راز حیات - حبیب الرحمٰن

آج سے 75 برس قبل جوش ملیح آبادی نے ایک نظم کہی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بر صغیر پاک و ہند ایک ہوا کرتا تھا اور اس زمانے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید اس دور کا معاشرہ آج کے دور کے معاشرے سے کئی لحاظ سے بہتر رہا ہوگا۔ شاید کرپشن آج کے مقابلے میں اس حد تک نہیں پائی جاتی ہو۔ جعل سازی، دھوکا دہی او ر مکر و فریب کے جال اس حد تک نہیں بچھے ہوئے ہوں جس طرح آج بچھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ان سارے حقائق کے باوجود جو چیز مشترکہ دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ ظلم، جبر، نا انصافی اور غیر ملکی مداخلتوں کے خلاف وہ سر کشی، جد و جہد، اس سے نبرد آزما ہونے کی ہمت و طاقت اور اسی قسم کے حالات اور ماحول سے بغاوت کا جذبہ اس دور کے انسانوں اور خصوصاً بر صغیر پاک و ہندمیں رہنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں میں بالکل ہی معدوم تھا جس طرح آج دنیا بھر کے انسانوں اور خاص طور سے مسلمانوں میں مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔

جس نظم، راز حیات، کو میں آج حوالہ بنا رہا ہوں اس میں جہاں جہاں ہند یا ہندو لکھا گیا ہے وہاں وہاں پاکستان اور مسلمان لکھ دیا جائے تو یہ ساری نظم حسبِ حال ہی لگتی ہے؟ فیصلہ عوام کا۔

بزدلی، دوں ہمتی، بے مائیگی، خوابِ گراں

تجھ پے اور یہ لعنتیں، افسوس اے ہندوستاں

بر چھیاں محزوں، بگل خاموش، پرچم تار تار

خود غمگیں، طبل جنگ افسردہ، نیزے دل فگار

دل میں خوف مرگ، رخ پے بزدلانہ اضطراب

ولولے سر در گریباں، ہمتیں مصروف خواب

کرب سے خنجر فسردہ، خستہ جانوں کی طرح

غم سے تیروں کی کمر میں خم، کمانوں کی طرح

عزم کے مضبوط رشتے ہاتھ سے چھوٹے ہوئے

زنگ کے پردوں میں تلواروں کے دل ٹوٹے ہوئے

ہند کچھ سنتا نہیں کس سے کہوں یہ ماجرا

یہ ہے انسانوں کا جنگل کون سنتا ہے صدا

کون ہندو سے کہے اے لالہ دولت نواز

اب بھی ہے کیا تجھ کو گردان ”مہا بھارت“ پے ناز

کون مسلم سے کہے اے مومن زار و نزار

لا فتیٰ الا علی لا سیفَ الا ذولفقار

کشتی ملت کو اس طوفاں میں کھینے کے لئے

کون بڑھتا ہے لہو تھوڑا سا دینے کے لئے

آہ اے ہندوستاں مشرق کی اے تاریک رات

کہہ رہا ہوں کب سے میں کمبخت یہ راز حیات

باگ میں ہے شہسواروں کی نظام زندگی

اسلحہ کی گھڑگھڑاہٹ ہے پیام زندگی

جان لے اے ہند اے ذرات کے خادم پہاڑ

موم بن جاتا ہے لوہے سے جو کرتا ہے بگاڑ

صرف ہلکی آنچ کی یورش سے گل جاتاہے موم

گرمی اغیار کے سانچے میں ڈھل جاتاہے موم

تجھ کو لوہا بن کے دنیا میں ابھرنا چاہیے

یہ اگر ہمت نہیں تو ڈوب مرنا چاہیے