خوشبو اور اس کے فوائد - بنت عبدالخالق

تین چیزیں انبیاء کرام علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت ہیں۔
خوشبو
مسواک
اور
نکاح

خوشبو لگانا سنت عمل ہے، اور طہارت و پاکیزگی کا حصہ ہے.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
"حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو رد نہ فرماتے تھے. (ترمذی شریف)''

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کا ہدیہ بخوشی قبول فرماتے تھے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ریحان کی خوشبو کو بہت پسند فرماتے اور رد کرنے سے منع فرماتے تھے... (شمائل ترمذی)
ریحان کی خوشبو پرانے ملیریا کا کامیاب اور آزمودہ علاج ہے.

زادالمعاد میں ہے کہ مشک اور عود کی خوشبو کو تمام خوشبوؤں میں زیادہ محبوب رکھتے.
عود اور مشک کی خوشبو اعصاب میں تحریک یعنی چستی پیدا کرتی ہے. ان خوشبوؤں کو لگانے والا ہمیشہ چست رہتا ہے.

خوشبو کو ابتدا سے ہی پسند کیا جاتا ہے. بادشاہوں کے محلات میں خوشبودار لکڑی کی دھونی دی جاتی تھی۔
اسی طرح اگر کوئی بیمار ہوتا تو خوشبودار لکڑی کی دھونی دی جاتی، یہ اس بات کی علامت ہے کہ "خوشبو کے اثر سے مریض جلد صحت یاب ہوجاتا ہے."

جرمنی کے ڈاکٹر ایلف نے اس طریق علاج کو متعارف کروایا اور عام کیا تو ہزاروں لوگ صحت یاب ہوئے. ہم دیکھتے ہیں کہ اب سائنس سنت کو جدید سائنس کی روشنی میں متعارف کروا رہی ہے. حالانکہ ہمیں بتا دیا گیا کہ خوشبو انبیاء کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے. نجانے ہم کیوں بھول گئے.

میرے پیارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام خاص طور پر خوشبو کو جمعہ کے دن لگانے کی خاص ہدایت فرمائی۔ جمعہ المبارک کے دن دوسرے دنوں کی بہ نسبت تعداد زیادہ ہوتی ہے. خوشبو کی بدولت صحت میں چستی اور خوشگواری کا عنصر پیدا ہوتا ہے.

اس کے برعکس بدبو سے پرے اثرات مرتب ہوتے ہیں. انسان کی طبیعت میں بے چینی اور نفرت پیدا ہوتی ہے. بعض حساس لوگوں میں قے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے.

جبکہ خواتین کو خوشبو لگانے سے منع کیا گیا. البتہ وہ خوشبودار پاؤڈر استعمال کر سکتی ہیں. خواتینِ اسلام کو نہ صرف خوشبو استعمال کرنے سے منع کیا گیا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ اگر وہ خوشبو لگا کر، نامحرم کے پاس سے گزریں گی (مطلب کہ نامحرم خوشبو سونگھ لے) تو وہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کر بیٹھیں، غسل واجب ہو گیا. غسل کے بغیر کوئی عبادت قابلِ قبول نہیں.

اس کے علاوہ خوشبو اہلِ ایمان میں سے آتی ہے. ان کے عمل اور کامل ایمان میں سے خوشبو آتی ہے جو کہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو ان کی طرف رہنمائی کے لیے کھینچ لاتی ہے.

خوشبو اہلِ تقوی کے اعمال و کردار سے آتی ہے.
پھولوں کی خوشبو قدرت کے کارخانہ کی گواہی دیتی ہے. پرندوں تک کو اپنے پاس کھینچ لاتی ہے.
تقریباًہر چیز میں خوشبو پائی جاتی ہے۔
قدرت نے مٹی کے اندر بھی بہت پیاری خوشبو سموئی ہے. بارش کے بعد ، مٹی سے پھیبی پھیبی خوشبو اٹھتی ہے، جو فضا کے ساتھ ساتھ، انسان کے دل و دماغ کو معطر کر دیتی ہے.
اور انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ
"اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */