ہاں میرا بیٹا ہے - عبدالباسط ذوالفقار

وہ میری داہنی جانب والی سیٹ پر بیٹھی تھیں۔ ان کے ساتھ جواں سال بیٹا یا پوتا تھا۔ گاڑی چلتی، جھٹکا لگتا، جمپ پر سے اچھلتی تو وہ ڈر کر سہم جاتیں اور کلمۂ طیبہ فوراً زبان پر طاری ہو جاتا۔ نحیف و نزار، جھریوں بھرے چہرے پر خوف کا تاثر نمایاں ہوتا۔ وہ فوراً بیٹے کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر ڈر سے کچھ بڑبڑاتیں اور تسبیح والے ہاتھ سے سامنے لگے پائپ کو کسی قدر مضبوطی سے تھام لیتی تھیں۔ جب جب گاڑی آہستہ، تیز، یا جمپ کرتی وہ ڈر جاتی تھیں۔ عمر کا تقاضا تھا شاید، یا کچھ ڈر تھا جو ان کے اندر بیٹھا تھا جس کا اظہار بلاجھجھک کرتی تھیں۔

جب وہ ڈر کر، بڑبڑاتے ہوئے بیٹے کا گھٹنا تھام لیتی تو اس کے چہرے پر بے زاری اور مردنی کیفیت چھا جاتی اور اسے اپنی بے عزتی محسوس ہوتی۔ جس کا اندازہ اس کے چہرے بشرے سے لگایا جاسکتا تھا۔ بیٹا شاید سوچتا تھا کہ میں، پڑھا لکھا، سوٹڈ بوٹڈ، بابو آدمی، لوگ میرے ساتھ اس بوڑھی گنوار، دیہاتی عورت کو دیکھ کر کیا سوچیں گے؟ جسے گاڑی میں بیٹھنے تک کا سلیقہ نہیں معلوم۔ جاہل عورت ہے جو گاڑی کے تیز چلنے سے ڈگمگائے جارہی ہے کہ کہیں گر نہ جاؤں۔

جب اماں گاڑی کے تیز چلنے کے جھٹکے سے ڈرکر اس کا گھٹنا تھام لیتیں اور باآواز بلند اپنے ڈر کا اظہار کرتیں تو بیٹا، بجائے احترام، محبت، عزت، اپنائیت، پیار کے ایسے جھاڑ کر ان کا ہاتھ جھٹکتا کہ وہ سہم کر رہ جاتی تھی۔ کلمے کی آواز قدرے بلند ہو جاتی اور تسبیح کے دانے تیزی سے گرتےاور لفظِ اللہ کی نحیف گونج بھی کان کے پردوں سے ٹکراتی۔ وہ جوان لڑکا اپنی بوڑھی اماں سے اس قدر بیزار، تنگ، دِکھ رہا تھا جیسے اس کا بس نہ چلتا ہو کہ چلتی گاڑی سے اٹھا کر نیچے پٹخ دے اور پھر کہے اب کرو چخ چخ، اب بڑبڑاؤ، اب کانپو، اب ڈر نہیں لگے گا اور پھر نک ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرکے اور لمبا سانس لے کر پاؤں پسار کر بیٹھ جائے۔

میرا اس نوجوان کے رویّے پر چِلّانے کو دل کر رہا تھا۔ اس کے یوں چپکے چپکے جھڑکنے پر مجھے حیرت ہوتی، کہ بھلا اپنی اماں کے ساتھ ایسا کیوں کرتا ہے؟ اسی کی کوکھ سے جنم لے کر اسی پر دھونس جما رہا ہے؟ کیوں خود کو ایسا توانا جوان سمجھتا ہے کہ کبھی اس پر یہ وقت نہیں آئے گا؟ کس زعم میں مبتلا ہے؟

جب اماں ڈر کر رونی صورت بناتیں، کلمے کا ورد تیز کرتیں، تسبیح والے ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتیں، تب تب اس نوجوان کے چہرے بشرے پر بےزاری ایسے چپکتی دکھائی دیتی جیسے ڈاک خانے کے لفافے پر ٹکٹ چپکا ہوتا ہے۔ وہ اپنی اماں کو جھڑکتا، پھر آنکھ کی پتلیاں گھما کر، ٹیڑھی آنکھ سے پچھلی نشست کی طرف بھی دیکھتا، جہاں کالج کی لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔

وہ اماں کے ڈر کو نظر انداز کر کے اپنی پتلون کی جیب سے انڈرائیڈ فون نکال کر اپنا انگوٹھا سکرین پر پھیرتا۔ اماں کے قریب ہو کر، غصے سے کچھ بڑبڑاتا۔ ساتھ ہی آنکھ کے کونے سے پیچھے بیٹھی لڑکی کو دیکھتا پھر، ذرا اوپر ہوکر، موبائل جیب میں ٹھونستا۔

میں اس سارے معاملے پر نظر ڈالتے ہوئے سوچنے لگا ہم اپنے بڑوں سے کیوں اس قدر بیزار ہو گئے ہیں؟ یہ وہی بیٹا ہے جس کی پیدائش سے پہلے ہزاروں جتن کیے گئے۔ جس کی دنیا میں آمد کے لیے منتیں مانیں۔ زیارتوں پر چڑھاوے چڑھائے،پیروں، فقیروں، باباؤں،بزرگوں کے پاس گئیں۔ دعائیں کروائیں، دھاگے باندھے، تعویذ کروائے۔ حکماء کے دروازے کھٹکھٹائے۔ اطباء سے نسخے لیے۔ ڈاکٹروں سے مشورے کیے۔ جس کی پیدائش کے لیے بیت اللہ جانے والے سے وہاں دعائیں کروائیں۔ جب خود جانے کاموقع ملا تو کعبے کا غلاف پکڑ پکڑ کر گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ حضور کے طفیل سجدوں میں سر رکھ رکھ کر رو رو کر مانگا۔ کیا کچھ جتن نہ کیے۔ جب محنت کا پھل ملا، خدا تعالیٰ نے جھولی بھری تو یہ ملا جو اب اسی ماں سے نفرت کر رہا ہے۔ اسے خود سے کمتر، حقیر، سمجھ رہا ہے۔

میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ گاڑی اپنے اسٹینڈ پر رک گئی۔ سب سواریاں اترنے لگیں۔ اماں نے، نم آنکھوں، کلمہ شکر سے لبریز لب، کانپتے جسم، الحمدللہ کی بوڑھی آواز کے ساتھ، آہستہ قدموں گاڑی سے باہر نکل کر قدم رکھا۔ ان کا وہ بیٹا انہی لڑکیوں کو تاڑتا جارہا تھا جن سے گاڑی میں آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ جب اماں گاڑی سے باہر آ گئیں، تو اس نےانہیں انتہائی کڑوے لہجے میں وہاں لگی کرسیوں کی طرف اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہا۔ "وہاں بیٹھو، میں ٹکٹ لے کے آتا ہوں'' ساتھ ہی بھنبھناتا ہوا ان لڑکیوں کے پیچھے پیچھے دوسرے اسٹینڈ کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے جلدی سے اماں کو تھاما، بٹھایا، پانی پلایا۔ وہ روپڑیں، دعاؤں بھلاؤں کے ساتھ میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ماتھا چوما، میں ان کا بیگ اٹھانے گاڑی کے پاس گیا جب واپس مڑا تو وہ، تیوری چڑھائے ہوئے تھیں۔ جیسے اپنے آپ پر تلملا رہی ہوں، گھن کھا رہی ہوں۔ میں نے ان کا بیگ قریب رکھا اور پوچھا وہ آپ کا بیٹا ہے کیا؟ اس کے ہونٹوں پر زہرخند پھیل گیا۔ دور فضاؤں میں دیکھتے ہوئے آہ بھری "بیٹا؟"۔ آنکھوں میں حزن و ملال کی گھٹائیں ابھریں اور دل سے ہاں میرا بیٹا ہے کی آواز ابھری۔ میں دل تھامے رنج و الم سے انہیں دیکھتا رہا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔