بچوں میں لکنت اور اس کا علاج - وقاص مرتضٰی

میری بیٹی نمرہ اگلے ماہ پورے چھ سال کی ہو جائے گی۔ یہ تقریبا کوئی سات آٹھ ماہ پہلی کی بات ہے کہ اچانک سے نمرہ کی زبان میں لکنت (stammering) آ گئی اور یہ لکنت بڑھ گئی حتٰی کے حروف تہجی یا انگلش کے ایلفابیٹس بھی اس کے لیے پڑھنے مشکل ہو گئے اور اس نے جگہ جگہ اٹکنا شروع کر دیا۔ اس وقت ہم سب کے لیے جو پہلے اس کو نارمل سمجھ رہے تھے کہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی ایک دم بہت الارمنگ صورتحال بن گئے۔ تھوڑی سی فوری توجہ اور پریکٹس سے الحمد للہ اب یہ لکنت تقریبا 90 فیصد ختم ہو گئی ہے۔

آثار

- کسی ایک لفظ کا باربار دھرانا۔

- کسی ایک حرف پر اٹک جانا اور اس کی ادائیگی کے لیے بہت زور لگانا۔

- جب کہیں اٹکنا تو نظریں ہٹا کر دوسری طرف دیکھنا۔

بچے پر اثرات

بچے پر اس کے اثرات تھوڑے منفی سے بہت منفی ہو سکتے ہیں۔

- اگر بچہ بہت زیادہ لکنت کا شکار ہے تو اس کے لیے اپنی بات دوسرے کا بتانا بہت مشکل ہو جاتی ہے۔

- سکول میں بچے اس کو مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی خود اعتمادی بری طرح مجروح ہوتی ہے۔

- کلاس میں وہ اپنا سبق صحیح طریقے سے نہیں سنا سکتا

- جس بچے کو بہت زیادہ لکنت ہو تو اس کی بات کو سننے کے لیے بڑے صبر اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام اپنے والدین یا بہن بھائی تو کر سکتے ہیں مگر دوسرے لوگ نہیں کرتے جس کی وجہ اس بچے کو لگتا ہے کہ میری کوئی بات نہیں سنتا اور لوگ مجھے سے تنگ پڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ آہستہ آہستہ بات کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے یا ضدی اور چڑچڑا ہو جاتا ہے۔

علاج اور والدین کی ذمہ داری

ایسے میں والدین کی انتہائی ذمہ داری ہے کہ صورتحال کی فوری نوعیت کا ادراک کریں اور کسی speech therapist سے رجوع کریں۔ میرے کیس میں، میں نے کسی ڈاکٹر سے رجوع تو نہیں کیا مگر یہ کہ انٹرنیٹ پر اس موضوع انگلش اردو میں کافی تعداد میں لیکچرز اور ڈاکومنٹریز تھیں وہ دیکھیں۔ ان سے میں نے اہم پوائنٹس نوٹ کر لیے اور گھر میں اپنی اہلیہ کو بھی بریف کیا۔ ان میں سب سے اہم اور پراثر جو تدابیر پائیں وہ یہ ہیں کہ

- بچے کو ہرگز بار بار لکنت پر ٹوکیں نہ کہ یہ کیسے بول رہے ہواور ہرگز اس پر نہ ڈانٹیں۔

- عموما بچوں میں لکنت زیادہ اس وقت ہوتی ہے جس وہ بہت خوشی یا پریشانی یا جذبات میں تیز تیز بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جونہی وہ تیز تیز بولنے کی کوشش کرتے ہیں لکنت میں زیادہ اضافہ ہو جاتا اور وہ زیادہ اٹکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے گھر میں یہ بات سب کو باور کرا دیں کہ متاثرہ بچے کے ساتھ بالکل آرام آرام سے( یعنی کہ بولنے کی رفتار تیز نہ ہو) بچے سے بات کریں۔ جب آپ بچے سے بات کریں تو یہ عادت بنا لیں کہ ایک ایک لفظ آرام آرام سے اور ٹھہر ٹھہر کی ادا کرنا ہے تا کہ بچے کو بھی یہ بتائیں کہ وہ بھی آپ سے آرام آرام اور ٹھہر ٹھہر کر بات کرے۔ ان شاء اللہ آپ بھی دیکھیں گے اور ہم نے بھی اپنی بیٹی کے کیس میں دیکھا کہ ایک ہفتہ کی پوری کوشش کے ساتھ نمرہ کی لکنت پچاس فیصد ختم ہو چکی تھی۔

- جب آپ آہستہ آہستہ بولیں گے تو ظاہر وقت زیادہ لگے گا، اس لیے پہلے ہی اس کے لیے تیار رہیں کہ پوری طرح صبر اور خوشی کے ساتھ اپنی بچے سے بات کرنی ہے اور اگر اس میں وقت لگ رہا ہے تو تنگ نہیں پڑنا۔

- ہر وہ عمل یا محرک جس سے بچے میں لکنت کا عمل تیز ہو جاتا ہے اس کو نوٹ کریں مثلا نمرہ کے کیس میں ہم نے دیکھا کہ جب وہ پریشان ہوتی تھی جیسے ٹیسٹ نہیں تیار ہو رہا یا ڈانٹ پڑی ہے یا وہ جب بہت خوشی میں تیز تیز بول رہی ہے تو لکنت بھی بڑھ جاتی تھی۔ اس لیے ان محرکات میں جو آپ کم کر سکتے ہیں کو کم سے کم کریں۔ مثلا ڈانٹ ڈپٹ یا ٹیسٹ وغیرہ کے لیے پریشر ڈالنا اس کو کم سے کم کردیں۔

- بچے کا ٹی وی ٹائم یا موبائل پر گیمیں کھیلنے کا ٹائم کم کریں اور کارٹونز وغیرہ دیکھنے کے ٹائم کو فکس کر دیں۔ جتنا بچے کا زیادہ سکرین ٹائم اتنا وہ فوکس اور کنسنٹریشن کم ہو جاتی ہے۔ وہ بات ایک کر رہا ہو گا اور سوچ دوسری رہا ہو گا۔

- اپنے بچوں کو وقت دیں۔ جب گھر میں ہوں تو ان کے ساتھ آرام آرام کے ساتھ گپ شپ کریں۔ ان سے کہانیاں اور دن بھر کر روداد سنیں اور اپنی سنائیں۔

الحمد للہ، ان تدابیر کے ساتھ تقریبا ایک ہفتہ میں ہی رزلٹس آنے شروع ہوگئے۔ لکنت بہت کم ہو گئی۔ اور دو تین ہفتہ میں تقریبا اسی سے نوے فیصد لکنت ختم ہو گئی۔ یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید کوئی اور بھی اس پریشانی سے گزر رہا ہو اور شاید اس کا کچھ فائدہ ہو جائے۔

ٹیگز