میرے بابا - عظمیٰ ظفر

"زین! اٹھو بیٹا تمہارے کالج جانے کا ٹائم ہونے والا ہے۔"

مجھے بابا کی نرم اور پیاری آواز سنائی دی، میں ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔مگر … وہ میرےسامنے نہیں تھے۔

انہیں مجھ سے جدا ہوئے پورے دو مہینے ہونے والے تھے۔ ان کی یاد اور تصور نے میری آنکھوں سے اشک رواں کردیے۔ میں بے دلی سےکالج جانے کی تیاری کرنے لگا، رفتہ رفتہ مجھے خود سے نفرت سی ہونے لگی تھی۔

بوجھل قدموں سے کالج جاتے ہوئے میں بچپن کی یادوں کھو گیا میں جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا مجھے ان سے چڑ سی ہوتی گئی۔امی کے انتقال کے بعد بابا میرا ایسے خیال رکھنے لگے جیسے میں کوئی دودھ پیتا بچہ ہوں۔ مجھے سیونتھ کلاس کارزلٹ ڈے یاد آرہا تھا، جب میں ٹرافی اور رزلٹ لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے گلے لگا کر پیار کیا اور بہت سارے غبارے اور ٹافیاں میرے دوستوں میں بانٹیں تو وہ سارے منہ چھپا کر ہنسنے لگے، میرا توشرمندگی سے برا حال تھا۔ بابا شام کو تحفہ لنے کا وعدہ کرکے مجھے اسکول سے گھر چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ "ہونہہ … ہوگا کوئی بھالو یا پانی والا پستول" میں نے دل میں سوچا۔ جب میں گھر آیا تو دادو نے اتنے شاندار رزلٹ پر مجھے مبارکباد دی اور میرے غصے کی وجہ بھی پوچھی۔

"دادو آپ بابا کو سمجھاتی کیوں نہیں۔ میں کیا ون، ٹو کلاس کا بچہ ہوں؟ میرے دوست مذاق اڑتے ہیں بابا کی وجہ سے" میں ان کے سامنے پھٹ پڑا تھا۔رات حسب وعدہ بابا میرا تحفہ لے کر آئے سچی بات ہےمجھے بھی اس تحفے کا دن بھر بے تابی سے انتظار تھا۔ میں نے جلدی جلدی پیکٹ کھولنا شروع کیا اندر ایک بڑی سی چمچماتی ریموٹ کنٹرولڈ کار تھی، جسے دیکھتے ہی میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی میں جو کسی بڑےگفٹ کا منتظر تھا اسے دیکھتے ہی غصہ سے چلا اٹھا۔

یہ بھی پڑھیں:   جھوٹے ضمیر کا بوجھ - رقیہ اکبر

"میرے سب دوستوں کے پاس اپنا ٹچ فون ہے، کمپیوٹر ہے اور آپ میرے لیےیہ تحفہ لائے ہیں۔ بالکل پسند نہیں آیا"۔ یہ کہہ کر میں نے بابا کی طرف دیکھا تو وہ بالکل اداس نظر آرہے تھے ان کے چہرے کی خوشی جیسے مانند پڑ گئی تھی۔

ہارن کی تیز آواز مجھے تصورات کی دنیا سے واپس حقیقت کی طرف لے آئی۔

جیسے ہی کالج کے احاطےمیں داخل ہوا میرے دوست علی نے میرا پر تپاک استقبال کیا۔ بابا کے انتقال کے بعد میں آج کالج آیا تھا۔ علی حال احوال پوچھنے کے بعد فزکس کے ٹیچر کے بارے میں بتانے لگا جو پوری توجہ سے نہیں پڑھا رہے تھے۔ علی فزکس میں کمزور تھا اور اسے اچھے نوٹس نہیں مل رہے تھے۔ اس لیے اسے اس مضمون میں فیل ہونے کا بھی خدشہ تھا۔ پھر وہ بابا کی تعریفیں کرنے لگا کہ وہ پڑھائی میں کتنی مدد کرتے تھے جب وہ کمبائن اسٹڈی کرنے گھر آتا تھا کہ بابا مشکل سے مشکل فارمولے کو بھی کتنی آسانی اور دل نشیں انداز میں سمجھاتے تھے کہ دوبارہ پوچھنے کی نوبت ہی آتی تھی۔

علی کی باتیں میرے زخموں پر نمک پاشی کرتی رہیں۔مجھے ان کا وہ مشفق لب ولہجہ یاد آرہا تھا حالانکہ جب وہ مجھے کئی کئی گھنٹے راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھاتے تھے تو میں دل میں دعا کیا کرتا تھا کہ یا تو وہ جلدی سوجائیں یا آفس کے کاموں کی وجہ سے گھردیر سے آیا کریں۔میں اس بات سے چڑ جایا کرتا تھا کہ جب مجھے سارے سبق ازبر ہیں تو مجھے کیوں بار بار پڑھاتے ہیں؟ میں انہی خیلات میں غلطاں تھا کہ میرے دوست احمد نے مجھے آواز دی اور میں چونک گیا۔

وہ میرے موجودہ حلیے کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں تو ہمیشہ ہیرو نظر آتا تھا آج کس حلیے میں دکھ رہا ہوں؟ میرے دوست میرے اسٹائل کو سراہتے تھے۔ میرے جوتے، گھڑی، کپڑے غرض ہر چیز کو وہ ستائش بھری نظروں سے دیکھتے تھے اور میری کاپی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ آج حیران تھے کہ مجھے کیا ہوگیا۔مگر انہیں کیا معلوم اور میں انہیں کیا بتاتا کہ وہ سب میری نہیں میرے بابا کی پسند تھی۔ وہ میری شاپنگ خود کرتے تھے اور میں اکثر اس بات پر بھی چڑ جاتا تھا کہ مجھے میری پسند کی شاپنگ بھی کرنے دیا کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین کے نام ۔ زارا مظہر

لیکن آج میری پسند میرا مذاق اڑا رہی تھی اور وہی دوست جو مجھے ہیرو سمجھتے تھے آج میں ان کو زیرو لگ رہا تھا۔

بابا کی ایک عادت یہ بھی تھی کی اکثر مجھے کالج چھوڑنے آتے تو ہاتھ پکڑ کر کلاس تک چھوڑتے سارے دوست کہتے کہ زین تو ننھا بچہ ہے اپنے بابا کی انگلی پکڑ کر آتا ہے۔مجھے ایسا لگا وہ میرا تمسخر اڑا رہے ہیں اور اس دن، رات کو میں نے بابا سے بہت بدتمیزی کی میں کہہ رہا تھا کہ " آپ آئندہ مجھے کالج چھوڑنے نہیں جائیں گے۔ آپ کی یہ عادت مجھے دوستوں کے سامنے شرمندہ کرتی ہے"۔

میں بھول گیا تھا کہ وہ دل کے مریض ہیں۔ اس واقعے کے بعد بابا بہت خاموش رہنے لگے۔ ان کی خوشی جیسے گم ہوگئی تھی۔ آج مجھے ان کی ایک ایک بات یاد آرہی تھی،ان کا والہانہ پن ان کی محبت، مسکراہٹ، پھر وہ ایسے خاموش ہوئے کہ مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے اور میں ان سے معافی بھی نہیں مانگ سکا۔ لیکن اب پشیمان ہونے سے کیا فائدہ کاش میں نے ان کی قدر ان کی زندگی میں کی ہوتی کاش۔۔۔۔!

ٹیگز

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.