چادر اور چاردیواری کا تقدس اور گلی سڑی لاشیں - ربیعہ فاطمہ بخاری

عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیئے، ماں بیٹے کے روپ میں ہوں تو ایک دوسرے کے لیے سراپا محبت، بہن بھائی کے روپ میں ہوں تو سراپا الفت، باپ بیٹی کے روپ میں ہوں تو ایک دوسرے کے لیے محبت اور الفت کا بے انت سمندراورمیا ں بیوی کے روپ میں ہوں تو ایک دوسرے کا لباس، رازدان، خیر خواہ اور ہمنوا ہوتے ہیں۔

ہم نے تو اپنے دین میں اور اپنے گھروں میں عورت کا وہ مقام اور عزت دیکھی ہے کہ کیا ہی کسی کی خواہش ہو گی۔ ہم نے دین پڑھنا شروع کیا تو ہمارا پہلا تعارف ہی حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ سے ہوا جو اپنے وقت کی بہت بڑی کاروباری شخصیت تھیں اور جن کا تجارتی مال قافلوں کی شکل میں دوسرے ممالک میں لے جایا جاتا اور بیچا جاتا تھا۔پھر ہمیں فاطمۃ الزھراءؓ نظر آئیں جو ایک خاتونِ خانہ کابے مثال اور لازوال نمونہ تھیں۔علی ؑ شیرِخداجیسے جرّی شوہر کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں، بطور ماں اولاد کی تربیت کرتی ہیں تو اسلام کو حسنؓ اور حسینؓ جیسے بے بہا اور انمول نگینے بخشتی ہیں،ایک بہو کی حیثیت سے ساس کی وہ خدمت کرتی ہیں کہ ساس حضرت فاطمہ بنتِ اسد خود فرماتی ہیں کہ میں چراغ لے کر ڈھونڈوں تو بھی مجھے فاطمہ جیسی بہو نہیں ملتی۔ تھوڑا آگے چلے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ ملیں جن کا شمار احادیثِ مبارکہ کے سب سے بڑے راویوں اور معلمین میں ہوتا ہے، بڑے بڑے صحابہ کرام ان سے حدیث کا علم لینے آتے تھے۔

اسی قرونِ اولیٰ ہی میں ہماری ملاقات حضرت شفاء بنتِ عبداللہ سے بھی ہوتی ہے جو عرب میں قبلِ اسلام کے دور کے 17 تعلیم یافتہ افراد میں سے ایک تھیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ جیسے جلیل القدر صحابیءِ رسول کی والدہ محترمہ کو ان کی تعلیم کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے وزیرِ خوراک کے عہدے پر فائزکر رکھاتھا۔ وہ خود مدینہ کے بازاروں میں جاتیں اور اشیاءِ خوردونوش اور دیگر معاملات کا جائزہ لیتیں۔اسی دور میں خودنبی ﷺکے گھرانے میں حضرت زینب بنتِ خزیمہؓ (ام المومنین) بھی نظر آتی ہیں، جو گھر میں رہ کر چمڑہ رنگنے کا کام کرتی تھیں اور ٹھیک ٹھاک پیسہ کماتی تھیں اور اپنی کمائی میں سے بے پناہ صدقہ و خیرات کرتی تھیں۔ان کی اسی صفت کی وجہ سے نبی اکرم صلعم انہیں ’لمبے ہاتھوں والی‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ذرا اور گہری نگاہ سے دیکھا تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اہلیہ محترمہ ملیں جو عطر فروش تھیں جن کا بہت بڑا کاروبار تھا، یہاں تک کہ وہ اپنے شوہر سے زیادہ کماتی تھیں۔ انہوں نے نبی اکرم صلعم سے استفسار کیا کہ کیا میں اپنی کمائی اپنے شوہر کو دے سکتی ہوں کہ ان کے حالات تنگ ہیں تو نبی اکرم صلعم نے اس عمل کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ اس سے تمھیں دوگنا ثواب ملے گا، صلہ رحمی کا بھی اور صدقہ کا بھی۔اسلام کے ابتدائی دنوں میں ہمیں میدانِ حرب میں بھی خواتین مردوں کے شانہ بہ شانہ نظر آتی ہیں۔ جنگِ خیبر اور جنگِ قادسیہ میں طب کی ماہر خواتین جنگوں میں زخمی ہونے والے مردوں کی مرہم پٹی کرتی نظر آتی ہیں۔ اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید اسی پر کئی کالمز لکھے جا سکتے ہیں، لیکن میرا آج کا موضوع کچھ اور ہے۔

ابھی چند ہفتے قبل ۸ مارچ کو ’’یومِ خواتین‘‘منایا گیا تھا۔ یہ ایک بین الاقوامی سطح پر منایا جانے والا دن ہے اور گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں بھی ملکی سطح پر منایا جاتا ہے۔اس سال بھی انتہائی جوش و خروش سے یہ دن منایا گیا۔اس دن کو منانے کا آغازپہلی دفعہ امریکی خواتین نے اپنے معاشرے میں عورت کے استحصال کو ختم کرنے اور اسے مردوں کے برابر حقوق دلوانے کے لیے ۱۹۰۸ء میں کیا۔۱۹۱۱ء میں اس دن کو باقاعدہ ایک سالانہ تہوار کا درجہ دے دیا گیا۔جہاں عورتوں کو کام کرنے، ووٹ ڈالنے، ہنر سکھانے، عوامی نمائندہ بننے جیسے حقوق کی فراہمی کے لیے مطالبات ہوئے۔ بہر حال چند برسوں میں ہی یہ تحریک عالمی سطح پر مقبولیت اختیار کر گئی۔اس سارے کھیل میں دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ حقوق جن کا تقاضاامریکی عورت نے بیسویں صدی کے ابتدائی عشرے میں کرنا شروع کیا، ہمارے مذہب نے اپنی ابتداء میں ہی وہ سارے کے سارے حقوق عورت کی جھولی میں ڈال دیے۔عورت اس زمانے میں کاروبار بھی کرتی تھی، حضرت عائشہؓ نے ایک لیڈر کی حیثیت سے حضرت علی ؑ کے ساتھ، ایک غلط فہمی کی بنیاد پر ہی سہی، جنگ بھی لڑی، وہ مردوں کی معلم بھی تھیں، عورتیں اس زمانے میں طب کا علم بھی رکھتی تھیں، اور تو اور حضور اکرم صلعم کی ریاستِ مدینہ میں ایک کلیدی عہدہ بھی ایک عورت کے سپرد تھا۔

مانا کہ بر صغیر پاک و ہند میں عورت کو کبھی بھی آئیڈیل صورتحال نہیں ملی اور عورت کا بے حد استحصال ہوتا رہا ہے بلکہ آج بھی ہو رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ استحصالی طبقے نے عورت کا استحصال کرنے کے لیے مذہب کا کارڈ ہی استعمال کیا ہے۔چلیں، آپ ’’یوم خواتین‘‘ ضرور منائیں، لیکن پاکستان میں منعقد کی گئی ریلیوں میں جو کچھ عورتوں نے پلے کارڈ کے نام پر ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا، کیا وہ کسی بھی عزت دار گھرانے کی عورت کو زیب دیتا ہے؟ کیا پاکستانی عورت کو صرف جنسی سطح کے مسائل درپیش ہیں کہ اکثر کارڈز کی نوعیت اسی طرح کی تھی، ’’زہریلی مردانگی‘‘ اور’’ عورت کے اعضائے مخصوصہ پر مبنی پلے کارڈز ‘‘ جن پر My body is not your battleground تحریر تھا۔ نہ تو ہر عورت کا استحصال ہوتا ہے اور نہ ہی ہر مرد استحصالی ہوتا ہے۔ یہ جو عورتیں اس طرح کے پلے کارڈز اٹھا اٹھا کر سڑکوں پر نکلی ہوئی تھیں کیا وہ پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں؟ وہ کیا جانیں کہ پاکستان میں عورت کو در حقیقت کن مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے نزدیک ’’چادر اور چاردیواری گلی سڑی لاشوں‘‘ کی منزل ہوتی ہے،

تو کیا پیاری بہنو!تمہاری مائیں اور تمہاری دادیاں گلی سڑی لاشیں تھیں جو چادر اور چاردیواری کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتی تھیں۔ اسلامی تاریخ عورتوں کے شاندار کارہائے نمایاں سے بھری پڑی ہے جن کی چند مثالیں میں نے اپنے مضمون سے پہلے بیان کی ہیں اور یہ وہ عظیم عورتیں تھیں جنہوں نے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو قائم رکھتے ہوئے معاشرے میں اپنی جگہ بنائی۔ کیا آج کی عورت کے مسائل کا صرف ایک حل ہے کہ عورت سے چادر چھین کر اسے سر برہنہ کر دیاجائے، اور اس سے چار دیواری کا تقدس چھین کر اسے گلی محلے، چوبارے اور کوٹھے کی زینت بنا دیا جائے۔ ہرگز نہیں! جو لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں دراصل ان کی حیثیت خود گلی سڑی تعفن زدہ لاشوں سے بڑھ کر نہیں، جو خود سے اٹھتے ہوئے تعفن اور سڑاند سے ہمارے معاشرے کو آلودہ کیے ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان عورت چادر اور چار دیواری کے تقدس کو قائم رکھتے ہوئے آج سے پہلے بھی معاشرے میں اپنا مقام قائم رکھے ہوئے تھی اور آج بھی چادر میں رہتے ہوئے ہر ایک شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے اور انشاء اللہ دیتی رہے گی۔یہ تعفن زدہ لاشیں گلتی بھی رہیں گی اور ان سے تعفن بھی اٹھتا رہے گا۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */