روز پرندوں کے گھونسلے بدلواتے ہو - اختر عباس

یہ پہلی بار نہیں ہو رہا،یہ کئی بار ہو چکا ہے۔ میری یادداشت میں بہت وضاحت سے وہ سارے دن، اخبار اور خبریں محفوظ ہیں جب پہلی بار یہ ہوتے دیکھا تھا اور یقین نہیں آتا تھا۔ اس بے مہر روایت کا نقطہ آغاز اور عروج بھٹو صاحب کے دور کے اختتامی دنوں میں ہوا۔ ۱۹۷۷ء کے الیکشن ہونے والے تھے اور بھٹو صاحب نے وقت سے پہلے ان کا اعلان کردیا تھا۔ یہ زعم تھا، 'اوور ایسٹی میشن' یا اپنے سیاسی مخالفین کو دیا گیا سرپرائز۔ روزانہ سب سے زیادہ اور بڑے تواتر سے چھپنے والی خبریں یہ ہوتی تھیں کہ فلاں سیاسی رہنما اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا۔ اس نے قائد عوام پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔

بھٹو صاحب کو نام سے کم ہی بلایا جاتا تھا۔ فخر ایشیا اور قائد عوام ان کے لیے استعمال ہونے والے لاحقے تھے۔ مجھے وہ اپنی پی کیپ سمیت بہت اچھے لگتے تھے۔ عمران خان صاحب بھی کیا بد زبانی کرتے ہوں گے جو بھٹو صاحب کرتے تھے۔ مقابلہ کرنے والے اتحاد کا نام پی این اے تھا، اسے قومی اتحاد کہا جاتا تھا۔ مولانا مفتی محمود اس کے سربراہ تھے [ آج کے مولانا فضل الرحمٰن کے والد تھے وہ، اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے ان کا ولی خان کی نیشل عوامی پارٹی سے اتحاد بھی تھا اور بھٹو صاحب نے ان کی حکومت توڑ کو گورنر راج نافذ کر دیا تھا ]۔

ان دنوں جنوبی پنجاب سے پی پی پی میں شامل ہونے والوں کی تعداد بھی خوب تھی۔ فضا ایسی بن گئی تھی کہ ہر طرف ایک ہی نام تھا۔ پھر پیپلز پارٹی نے غلطیاں کرنے کا فیصلہ کیا اور بھٹو صاحب کے مقابل الیکشن لڑنے والے جماعت اسلامی کے مرنجاں مرنج امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کر لیا گیا، یوں بھٹو صاحب بلامقابلہ ایم این اے بن گئے۔ یہی کام تمام وزرا اعلیٰ نے کیے اور وہ بھی اپنے قائد کی طرح مقبولیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ یہ دھاندلی کا آغاز تھا جو با لآخر "دھاندلا" بنا اور پورے الیکش ہی بے معنی ہو گئے۔ صوبائی الیکشن تب الگ ہوتے تھے، وہ اس عالم میں ہوئے کہ پولنگ سٹیشن خالی پڑے تھے، عوام بائیکاٹ کر چکے تھے۔ پارٹی میں شامل ہونے والے اپنے گھر بیٹھے ووٹر کونہ لا سکے، اسی شام کو پلاسٹک اور گتے کے ڈبے پی پی پی کے ووٹوں سے بھرے نکلے۔ دلائی کیمپ کی الگ گونج تھی اورملک قاسم جو ایوب دور میں پارلیمانی سیکریٹری رہے تھے۔ اپنے جسم اور روح پر لگے گھاؤ دکھاتے اور بتاتے ہوئے رو دیا کرتے تھے۔ جماعت والے، میاں طفیل محمد صاحب پرجیل میں ہونے والے سلوک کا ڈھکے چھپے ذکر کرتے اور ڈاکٹر نذیر، عبدالصمداچکزئی، خواجہ رفیق اور راولپنڈی میں نیپ کے جلسے میں سرکاری فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کا ذکر الیکشن مہم کے مقبول موضوعات تھے۔ بھٹو صاحب کے حق میں لکھنے والا کوئی خال خال ہی ملا کرتا تھا،ایسے میں روز نئے شامل کروائے جانے والے لوگ آج مسلم لیگ سے بھجوائے جانے والوں سے بہت زیادہ تھے۔ کوئی انہیں ایوب خان کے زمانے میں حکومتی ضروریات کے لیے بنائی جانے والی کونسل مسلم لیگ کا پھل کہتا، کوئی انہیں مرغ باد نما کا خطاب دیتا، لوٹے کا خطاب بعد کے ادوار کا تحفہ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

تزویراتی حکمت عملی طے کرنے والوں شہ دماغوں نے سیاسی حرکیات سے کچھ نہ سیکھتے ہوئے وہی حربے دہرانے شروع کیے جو تب بھی پٹے تھے، جب وہ انہیں ایجاد کر رہے تھے۔ یہ خبریں اسی ملک کی ہی تھیں کہ وہ سب ڈرامہ اور اپوزیشن کے اتحاد بنوانے کے کارنامے اپنی ہی فوج کے لوگ ملک کی سلامتی اور حفاظت کے نام پر کرتے رہے۔ بعد میں آئی جے آئی کی ولدیت میں بھی انہی کا نام اور کام لکھا اور پڑھا گیا، اختیارات اور بادشاہت سے دورعام لوگوں کو صرف ووٹ کا حق ہوتا ہے وہ بھی اسے دینے پر خاص لوگ تیار نہیں ہوتے، ایسٹ پاکستان کی علیحدگی اسی ووٹ کی بے عزتی کا شاخسانہ تھا،پانی سر سے گزر گیا اور ہمیں پتا ہی نہ چلا۔

بہت سے چھاتہ بردار تجزیوں میں ثابت کیا جاتا ہے کہ میاں صاحب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جا رہی ہے۔ کوئی دن جاتے ہیں وہ بھولی بسری کہانی ہوں گے، یہ ان کے آخری دن پھر وہ اڈیالہ جیل میں ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارے جملے ایک ہی طرح کے لوگ بول اور لکھ رہے ہیں اگر ایسا ہے تو پھرسیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کا کیا مطلب؟ جنوبی پنجاب کے نام پر مسلم لیگ سے توڑے گئے گروپ کے اکثر لوگوں کو تو شاید اس کی حدود کو بھی علم نہ ہو۔ یہ بیچارے زبانی چار سطریں نہیں بول سکتے اگر پورے پانچ برس کسی نے ان کو اسمبلی میں بولتے دیکھا ہو توضرور بتایئے گا۔ ان کی پریس کانفرنس بھی مضحکہ خیز تھی کہ وہاڑی والے ہمارے دوست تو چند ماہ میں تین بار پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں سے کسی نے آج تک پریس کانفرنس نہیں کی، پریس ریلیز جاری نہیں کی،وہ بیچارے اس دشت کی سیاحی کے لیے کبھی نکلے ہی نہیں تھے۔ ایسے میں بامروت سہولت کاروں نے ایک ہی دن میں ان کو اپنی ایڈ ایجنسی سے پورے صفحے کا اشتہار بنا کر اخبارات کو جاری بھی کرا دیا۔ میں نے وہ روزنامہ پاکستان میں دیکھا تو مسکرا کر رہ گیا۔ اسی شام تک کسی مہربان نے انہیں سوشل میڈیا پر جنوبی پنجاب کااکاؤنٹ بھی بنا دیا اور ایک عمدہ سا کلپ بھی بنا کر چلوا دیا،

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

ایک صوبہ چھوڑ، کئی صوبے بنائیے۔ ون یونٹ سے پہلے بھی تو تھے۔ تب بھی آپ ہی نے ون یونٹ بنایا تھا اور اس کے خلاف بات کرنے کو گناہ بتایا تھا۔ اب آپ سندھ میں صوبے بنانے کو گناہ بتاتے ہیں، جہاں ضرورت ہے شہری اور دیہی کا مسئلہ شدید ہے۔ چونکہ آپ کے مقامی لاڈلے نہیں چاہ رہے تو وہاں یہ ایشو ہی نہیں۔ محرومی کے مارے بلوچستان کو دو تین صوبوں میں بانٹنا انتظامی طور پر بہت آسانیاں دے گا۔ خیبر پختونخوا میں ہزارہ کا مسئلہ تو کئی جانیں بھی لے چکا ہے۔ ہر ہر صوبے میں انتظامی طور پر نئے صوبے بنائیے یا بنوائیے۔ مگر یوں نہیں اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہے، باہر نہیں اور یوں یوں بلیک میل کر کے تو بالکل نہیں۔

اس وقت پنجاب کا مقدمہ لڑنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اسی کے کیوں حصے بخرے کیے جائیں؟ اربوں روپے جنوبی پنجاب پر لگے اس قدر خوبصورتی اور عمدگی سے کام کیا گیا کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ سڑکوں ہسپتالوں اور سکولوں کا جال ہے جو چار سو پھیلا ہے۔ یہ جو ڈال سے اڑے ہیں ان کے ہاتھ میں وفا ہی نہیں، کام کروانے کی بھی لکیریں کم کم ہیں۔ سندھ میں کچھ کام نہیں ہوا۔ اس کو بنیاد بنا کر وہاں دو صوبے پہلے بنا لیں تاکہ کام ہو سکیں۔ کوئی وجہ کوئی بنیاد تو ہو ایسے سنجیدہ فیصلے کرنے کی؟ نواز شریف نہیں جیت رہا، اس کے ووٹ ٹوٹ جائیں گے، اس کے مزیدپرندے اڑ جائیں گے، پھر پی پی پی کے سارے ہارے پرندے خان صاحب کی جھولی میں کیوں ڈال دیے ہیں کہ خوود اس کی کریڈیبلٹی بھی مشکوک کر دی ہے۔ دونوں کو میدان میں اپنے اپنے بل بوتے پر لڑنے دیں، یوں ایک کو باندھ کر ماریں گے تو جناب روایت یہی ہے کہ الیکشن ہی بے مصرف اور بے وقعت ہو جائیں گے۔

یقین نہیں آتا تو تاریخ سے پوچھ لیں۔ کون سی دور کی بات ہے، بھٹو کو مار کر اس کی پارٹی کو پچیس سال تک نہیں مار سکے تھے۔ ق لیگ بنا کر نون ختم کردی تھی، دس برس بعدجدہ سے واپسی ہوئی تو ق کے پاس گنتی کے لیے بھی سیٹ نہیں تھی۔ ۲۰۱۸ء میں حکمران پارٹی توڑ نے کی چالیس سال پرانی اس لولی لنگڑی حکمت عملی کو اپنا کر اگلے پچیس برس دوبارہ اس کے نام کرنے کا فیصلہ یقیناً سوچ سمجھ کر ہی کیا گیا ہو گا، سندھی بھٹو کو تین دہائیاں دلوں سے نہیں نکالا جاسکا تھا،اب کی بار تو پورا پنجاب اس ہارنے والے لیڈرکے ساتھ گھڑا نظر آرہا ہے تبھی تو روز پرندوں کے گھونسلے بدلواتے ہو۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.