فلسفہ معراجِ نبویﷺ اور دورِ حاضر کے تقاضے - عبدالمنان معاویہ

حضور نبی کریم ﷺ کے معراج شریف کا واقعہ نہایت مشہور ومعروف ہے، اُسے علمائے اسلام نے نہایت تفصیل سے تحریر فرمایا ہے، اور اکثر واقعہ تفسیر ِ قرآن کریم اور صحیح احادیث نبویہؐ میں موجود ہے، اس سارے واقعہ سے دورِ حاضر کے مسلمانوں کو کیا سبق ملتا ہے؟ اور اِس واقعہ کو مدنظر رکھ کر آئندہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ سوالات نہایت اہم ہیں اور اس مختصر تحریر میں ہم اس بات پر روشنی ڈالیں گے۔

ارشاد ربانی ہے:۔ سبحٰن الّذیٓ اسریٰ بعبدہٖ لیلًا مّن المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الّذی بٰرکنا حولہ لنریہ من اٰیٰتنا انّہ ھو السمیع البصیر (سورۃ بنی اسرائیل :۱)پاک ہے وہ ذات (یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات) جس نے اپنے بندہ کو، ایک رات میں(رات کے کچھ حصہ میں) مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کرایا، جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، تاکہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

حق تعالیٰ نے آغازِ کلام یہاں سے فرمایا کہ :سبحٰن الّذیٓ، یعنی پاک ہے، وہ ذات، اس ابتدائیہ سے حق تعالیٰ اُن لوگوں کے شکوک وشبہات دور فرمانے چاہتے ہیں، جو واقعہ معراج کو عقل کے ترازو میں دیکھ رہے تھے، یا اب تلک دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ واقعہ عقلی میزان پر پیش کرنا کا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ایمان بالغیب پر ہے، اور دوسری بات جو اہم ہے کہ اس ابتدائیہ کلام سے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ :سبحٰن الّذیٓ، پاک ہے وہ ذات، یعنی پیغمبر اسلام ﷺ خود تشریف نہیں لے گئے، بلکہ پاک ہے وہ ذات جس پیغمبر اسلام ﷺ کومسجد االحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی، اور وہاں سے آسمانوں، جنت ودوزخ کی سیر کرائی گئی، ملاقات باری تعالیٰ ہوئی، یہ سب قدرت الہٰیہ سے ہوا، اور اللہ وہی ہے جس نے جنت سے آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجا، اگر باری تعالیٰ جنت کی وادی سے ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام واُم البشر حضرت حوا سلام اللہ علیہا کو زمین پر بھیج سکتے ہیں، تو کیا زمین سے وہ اپنے محبوب نبی ﷺ کو آسمانوں پر نہیں بلا سکتے؟اور منکرین کا اعتراض نبی کریم ﷺ پر نہیں، بلکہ قدرت باری تعالیٰ پر ہے، اسی لیے آغازِ کلام سبحٰن الّذیٓ سے فرماکر معترضین کے اعتراضات کو اپنے محبوب ﷺ سے پھیر دیا۔

عربی زبان میں اسریٰ، رات کی سیر کو کہا جاتا ہے، بعض علمائے کرام اسریٰ سے مراد مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کی سیر اور مسجد اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کی سیر کو معراج سے تعبیر فرماتے ہیں، اور بعض علمائے کرام دونوں کو معراج کہہ دیتے ہیں اور عوام میں بھی یہی رائج ہے۔ کیونکہ معراج کا واقعہ رات کے وقت پیش آیا تھا، اس لیے اِسے اسریٰ سے تعبیر فرمایا اور آگے فرمایا بعبدہٖ، اپنے عبد ِ کامل کو، یعنی اس لفظ سے نبی کریم ﷺکے عبد ِ کامل ہونے کی تصریح فرمادی، تاکہ کل کلاں واقعہ معراج کو بنیاد بنا کر نبی کریم ﷺ کو خداکا شریک نہ بنا لیں، یا نبی کریم ﷺ کی جنسِ بشریت کی نفی نہ فرمادیں، اس لیے اولاً اپنی قدرت، بزرگی کا اعلان فرمایا، پھر رات کی سیر کا ذکر کرکے نبی کریم ﷺ کی عبدیت کاملہ کا تذکرہ فرمادیا، یہ اس لیے بھی تھا کہ لوگ اسے ایک دلچسپ واقعہ سمجھنے کے بجائے عقیدہ سمجھیں، اور لوگوں کو عقائد سمجھیں، ان ابتدائی مفہومِ قرآنیہ کے بعد واقعہ معراج ملاحظہ فرمائیں۔

بخاری ومسلم میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ مکہ مکرمہ میں اپنے گھر میں آرام فرما تھے، کہ مکان کی چھت کھلی اور جبریل علیہ السلام مع جماعت ِ ملائکہ کے تشریف لائے اور آپﷺ کو نیند سے بیدار کیا، انہوں آپﷺ کے صدرِ مبارک کو چاک کیا اور اُسے آبِ زم زم سے دھویا، اس کے بعد سونے کا ایک طشت ایمان وحکمت سے بھر کر لائے اور اسے اس میں ڈال کر بند کردیا، اور ساتھ لے کر چل پڑے، آپ ﷺ کے لیے خاص سواری لائی گئی جس کا نام براق تھا، آپﷺ براق پر سوار ہوئے اور سب سے پہلے مدینہ طیبہ (اُس وقت کا یثرب )دو رکعت نماز پڑھی، وادی سینا شجر ۂ موسیٰ کے قریب دو رکعت نماز ادافرمائی، پھر مدین میں دورکعت نماز پڑھی، پھر بیت اللحم میں پیدائش عیسیٰ علیہ السلام کے قریب دو رکعت نماز ادا فرمائی، وہاں سے روانہ ہوئے تو ایک بوڑھی نے آپ کو آواز دی، جبریل علیہ السلام نے اُس کی جانب التفات سے منع فرمایا، پھر آگے ایک بوڑھے نے آواز دی، تو بھی جبریل علیہ السلام نے ان کی جانب متوجہ ہونے سے منع فرمایا، بوڑھی عورت، دنیا تھی جس کی عمرختم ہونے کو ہے، اور بوڑھا شخص شیطان تھا۔

پھر مسجد اقصیٰ میں پہنچے وہاں ارواح انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والتسلیمات موجود تھیں، انہوں نے آپﷺ کو سلام کیا، اس کے بعد اذان ہوئی، اقامت کہی گئی تو آپﷺ نے امامت کرائی، بعض روایات میں آتا ہے کہ انبیائے کرام ؑ کے علاوہ سماوی فرشتے نے بھی آپﷺ کی امامت میں نمازاد اکی، جب نماز ادا فرمالی گئی تو سماوی ملائکہ نے جبرئیل امین ؑ نے دریافت کیا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہیں، حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا یہ محمد رسول اللہ خاتم النبین ؐ ہیں، ملائکہ نے پوچھا کہ کیا ان کے پاس بلانے کا پیغام بھیجا گیا تھا، جبریل علیہ السلام نے فرمایا، ہاں، فرشتوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو زندہ وسلامت رکھے، بڑے اچھے بھائی اور بڑے اچھے خلیفہ ہیں۔ (تلخیص از سیرۃ المصطفیٰ ؐ، ج:۱) پھر جبریل علیہ السلام آپﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آسمان پر لے گئے، جب آپﷺ آسمان پر پہنچے تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ کھولو، اس نے کہا کہ کون؟ انہوں نے جواب دیا ’’جبریلؑ‘‘ اس نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میرے ساتھ محمد ْﷺہیں، اس نے سوال کیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، جب آپﷺ پہلے آسمان پر تشریف لے گئے تو ایک شخص کو دیکھا جس کے دائیں اور بائیں بہت سی پرچھائیں تھیں جب وہ دائیں دیکھتے تو مسکراتے، اور جب بائیں دیکھتے تو روتے، آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر انہوں نے ’’مرحبا یا نبی الصالح، مرحبا یا ابن الصالح‘‘کہا آنحضرت ﷺ نے جبریل ؑ سے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے بتایا یہ آدم علیہ السلام تھے، اسی طرح دیگر انبیاء کرام ؑ سے ملاقاتیں ہوتیں رہیں ہر نبی ورسول آپﷺ کا مرحبا یا اخی الصالح کہہ کر آپﷺ کا استقبال کرتا اورسیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آپ ﷺ کو ’’مرحبا یا نبی الصالح ‘‘کے ساتھ’’مرحبا یا ابن الصالح‘‘ بھی کہا۔ اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام آپﷺ کو لے کر اُس مقام پر پہنچے جہاں قلم قدرت کے چلنے کی آواز آرہی تھی، اس موقع پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپﷺ پر پچاس نمازیں فرض کی، اس عطیہ ٔ ربانی کو لے کر آپ ﷺ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی امت پر کیا فرض کیا، آپ ﷺ نے بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ آپﷺ دوبارہ بارگاہ ایزدی میں حاضری دی اور کم کرائیں آپؐ کی امت اس کی متحمل نہیں ہوسکے گی، آپﷺ دربارِ خداوندی میں حاضر ہوئے تو ایک حصہ کم کردیا گیا، دوبارہ موسیٰ علیہ السلام نے مشورہ دیا آپﷺ پھر دوبارہ تشریف لے گئے اس طرح اپنی امت کی خاطر سرورِ کائنات ﷺ نے کئی چکر لگائے آخر حق تعالیٰ نے کم کرتے کرتے پانچ نمازیں فرض قرار دے دی، ان پانچ نمازوں پر ثواب اب بھی پچاس نمازوں کا ہی ملے گا۔ روایات میں آتا ہے کہ آپﷺ کو تین عطائے ربانی ملے، سورۃ البقرہ کی آخری آیات، جن میں ایمان وعقائد کی تکمیل وتشریح مذکور ہے، اور دورِ مصائب کے خاتمہ کی بشارات ہے، حق جل مجدہ نے خاص مژدہ سنایا کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو کوئی شرک نہ کرے گا، اُس کی مغفرت کردی جائے گی، اور تیسرا عطیہ نمازوں کا جس کا ذکر اوپر آچکاہے، اس کے بعد سدرۃ المنتہیٰ (انتہاء کی بیری کا درخت )کی سیر کرائی گئی، اس درخت پر شان ربانی کا پَر تو تھا، جس سے اُس درخت کی ہیت تبدیل ہوگئی اور پھر اُس میں حسن کی وہ کیفیت پیدا ہوئی جس کو کوئی زبان لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی، اُس میں انوارِ وتجلیات کے ایسے رنگ ظاہر ہوئے جوزبان وبیان سے باہر ہیں، اسی مقام پر حضرت جبریل علیہ السلام کو آپ ﷺ نے ان کی اصلی شکل میں دیکھا، سیرۃ النبیؐ از شبلی نعمانی میں لکھا ہے کہ :’’ پھر شاہدمستورِ ازل نے چہرہ سے پردہ اٹھایا اور خلوت گاہ راز میں ناز ونیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے، جن کی لطافت ونزاکت الفاظ کے بوجھ کی متحمل نہیں ہوسکتی، فاوحیٰ الیٰ عبدہٖ مااوحیٰ‘‘۔ (سیرۃ النبیؐ :۳؍۲۲۷)پھر جنت اور دوزخ کی سیر کرائی گئی، پھر آپﷺ کی واپسی ہوئی، بعض روایات میں آتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کو نمازِ کی امامت واپسی پر کرائی، حافظ ابن کثیر ؒ اور کئی دیگر علمائے کرام کا رجحان اسی طرف ہے، لیکن اکثر یت کے نزدیک جاتے ہوئے امامت کے فرائض انجام دئیے گئے۔ واللہ اعلم

یہاں تک صحیح روایات کی روشنی میں ہم نے واقعہ معراج بیان کردیا ہے، اب آتے ہیں کہ دورِ حاضر میں جب مسلمان چہار عالم میں ذلت کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، ہر سو خون مسلم پانی کی طرح بہایا جارہا ہے، اہل یورپ جانوروں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں، لیکن مسلمانوں کے خون کی اُن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، برما، کشمیر، فلسطین، لیبیا، عراق، شام، اور افغانستان کا حالیہ واقعہ، پاکستان میں خود کش حملے، قتل وگری، یمن کی حالت زار، کس سے ڈھکی چھپی ہے، اب سعودی عرب کے زوال کے دن بھی شروع ہوچکے ہیں، اہل عرب مندر بنا کر خوشی کا اظہار کررہے ہیں، اور ہندوستان میں مودی سرکار مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے، چہارعالم نظر دوڑا کر مسلمانوں کی موجودہ حالت ِ زار دیکھ کر ہم اس پر غوروفکر کرتے ہیں کہ واقعہ معراج سے ہمیں سبق کیا ملتا ہے؟

علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی ؐ سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

نبی کریم ﷺ نے اپنے معراج کے سفر کو ’’عرج‘‘سے بیان فرمایا، عرج کا معنی ہے اوپر چڑھنا، بلند ی کی طرف جانا، سیڑھی چڑھنا۔ واقعہ معراج امت مسلمہ کو یہ سبق دیتا ہے، کہ جس طرح نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معراج کرائی، اُن کی نبوت وہبی، اُن کا سفر معراج بھی وہبی، لیکن ہم کسب کے مکلف ہیں، تو ہمیں عروج بھی کسبی ملے گا اور اُس کے لیے ہمیں خود محنت کرنا ہوگی، اُس کے لیے سب سے اہم شئے جو ہے وہ یہ ہے کہ ہم دین اسلام کے احکامات کی پابندی کرتے ہوئے جدید علوم سیکھیں اور اُن میں اپنا مقام بنائیں، اپنی صلاحیتوں کو تعمیری کاموں میں صَرف کریں، اور اس کے لیے وسیع ذرائع کے موجود ہونے کا انتظار مت کریں، بلکہ محدود وسائل کو استعمال میں لاکر تھوڑا کام کریں اور اسی کام کو نئے طرز سے، کم وسائل میں ہونے والے کام میں جدت کے طریقے اپنے ذہن سے اختراع کریں، اس وقت پوری امت مسلمہ کی نظر ملک پاکستان پر جمی ہوئی ہے، اور یہ وقت ہے کہ پاکستان کے نوجوان اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لاکر دنیا میں اپنا سکہ منوائیں اور اسلامی دنیا کی رہنمائی کریں، اللہ تعالیٰ ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات اور پیغمبر اسلام ﷺ کے فرمودات پر عمل کرنے اور خلفائے راشدین ؓ کے طرز حیات کواپنانے کی توفیق نصیب کرے۔ آمین