سچ تو یہ بھی ہے - حامد محمود راجا

10اپریل کو لاہور میں چودھری شجاعت حسین کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’سچ تو یہ ہے ‘ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ جس میں شیخ رشید، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، حامد میر اور اوریا مقبو ل جان سمیت دیگر شریک تھے۔ تقریب کے چند نکات کے مختصر بیان سے قبل حامد میر کے ایک کالم کے مندرجات کا جائزہ ضروری ہے جوتقریب سے ایک روز قبل شائع ہوا۔ کالم کے آغاز میں جناب حامد میر رقم طراز ہیں : چودھری صاحب نے کچھ باتیں ایسی لکھ ڈالی ہیں جو صرف نواز شریف نہیں بلکہ پرویزمشرف کے دل میں بھی کانٹا بن کر پیوست رہیں گی۔ یہ جملہ کتاب کا لب لباب اور خلاصہ ہے۔ کتاب کے اکثر مندرجات نواز شریف کی مخالفت پر مبنی ہیں۔ رہی بات پرویز مشرف کی تواُ ن کی مخالفت آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

یہاں مجھے اپنے مدرسے کا ایک پشاوری کلاس فیلو بھی یاد آرہا ہے جو اپنی بڑی سی جیب میں بادام، اخروٹ وغیرہ بھر ے رکھتا تھا۔ میرے ساتھ بیٹھ کر جب وہ اپنے کھانے پینے کا آغاز کرتا تو ایک دو دانے مجھے بھی دے دیتا۔ ایک دن میں نے وہ دو دانے لینے سے انکار کردیا۔ وہ کہنے لگا :کیا ہوا؟ میں نے کہا دراصل یہ دو دانے تم مجھے چاہت سے نہیں بلکہ اس کا مقصد سے دیتے ہو کہ تمہیں کھانے کا جواز مل جائے۔ جنرل پرویز مشر ف کی مخالفت دراصل نواز شریف کی مخالفت کا جواز پیدا کرنے کے لیے ہے۔نیز، پرویز مشرف کی مخالفت سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ جنرل پرویز مشرف سمیت تمام جرنیل سیاستدان صرف وقتی سیاست کا حصہ ہوا کرتے ہیں بعد کے حالات میں اُ کا سیاسی کردار صفر ہو جایا کرتا ہے۔ سو اُن کے متعلق انکشافات درج کرنے سے شجاعت حسین، حامد میر، خود جنرل پرویز مشرف اورحتیٰ کہ مجھے بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں، نواز شریف چونکہ اس وقت ایک فعال سیاسی کردار ہیں اور شومئی قسمت کہ ان کا شمار چودھری برادران کے مخالفین میں ہوتاہے، اس لیے کتاب کے مندرجات نواز شریف کی سیاست پر اثرا نداز ہوسکتے ہیں یا ایسا ہونے کی خواہش اور توقع کی جاسکتی ہے۔

حامد میر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ چوہدری صاحب کی کتا ب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مسلم لیگ ن جنرل ضیا ءالحق نے بنوائی تھی‘۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مسلم لیگ کے ساتھ اس وقت ن کا لاحقہ نہیں تھا۔ نجانے کس تناظر میں حامد میر نے اس کو مسلم لیگ ن لکھ دیا۔ بہر حال اگر چوہدری شجاعت حسین یہ جانتے تھے تو سوال یہ ہے کہ وہ خود کیوں ایک طویل عرصہ تک ایسی جماعت کا حصہ رہے جو ایک جرنیل کی بنائی ہوئی تھی؟اور جنرل ضیاءکی بنائی ہوئی مسلم لیگ کو انہوں نے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک وہ جنرل پرویز مشرف کی بنائی ہوئی مسلم لیگ کے سربراہ نہیں بن گئے۔ چودھری صاحب نے اپنی کتاب میں یہ بھی درج کیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے ان کے ساتھ الیکشن2008 میں دھوکا کیا۔ ابھی پولنگ جاری تھی کہ شام چار بجے پرویز مشرف نے فون کرکے چودھری صاحب سے کہا کہ آپ کو پینتیس، چالیس نشستیں ملیں گی۔ آپ نتائج تسلیم کر لیں، کوئی اعتراض نہ کیجیے گا، اس اعتراف سے چودھری شجاعت حسین یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ الیکشن 2008میں ہماری شکست کی وجہ جنرل پرویز مشرف تھے اورا نہوں نے ہمیں صرف پینتیس، چالیس نشستوں تک محدود کردیا ورنہ ہم اس سے زیادہ کے حق دار تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مانوں نہ مانوں کے بیچ - حبیب الرحمٰن

اگر چودھری صاحب کا یہ اعتراف درست ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر چودھری برادران کاکردار الیکشن 2008میں محدود کردیا تو یہ پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ الیکشن 2002میں بھی ان کو حصہ بقدر جثہ سے زیادہ بھی انہوں نے ہی دیا، ورنہ چودھری برادران کا اپنا ووٹ بینک اتنا نہیں تھا جیسا کہ بعد کے انتخابات میں چودھری برادران کی حاصل کردہ نشستوں سے واضح ہوتا ہے۔ ہر آنے والے الیکشن میں ق لیگ کا کردار محدود ہوتا گیا۔ ایسی صورت حال میں جناب حامد میر کا یہ کہنا کہ چودھری برادران نے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھا، بے معنی سا معلوم ہوتا ہے۔ البتہ نواز شریف کی سیاسی ترقی اس کے برعکس ہے۔ وہ جنرل ضیاءکے زمانے میں اتنے طاقتور سیاستدان نہیں تھے جتنااُن کے بعد ابھر کر سامنے آئے۔ انہوں نے نہ صرف جنرل ضیاءکے بعد اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھا بلکہ اُس میں مزید ترقی بھی حاصل کی۔ جنرل ضیاءکی بیوہ بیگم شفیقہ ضیاءکے بارے میں چودھری صاحب لکھتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بنتے ہی شفیقہ ضیاءکو آرمی ہاؤس خالی کرنا پڑا۔ ان حالات میں چودھری شجاعت حسین نے اپنا گھر بیگم شفیقہ ضیاءکے لیے خالی کردیا اور خود کرائے کے گھر میں منتقل ہوگئے۔ اس واقعے کی صداقت پر سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جنرل ضیاءنے چودھری صاحب کے ساتھ بھی کوئی نیکی کی ہوگی۔ بہتر ہوتا کہ کہ چودھری برادران اپنے ساتھ جنرل ضیاءکے سلوک کو بھی واضح کردیتے تاکہ تصویر کے دونوں رُخ قارئین کے سامنے آجاتے۔

’سچ تو یہ ہے ‘ کے انکشافات میں یہ بھی درج ہے کہ میر ظفرا للہ خان جمالی کو جنرل پرویز مشرف نے سستی کی وجہ سے ہٹایا۔ جنرل پرویز مشرف اس بات سے بہت تنگ تھے کہ میر ظفر اللہ 12 بجے تو سو کر اٹھتے ہیں اور اہم کاموں میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ ظفر اللہ جمالی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہر دو حضرات یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکا کے حوالے کرنا چاہتے تھے لیکن میر ظفراللہ خان اُن کے عزائم میں رکاوٹ تھے۔ میر ظفر اللہ خان نے اپنی وزارت عظمیٰ کی قربانی دے کر پاکستان کی آبرو بچائی۔ اسی امریکی مخالفت کی سزا میں ظفراللہ جمالی کو سست کہا گیا۔ یہ تو بھلا ہو وزارت عظمیٰ کا کہ اُن کو سست کہا گیا، ورنہ عام لوگوں کو تو امریکی مخالفت پر دہشت گرد کا لقب دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ دنیا ہمارے بغیر بھی چلے گی - شیخ خالد زاہد

کتاب پر تبصرہ کے دوران ایک نکتہ پھر سے مختلف حلقوں میں گردش کرتارہا کہ نواز شریف اور چودھری شجاعت کی سیاست میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ چودھری شجاعت ایک خاندانی سیاست دان ہیں جب کہ نواز شریف کی سیاست کاآغاز اُن کی ذات سے ہی ہوتا ہے، ان کے والد تو لوہے کی ایک بھٹی چلایا کرتے تھے۔ نواز شریف اپنے خاندان کے دیگر افرد کو سیاست میں لے کر آتے ہیں تو تواُن کو موروثیت کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ کہا جاتاہے کہ باپ نے اپنی بیٹی کو بھی سیاست دان بنادیا۔ لیکن یہی تیرگی جب نواز شریف کے سیاسی مخالفین کی زلف میں پہنچتی ہے تو حسن کہلاتی ہے۔ وہ جدی پشتی اور خاندانی سیاست دان کے اعزاز سے سرفراز ہوتے ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ چودھری برادران کی سیاست آخر کتنی قدیم ہے؟ وہ بھی تو اپنے والد کے دور سے ہی سیاست دان ہیں۔ چودھری بردران کا سیاسی سفر چودھری ظہور الٰہی سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ چودھر ی ظہور الٰہی اور نواز شریف ایک ہی درجے کے سیاستدان ہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • […] کتاب پر تبصرہ کے دوران ایک نکتہ پھر سے مختلف حلقوں میں گردش کرتارہا کہ نواز شریف اور چودھری شجاعت کی سیاست میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ چودھری شجاعت ایک خاندانی سیاست دان ہیں جب کہ نواز شریف کی سیاست کاآغاز اُن کی ذات سے ہی ہوتا ہے، ان کے والد تو لوہے کی ایک بھٹی چلایا کرتے تھے۔ نواز شریف اپنے خاندان کے دیگر افرد کو سیاست میں لے کر آتے ہیں تو تواُن کو موروثیت کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ کہا جاتاہے کہ باپ نے اپنی بیٹی کو بھی سیاست دان بنادیا۔ لیکن یہی تیرگی جب نواز شریف کے سیاسی مخالفین کی زلف میں پہنچتی ہے تو حسن کہلاتی ہے۔ وہ جدی پشتی اور خاندانی سیاست دان کے اعزاز سے سرفراز ہوتے ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ چودھری برادران کی سیاست آخر کتنی قدیم ہے؟ وہ بھی تو اپنے والد کے دور سے ہی سیاست دان ہیں۔ چودھری بردران کا سیاسی سفر چودھری ظہور الٰہی سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ چودھر ی ظہور الٰہی اور نواز شریف ایک ہی درجے کے سیاستدان ہیں۔ بشکریہ دلیل ڈاٹ پی کے […]