ویلڈن شفق! – مسرور احمد

اس مضمون کا عنوان تو "سماجی ذمہ داری کا احساس، ہماری حکومتیں اور شہری " تھا لیکن بوجوہ اس کا انتساب ایک ایسے پاکستانی شہری کے نام کیا ہے جنھیں سماجی ذمہ داری کے احساس کی ایک بہترین مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔زیر نظر مضمون کا مقصد ایسے ذمہ دار اور درد دل رکھنے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ اوروں کو بھی اچھے کاموں کی ترغیب ملے۔

کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک بہادر، بے غرض، احساس کی دولت سے مالا مال، با اعتماد اور سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار بحریہ یونیورسٹی کی ایک سٹوڈنٹ شفق صہیب نامی لڑکی نے ایک غریب و بے یارومددگار خاندان کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کیں جو میری نظر سے بھی گزریں۔ تحقیق حال پر معلوم ہوا کہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والے کسمپرسی کے شکاراس خاندان کی ایک خاتون کینسر کی مریضہ تھیں اور شدید غربت کے سبب ان کے پاس علاج معالجہ کے وسائل نہ تھے۔ یہ لوگ بے یارو مددگار ایف نائن پارک اسلام آبادکے قریب روڈ کنارے کسی مسیحائی یا معجزے کی آس میں بیٹھے تھے۔ یوں تو سینکڑوں لوگ آجا رہے تھے لیکن کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ زرا رک کر اس پریشان حال خاندان کی کوئی مدد کرتے یا ان کی خیریت دریافت کر لیتے یا کم از کم ان کی رہنمائی ہی کر دیتے۔

اسی اثنا میں مزکورہ لڑکی کا وہاں سے گزر ہوا جو شاید اس وقت اپنی یونیورسٹی کی طرف جارہی تھیں۔انھوں نے نہ صرف اس خاندان کو دلاسا دیا بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت انھیں قریبی ہسپتال پہنچایا۔ بات صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ انھوں نے اس خاندان کی مدد کے لیے اپنے حلقہ احباب اور یونیورسٹی میں فنڈ ریزنگ کا سلسلہ شروع کر دیا اور گاہے بگاہے اس خاندان کی نہ صرف ہسپتال میں دیکھ بھال جاری رکھی بلکہ ان کے علاج معالجہ کے لیے سچے جذبے سے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی مشکلات کو حل کیا جس سے اس خاندان کو بے پناہ ریلیف ملا اور اب اس کینسر کی مریضہ کا بخوبی علاج ہو رہا ہے۔اس لڑکی کا شفقت، ہمدردی اور انسانیت سے محبت کا بھر پور کردار اپنی جگہ لیکن اس کے والدین بھی لائق ستائش ہیں کہ جنھوں نے اپنی بیٹی کو اتنی خود اعتمادی، اچھی تعلیم اور تربیت دی کہ وہ سماجی ذمہ داری کا احساس کر سکے۔ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اور ان میں سماجی شعور کا ادراک بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہےکیونکہ ایک اچھی ماں ایک اچھے معاشرے کی ضامن ہوتی ہے۔ کاش سماجی انقلاب کے لیے تمام والدین اور اساتذہ نسل نو کی ایسی ہی تعلیم و تربیت کر سکیں۔ یہ عمل نہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل خاص طور پر طلبا میں سماجی بہتری کا شعور پایا جاتا ہے بلکہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت بہت کچھ کرگزرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ بلا شبہ شفق صہیب جیسے کردار تمام لوگوں خاص طور پر لڑکیوں کے لیے رول ماڈل کا درجہ رکھتے ہیں جن میں سماجی ذمہ داری کا احساس پایا جاتا ہے۔اگر تمام شہری ایسی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو قطعی طور پرہمارا معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔

سال 2000 میں اقوام متحدہ نے ملینیئم ڈکلیریشن پروگرام کا آغاز کیا جس میں تمام ممالک کی حکومتوں کو 2015 تک سماجی بہتری کے لیے آٹھ واضح اہداف دیے گئے جن میں زچہ و بچہ کی صحت میں بہتری لانے، تعلیم کے فروغ، گلوبل پارٹنرشپ، صنفی مساوات، غربت، بھوک، ایڈز اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ پروگرام کے تحت 2015 تک شدید غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے تین نکاتی اہداف مقرر کیے گئے جن کے تحت روزانہ ایک ڈالر یا اس سے کم اجرت لینے والے افراد کی معاشی حالت کو بہتر بنانے، غریب خواتین و حضرات ورکرز کے لیے روزگار کے مناسب مواقع اور خوراک کی شدید کمی کے شکار افراد کی بحالی کے لیے حکومتوں کو اقدامات تجویز کیے گئے۔ بدقسمتی سے پاکستان دوسرے ممالک کی نسبت2015 تک سماجی بہبود کے اس پروگرام کا کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی کم یا غیر معیاری خوراک کی شکار ہے حالانکہ پاکستان دنیا کے بہترین زرعی و آب پاشی کے نظام کے ساتھ ایک ذرعی ملک ہے، پندرہ فیصد نومولود بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار رہتے ہیں، پانچ سال کی عمر تک کے 44فیصد بچے مکمل خوراک نہ ملنے کے سبب ذہنی طور پر نارمل نہیں ہوتے، 32 فیصد ایسے بچے ہیں جن کا وزن مناسب نہیں ہوتا کیونکہ حاملہ ماں کو بہتر خوراک میسر نہیں ہوتی جبکہ پاکستان میں ستر لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ہمارے ہاں حکومتی پالیسیاں، کرپشن، زرعی زمین کی غیر منصفانہ تقسیم، مادیت پسندی، تعلیم وشعور کی کمی، برآمدات کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر درآمدات، امن عامہ کی مخدوش حالت، توانائی کا بحران، بیرونی سرمایہ کاری میں کمی، پرائیویٹائزیشن یا اس عمل میں غیر شفافیت، لوگوں میں سماجی اخلاقیات و ذمہ داری کے احساس کی کمی،سماجی بہبود کے لیے مختص محدودبجٹ اوراسکا نامناسب استعمال جیسے مسائل غربت کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (HDI) جو دنیا بھر میں سماجی بہتری جانچنے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے کے مطابق کسی بھی معاشرے میں 0.800کے اعشاریے کو سماجی وانسانی ترقی کا مناسب ترین معیار مانا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ایچ آئی ڈی کی شرح پنجاب میں 0.600، سندھ میں 0.590،کے پی کے میں 0.480اور بلوچستان میں محض 0.440ہے اور اس حوالے سے پاکستان گلوبل رینکنگ میں 147ویں نمبر پر ہے۔ ایشیائی ممالک میں جنگ کے شکار افغانستان کے علاوہ باقی تمام ممالک ہم سے آگے ہیں۔ ایران 0.774، سری لنکا 0.766، مالدیپ 0.701، انڈیا 0.624، بھوٹان 0.607، بنگلہ دیش0.579، نیپال 0.558جبکہ پاکستان میں ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کی مجموعی شرح محض 0.550ہے۔ ایسے میں حکومت کے ساتھ ساتھ ہمارے باشعور طبقے پر بھی سماجی بہتری کے لیے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

کسی بھی ملک میں شہریوں کی اکثریت اگر غربت کا شکار ہو یا تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رہے تو اس ملک کا وجود و استحکام شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ غربت اور بنیادی ضروریات سے محروم شہری ملکی ترقی میں معاشی طور پر کسی خود کفیل شہری کی نسبت آزادانہ و قائدانہ کردار ادا نہیں کر سکتے اور یوں معاشرے کا ایک بڑا حصہ عضو معطل بن کر رہ جاتا ہے۔ الٹا سماج کو ان کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے مقاصد میں اسے ایک فلاحی مملکت بنانا بھی شامل ہے اور پاکستان تبھی ایک فلاحی ملک بن سکتا ہے جب حکومت کے ساتھ ساتھ شہری بھی احساس اور سماجی شعورکی بیداری وآگاہی کے اصول اپنا کر اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری کریں۔ سماجی ذمہ داری کا احساس کسی قانون کے تابع نہیں بلکہ یہ ہر فرد کا ایک اخلاقی فریضہ ہے اور مہذب معاشرے کے شہریوں میں یہ قانون سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ سماجی ذمہ داری کا مطلب ہے کہ خواہ کوئی تنظیم ہو یا فرد اخلاقی طور پر وہ معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنے کے پابند ہیں۔ اسی اصول کے تحت عالمی سطح پر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور منافع بخش کارپوریٹ اداروں کو سی ایس آر (corporate social responsibility) کے تحت منافع کا ایک حصہ سماجی بہبود کے پروگراموں پرخرچ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ سماجی بھلائی کا احساس ایک ایسی اخلاقی ذمہ داری ہے جس کو نبھانا ہر شہری پر لازم ہے۔ یہ ریاست کا اپنے شہریوں پر قرض ہوتا ہےتاکہ اکانومی اور ایکو سسٹم (ecosystems)میں توازن برقراررہے۔ طالبعلموں سے سماجی ذمہ داری کی سب سے زیادہ توقع کی جاتی ہے کیونکہ اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں جو ہمیں اچھا انسان نہ بنا سکے یا سماجی ذمہ داری کا احساس بیدار نہ کر سکے۔ تعلیم، شعوراور سماجی ذمہ داری کے احساس سے ہی معاشرے کی ہیئت تبدیل ہوتی ہے اور سماج کو خوبصورت بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ہمارے معاشرے کو ابھی اس سمت بہت لمبا سفر طے کرنا ہے کیونکہ یہاں تعلیم،شعور اور ذمہ داری کے احساس کا شدید ترین فقدان پایا جاتا ہے۔ ایسے میں شفق صہیب جیسی قوم کی عظیم بیٹیاں ہمارے معاشرے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں جن کی حوصلہ افزائی کرنے، نیکی و فلاح کے کاموں میں ان کا ساتھ اور انھیں عزت دینے کی ضرورت ہے۔ویلڈن شفق!