ابنِ آدم ا ور بنتِ حوا - ربیعہ فاطمہ بخاری

حضرت آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں پیدا کیا۔ جنت ایک کیف، سرور، لذت کام و دہن، لطف، ذہنی سکون اور اطمینان کا حتمی استعارہ ہے، اس سے بڑھ کر پُر کیف اور سرور آور جگہ کا تصور کم از کم ذہنِ انسانی میں کہیں نہیں ہے۔ لیکن اتنی عیش و عشرت، دنیا جہان کی ہر نعمت، ہر لذت، ہر طرح کا سکون اور ہمہ قسم آزادی ہونے کے باوجود آدمؑ کا دل جنت میں نہیں لگا۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ انسانی فطرت کے عین مطابق یکسانیت اور اکتاہٹ کا شکار ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ خالقِ کائنات ہے اور دلوں کے حال خوب جانتا ہے تو اس نے آدم ؑ کی پسلی سے ایک مخلوق کو پیدا کیا، جو کہ شکل و شباہت میں آدمؑ سے مشابہ تھی مگر اس کی جسمانی ساخت ان سے مختلف تھی۔ یہ سراپا مردانگی اور جاہ و جلال اور وہ سراپا نزاکت اور حسنِ مجسم۔ یہ مخلوق کوئی اور نہیں بلکہ ایک عورت تھی جسے ہم سب اماں حوّؑا کے نام سے جانتے ہیں۔

اماں حوؑا اور آدمؑ کتنا عرصہ بہشت میں رہے؟ صرف اللہ کو ہی علم ہے، بعد ازاں ایک خاص واقعے کے بعد انہیں زمین پر اتار دیا گیا۔زمین کا اگر جنت سے موازنہ کیا جائے کوئی نسبت ہی نہیں۔ وہ دارالجزاء ہے، یہ دارالعمل ہے، وہاں نہ روٹی، پانی کی فکر، نہ کپڑے لتّے کی پریشانی، وہاں نہ آج کی پریشانی نہ کل کا غم، بس سکون ہی سکون۔ جب آدمؑ اور اماں حوّا اس عیش و عشرت کو چھوڑ کر دنیا کی سختی میں آن بسےتویہ بلاشبہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ایک کڑی آزمائش تھی۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک دوسرے کا ساتھ بخش رکھا تھا تو انہوں نے ہر مشکل، ہر پریشانی اور ہر چیلنج کامل کر نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ ہنسی خوشی ایک دوسرے کی معیت میں نسلِ انسانی کی بنیاد بھی رکھی۔ یہ ساتھ، یہ معیت، یہ الفتِ باہمی یہ سنگت ابتدائے آفرینش سے لیکر اب تک نسلِ انسانی کی نہ صرف بقاء کا باعث ہے بلکہ بنی نوعِ انسانی کے لیے مسلسل باعثِ رحمت ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایک بحث بہت شدّومد کے ساتھ جاری ہے، خواتین فرما رہی ہیں کہ اپنا کھانا خود گرم کرو، اپنی روٹی خود ڈالواور مرد حضرات کا کہنا ہے کہ اپنے پنکچر خود لگا لو، اپنے مکان خود بنا لو وغیرہ وغیرہ۔مجھے آپ سب خواتین و حضرات صرف ایک سوال کا جواب دے دیں کہ ایک مرد ہے، بہت ذہین ہے، لاکھوں کما رہا ہے، بے حد محنتی ہے، دنیا جہاں کی فہم و فراست کا مالک ہے، لیکن وہ تنہا ایک فلیٹ میں زندگی گزار رہا ہے تو کیا اس فلیٹ کو دنیا جہان کی ہر آسائش اور سہولت ہونے کے باوجود ہم ''گھر'' کہہ سکتے ہیں؟ اسی طرح ایک خاتون ہیں، انہی اوصاف سے متصف ہیں، مکمل خود مختار ہیں، معاشی طور پر کسی کی محتاج نہیں، کیا ایک مرد کی معیّت کے بغیر کیا وہ تنہا ایک ''گھر'' کی تشکیل کر سکتی ہے؟ کیا ایک عورت کسی مرد کے ساتھ کے بغیر ماں کے عظیم الشان منصب پر فائز ہو سکتی ہے یا ایک مرد عورت کے بغیر باپ بننے کے دنیا کے سب سے عظیم اور حسین احساس سے روشناس ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں… یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ زندگی ایک آئیڈیل صورت اسی وقت اختیار کرتی ہے جب ایک مرد اور ایک عورت مل کر زندگی کی گاڑی چلاتے ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ ''سنگل'' بھی زندگی گزارتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ صورت بہر حال ایک آئیڈیل صورت نہیں ہوتی۔

جب ایک طے شدہ امر ہے کہ عورت اور مرد نے مل کر ہی گھر بنانا ہےاور ایک نئے کنبے کی بنیاد رکھنی ہے تو سادہ سی بات ہے کہ دولوگ جب اکٹھے وقت گزارتے ہیں، تو چاہے وہ مل کر کوئی ادارہ چلائیں یا گھر، دونوں صورتوں میں ان کے درمیان division of labour کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ اس فطری تقسیمِ کار میں کچھ کام عورت کے ذمے لگ گئے اور کچھ مرد کے۔ اب یہ کس نے کہا کہ روٹی پکانا ایک کم تر یا ارزل کام ہے جسے سر انجام دینے سے عورت کا وقار اور مقام گر جاتا ہے؟ یا پیسہ کمانا ایک عظیم فعل ہے جو سر انجام دینے سے مرد کی عظمت میں اضافہ ہوتا ہے؟

دراصل گھر چلانےکے لیے جتنا ضروری مرد کی کمائی ہے اتنا ہی ضروری گھر بنانے کے لیے ایک عورت کی موجودگی اور سلیقہ ضروری ہے۔ ہاں عورت بوقتِ ضرورت گھر کی آمدن میں اضافہ کے لیے، اپنے شوق کی خاطر یا اپنے کسی بھی شعبے میں حاصل کیے گئے علم کو کام میں لانے کے لیے گھر سے باہر بھی نکل سکتی ہے، اسی طرح مرد کو بھی فکرِ معاش کے ساتھ ساتھ گھر میں خاتونِ خانہ کے لیے ہر ممکن حد تک مددگار اور معاون بن کے رہنا چاہیے کہ زندگی کی گاڑی تبھی درست ڈگر پر چل سکتی ہے۔ ہمارا دین تو ہے ہی دینِ فطرت، یہ جہاں عورت کو شرعی حدود و قیود کے ساتھ دنیا کا ہر فن اور ہر علم سیکھنے کی اور کاروبار اور ملازمت کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہےوہیں مرد کو خاتونِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی نہ صرف بے تحاشہ تاکید کرتا ہے بلکہ نبئ اکرم ؐ کی حیاتِ طیّبہ کی صورت ایک مکمل قابلِ تقلید نمونہ پیش کرتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّمہ ہے کہ گھر کو بہر حال ایک عورت ہی سنبھال سکتی ہے۔

اے آدمؑ کے بیٹو! اور اے حوّا ؑ کی بیٹیو! تم لوگ بقول کسے ایک دوسرے کا duplicate نہیں بلکہ ایک دوسرے کا Compliment ہو۔ تو خدارا یہ فضول کی بحث چھوڑو اور اپنے اپنے داِئرہء اختیار میں رہتے ہوئے اپنے اپنے فرائض اخلاصِ نیت سے ادا کرو اور اس دنیا کو ہی جنت نظیر بنانے کی کوشش کرو!

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */