیا تھا کہ میں تم سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا میرا اجر تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے میں تو صرف تمہاری خیرخواہی چاہتا ہوں۔ جس مسجد میں انتظامیہ سے تقریر کے پیسے مانگے جائیں وہاں حق بات کہنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ معاشرتی مسائل اور حلال و حرام کے بارے دینی احکام انہی لوگوں کے سامنے کیسے بے دھڑک بیان کیے جا سکتے ہیں جنہوں نے اس تقریر کے پیسے دینےطے کیے ہوئے ہوں۔

موجودہ دور میں انبیاء کی وراثت کے دعوے دار اس معاملے میں انبیاء کے نقش قدم پر چلنا کیوں‌نہیں پسند کرتے… بلکہ اس کے الٹ علماء بنی اسرائیل کی راہ پہ کیوں چل رہے ہیں؟ کیا دین کے احکام صرف منبر پر چڑھ کر عوام کو بتانے کے لیے ہی ہیں؟ خود اپنی ذات پر انکا اطلاق کب ہو گا، کب خود احتسابی کے بارے سوچا جائے گا؟ وعظ اور تقاریر میں بھی صرف قصے کہانیاں اور بزرگوں کے خواب سنا کر واہ واہ اور داد سمیٹی جاتی ہے، موجودہ دور کے مطابق مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل سے لاتعلقی کیوں‌رکھی جاتی ہے؟ معاشرے میں جدید دور کے مسائل پر تقاریر میں کتنے علماء گفتگو کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں، وراثت کی اسلامی تقسیم کے بارے کتنے مسائل عوام کو بتائے جاتے ہیں۔پھر کبھی عملی زندگی میں دین دار نظر آنے والے بندے سے لین دین کا واسطہ پڑ جائے تو الاماشاءاللہ اکثر یت دنیاداروں سے بھی گئی گزری نکلتی ہے۔

(یہ مضمون لکھنے کا مقصد کسی خاص فرد یا گروہ پر تنقید کرنا ہرگز نہیں ہے البتہ یہ ایک آئینہ دکھانے کی کوشش ہے۔ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات!)

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.