قصور کس کا ہے - حبیب الرحمٰن

ایک زمانے میں ملکہ ترنم نور جہاں کا دعویٰ تھا کہ قصور اُن کا ہے اسی لیے وہ بہت لہک لہک کر گا یا کرتی تھیں

میرا سوہنا شہر قصور نی

زمانہ بدلہ تو نور جہاں کا دعویٰ تو محض دعویٰ ہی رہ گیا اورسیاست دانوں کا قبضہ غالب آتا چلا گیا۔ کبھی یہ قصور پی پی پی کا قرار دیا گیا۔ کبھی مسلم لیگ ن نے کہا کہ سارا کا سارا قصور اُن کا ہے۔

پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان یہ چپقلش کافی عرصہ چلتی رہی، کبھی قصور پی پی پی کا ہوا تو کبھی قصوروالے لیگی ثابت ہوئے اور اس طرح کافی برس گزر جانے کے باوجود بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ آخر قصور ہے کس کا؟

پھر ایک موقع ایسا بھی آیا کہ قصور پر ویز مشرف کا نکل آیا، انہوں نے مسلم لیگ میں ن کے بعد ق کا جوڑ ایسا لگایا کہ سارا قصور اُن کا ہوگیا اور اس میں سارے کا سارا قصور قصوری صاحب کا تھا، جنہوں نے سارا قصور پرویز مشرف کی جھولی میں ڈال دیا۔

عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ کوئی بھی اپنے منہ سے کبھی بھی یہ نہیں کہتا کہ قصور اس کا ہے، لیکن یہ ایسا قصور ہے کہ جس کا بھی ہوجاتا ہے وہ پوری دنیا میں گاتا بجاتا ہے کہ سارا قصور اس کا ہے۔

پی پی پی،ن لیگ اور پر ویز مشرف کی ق لیگ کے بعد اب عمران خان یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ قصور تو ان کا ہے، اور اس دعوے کے پس پردہ ایک بار پھر قصوری صاحب ہیں۔

چند ماہ پہلے قصور ٹیلی وژن کی زینت بنا ہوا تھا،تب بھی بہت کوشش کی گئی کہ قصور کے قصور واروں کی خبر کو دبا دیا جائے پھر بھی چینل اپنے اس قصور پر شرمندہ ہوکر قصور واروں کی خبر کو طشت از بام کر نے پر مجبور ہو ہو ہی گئے۔

قصور اس بلا کا تھا کہ اس کو جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جاتی رہی اور کی گئی، اتنی ہی شدت کے ساتھ یہ غلاظت ہر ہر مسام سے نہ صرف رس رس کے باہر آتی رہی بلکہ اب تو ناسور کے پھوڑے کی طرح ہر جانب سے بہہ نکل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’چونیاں ،قصور بچوں کا کیا قصور ! ذمہ دار کون ؟‘‘نسیم الحق زاہدی

اتنے سب کچھ کا اگر سواں حصہ بھی کراچی کی کسی سیاسی شخصیت، اور کراچی کی دھرتی سے وابستہ ہوتا تو اب تک پوری دنیا میں ایک طوفان برپا ہو چکا ہوتا، اب کیونکہ اس کا تعلق مقدس سرزمین پنجاب سے تھا تو یہ ضروری ہوگیا تھا کسی نہ کسی طرح اس معاملے کو کسی سرد خانے میں منتقل کر دیا جائے لیکن یہ جو اللہ کا قانون ہے اس میں کسی معاملے میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر کبھی بھی نہیں ہو سکتی۔

اس وقت لاکھ کوشش کی گئی کہ سارے کے سارے بد امنی اور لاقانونیت کے شعلے سندھ تک ہی محدود رکھے جائیں اور اس خوبی کے ساتھ کہ اس کی آنچ تک پنجاب کی بااثر شخصیات کے چہروں تک نہ پہنچے لیکن جو دوسروں کی عزتوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور ان کی پگڑیاں اچھالنے میں کوئی تردد نہیں کرتے اللہ ان کو سرعام رسوا اور بدنام کر دیتا ہے۔

خدا کی پناہ، 300 بچے بچیوں کو اغوا کرنا، ان کے ساتھ بد فعلی بھی کرنا، ان کو بد فعلی پر اکسانا، ان کی تصاویر اتارنا، موویز تیار کرنا، پھر ان کے والدین کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے یہ کہہ کر وصول کرنا کہ ہم ان ساری تصاویر اور موویز کو تلف کردیں گے، اس کے باوجود وہ ساری تصاویر اور موویز غیر ممالک میں بھاری معاوضوں کے بدلے فروخت کر کے مزید غلاظت بھری آمدنی کا اضافہ کرنا اور پھر ”عذرِ گناہ بد تر از گناہ“ کی مصداق، اس سارے معاملے کودو گروہوں کے درمیان زمین پر قبضے پر لڑائی جھگڑا قرار دے کر دبانے کی اس لیے کوشش کرنا کہ اس میں موجودہ حکومت کے کئی بااثر لوگ، ایم پی اے اور ایم این اے شامل ہیں، کتنی غلیظ اور بدبو دار حرکت ہے، اس پر یہ طرہ یہ کہ پنجاب میں کسی بھی قسم کی کوئی بد امنی اور لاقانونیت نہیں، یہ حرکت قابل مذمت حرکت ہی نہیں لائق دار و رسن بھی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ گھناونا کارو بار کئی برس سے جاری ہے اور اس کے روک تھام کےلیے تاحال کوئی موثرقدم نہیں اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں - رابعہ انعم

پہلے تو اس پر کمزور سا کیس زمین کے قبضے کی کشاکش کے حوالے سے بنا نے کی کوشش کی لیکن جب 400 سے زیادہ ویڈیوز منظر عام پر لائی گئیں تو اب کوئی بھی یہ کہنے اور ماننے کے لیے تیار نہیں کہ قصور کس کا ہے۔

پھر ایک کے بعد ایک اسکینڈل۔ نہ بچیاں نہ بچے، نہ بڑیاں اور نہ بڑے سب کے سب برے کام کے بعد اوپر تلے مارے جاتے رہے اور لوگ ہونٹ سی کر بیٹھے رہے لیکن اللہ کی قدرت ایسے ہی لمحے جوش میں آتی ہے۔ پھنس گئے زینب کے کیس میں۔ انسان مار کر لوگ بچ جاتے ہیں لیکن چیونٹی مارنے پر مار دیے جاتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک مخلوق مخلوق میں کب امتیاز پایاتا ہے۔ زینب تو پھر ایک حسین کلی تھی لیکن ظالم نے نہ صرف مسل ڈالا بلکہ اس کی زندگی بھی ختم کر ڈالی۔

وہ قصور جس پر کبھی پی پی پی کا دعویٰ تھا، کبھی ن لیگ مان کرتی تھی، کبھی پرویز مشرف کی ق لیگ اترایا کر تی تھی اور جس پر آج کل پی ٹی آئی چھائی ہوئی ہے، اس پر اب سب کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں اور کوئی اس قصور کا مالک بننے کے لیے تیار نہیں۔

قصور اب خواہ کسی کا بھی ہو، اگر اس بدبودارگھناؤنے کارو بار میں ملوث قصور وار افراد کو عبرت ناک سزائیں نہیں دی جا سکیں تو یہ سارے کا سارا آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد صفر اور بے اثر ہو کر رہ جائے گا اس لیے کہ اس غلاظت بھرے کاروبار کی نہایت سڑی ہوئی بد بو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ زینب کے قاتل کا انجام اپنی جگہ لیکن 300 سے زائد بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اگر ان درندوں کو نہیں پکڑاگیا تو یہ ایک ایسا قصور ہوگا کہ کہ قیامت تک ہر اس فرد اور ادارے پر اللہ کی لعنت برستی رہے گی جس کے ہاتھ بھیڑیوں کے گریبانوں تک پہنچ سکتے تھے لیکن انہوں نے اس سے چشم پوشی اختیار کی۔