بھِیڑ کا دماغ نہیں ہوتا - عاصم اقبال

منظور پشتین میں نہ تو محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری والی بات ہے جو قندھار سے دہلی تک پختون سلطنت قائم کر سکے، نہ اس کےپاس باچا خان جیسا وژن اور قابلیت ہے جو قوم کی درست سمت میں رہنمائی کر سکے، نہ وہ قائد اعظم‬‎ محمد علی جناح جیسا پولیٹیکل جینیئس ہے جو دلیل قانون اور اخلاق عرض کہ ہر زاویے سے کامل انداز میں مطالبات کو پیش بھی کر سکے اور منوا بھی سکے۔ بدقسمتی سے پختون قوم کو ملا تو اسفندیار ولی ملا، محمود خان اچکزئی ملا اور مذہب کے نام پر دھندا کرنے والا مولوی ملا، لیکن نہ ملا تو قوم کی رہنمائی کرنے کے لیے رہنما نہیں ملا۔

آج اگر حکومت ان پاکستانیوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے کر نقیب اللہ محسود کے گھر والوں کو فوری انصاف دینے کی یقین دہانی کرائے۔ آرمی چیف فوج کو ایک حکم جاری کردیں کہ چیک پوسٹ پر عوام کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں، مزید بہتری کے لیے چیک پوسٹس پر تعینات فوجیوں کو ٹریننگ کورسز کرائے جائیں۔ بارودی سرنگوں کو ختم کیا جائے یا یہ باور کرایا جائے کے اس سے عام لوگوں کو نقصان نہ پہنچے گا۔ لاپتا افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے اور ان پر جرم ثابت کیا جائے۔ جرم ثابت ہو تو عدالت سزا سنائے، ورنہ رہا کیا جائے۔ حکومت فاٹا کو خیبر پختونخوا کے میں ضم کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرے اور فاٹا کے عوام کو برابر حقوق دیے جائیں۔

جب لوگوں کے مسائل حل ہو جائیں گے تو تیز رفتار اور مہنگائی کے دور میں کس کے پاس اتنا وقت کہ جلسے جلوسوں میں نکلے؟

منظور پشتین مظلوم مایوس لوگوں کی بھیڑ میں ایک بالکل ہی عام اور جذباتی نوجوان ہے، جو اس بھیڑ میں درخواست گزاروں کی آواز بنا۔ حکومت اگر عوام کے مسائل حل نہیں کرے گی تو منظور پشتین آگے چلتا جائے اور لوگوں کی بھیڑ پیچھے چلتی رہے گی۔ ایسی صورت میں اگر دشمن اس تحریک کو ہائی جیک کرتا ہے یا کوئی اس بھیڑ کا رخ موڑ کر پاکستان مخالف مقاصد کے لیے استعملا کرتا ہے تو مجرم حکومتِ وقت ہی ہوگی۔

یاد رکھیے، بغیر رہنما کے جمع ہونے والے لوگوں کو بھِیڑ کہتے ہیں اور بھِیڑ کا دماغ نہیں ہوتا۔